Baseerat Online News Portal

امارت شرعیہ کے امیر کے عدم اطاعت کے موقف پر قائم :تنظیم ائمہ مساجد بہار

 

مورخہ 14 اکتوبر (پریس ریلیز) تنظیم تحریک ائمہ مساجد بہار کے ذمہ داروں کی ایک اہم خصوصی مٹنگ گذشتہ دنوں جامع مسجد دریا پور میں زیر صدارت جناب مولانا عالمگیر مظاہری صدر تنظیم منعقد ہوئی، جس میں کئی اہم امور پر غور و خوض ہوا، خاص طور سے امارت شرعیہ کے انتخاب امیر کے سلسلے میں یہ بات طے کہ تنظیم کا پہلے سے موقف بہت واضح ہے کہ دستور سے عاری امیر کی اطاعت نہیں کی جائے گی، اس معاملے سے متعلق پہلے کئی مٹنگیں ہو چکی ہیں 29 جون کو جامع مسجد فقیر باڑہ پٹنہ، 19 جولائی کو بلا ل مسجد سمن پورہ اور 2 اگست کو جامع مسجد کربیگہیہ پٹنہ میں ان تینوں مٹنگ میں یہ منظور ہوا کہ غیر دستوری اور غیر شرعی امیر کو تسلیم نہیں کیا جائیگا، اور اگر ایسا ہوا تو عدم اطاعت اور عدم تعاون کا معاملہ ہوگا، اور یہ موقف بدستور باقی ہے،

4 اگست کو بذریعہ اخبار جن خدشات کا اظہار کیا تھا کہ 170 غیر دستوری اراکین ارباب حل و عقد کی رکنیت منسوخ کی جائے چونکہ انکو غلط طریقہ پر بنایا گیا ہے اور 9 اکتوبر کے انتخاب میں وہی ہوا، 851 اراکین میں صرف ساڑھے پانچ سو شریک ہوئے، اور اس میں جناب انجینئر فیصل رحمانی کو 347 اگر 170 جعلی ووٹ کو الگ کر دیا جائے تو صرف 177 آ ءے ،جبکہ مولانا انیس الرحمن قاسمی کو اصلی ووٹ 197 آ ءے، اس طرح 20 ووٹ سے انکو سبقت حاصل ہوئی،

بہت سے اراکین ووٹنگ سے ناراض ہو کر واک آؤٹ (احتجاجاً) بغیر ووٹ دیے چلے گئے، چونکہ یہ ایک جمہوری طریقہ ہے یہ برا نہیں مگر اس طریقے سے جیتنے والے کی مدت ہوتی ہے تا حیات نہیں چونکہ تاحیات میں انسان لاپرواہ ہو جاتا ہے کہ میں کچھ کروں یا نہیں یہ کرسی تو پوری زندگی میرے ہی پاس رہے گی، اس لیے اس کی مدت پانچ سال ہونی چاہیے تاکہ عوام کو پانچ سال میں پرکھنے کا موقع ملے، اور مدت طے ہو نے پر اس درمیان کارکردگی دکھانی ہوتی ہے، اور جواب دہی کا خوف بھی، اندازہ لگائیں اگر سیاسی لوگوں کو پانچ سال میں عوام کے پاس جانا نہیں ہو تا تو کتنی ادھم مچاتے دینی ادارے میں جمود کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے،

یہ غیر دستوری اس اعتبار سے ہے کہ دستور میں مذکور اوصاف امیر نہیں پایا جاتا اور ملک کے مؤقر علماء کرام جیسے مفتی عبیداللہ اسعدی یوپی ،مفتی نذر توحید مظاہری قاضی شریعت چترا جھارکھنڈ، اور مولانا اختر امام عادل قاسمی نے تحریری طور پر واضح کیا ہے کہ عالم دین کسے کہتے ہیں اور یہ صفت ان میں نہیں ہے،

غیر شرعی اس طور پر کہ خود امارت شرعیہ کے صدر مفتی سہیل احمد قاسمی نے اس کو غیر شرعی کہا ہے اور اس کی اطاعت کو لازم نہیں کہا ہے، ان فتویٰ کو دیکھا جاسکتا ہے، اور جو حربہ اپنایا گیا ہے اس کی تفصیلات ہیں یہ سب غیر شرعی ہے،

واضح ہو کہ تنظیم کی کئی مٹنگ کے علاوہ امارت شرعیہ کے شوریٰ کی مٹنگ 26 ستمبر، اور 29 ستمبر کو یہ تجویز پاس ہوئ کہ 170 کو اس انتخاب میں شریک نہیں کیا جا ئیگا، نائب امیرِ شریعت نے 30 جولائی کے ہندی اخبار میں اعلان کیا کہ 8 اگست کا انتخاب اور اس سے متعلق تمام چیزیں منسوخ کر دی گئی ہیں اور قائم مقام ناظم نے بھی کئی مرتبہ اس کا اقرار کیا کہ اس کو شامل نہیں کیا جا ئیگا مگر اچانک انتخاب سے صرف دو دن قبل ایک خفیہ ڈیل کے تحت 170 جعلی ووٹر کو دعوت دے دیا گیا اور لوگوں کو دھوکے میں رکھا پھر اسی جعلی ووٹ کے سہارے منصب امارت پر قبضہ کر لیا گیا جو افسوسناک ہے.اس لیے تنظیم اسے درست نہیں مانتی ہے،

اس مٹنگ میں شرکت والے ائمہ کرام ہیں :جناب مولانا محمد عتیق اللہ قاسمی سر پر ست تنظیم، امام جامع مسجد فقیر باڑہ پٹنہ، مولانا محمد عالمگیر مظاہری صدر تنظیم، امام گھیرا مسجد عظیم آباد کالونی، مولانا معین الدین قاسمی نائب صدر تنظیم، امام جامع مسجد کربیگہیہ پٹنہ، مولانا محمد غلام اکبر قاسمی سیکرٹری تنظیم امام مراد پور مسجد پٹنہ ،مولانا محمد عالم قاسمی کنوینر تنظیم ،امام جامع مسجد دریا پور سبزی باغ پٹنہ ،مولانا افضل حسین قاسمی خازن تنظیم امام بڑی حویلی مسجد داناپور، مولانا اعجاز کریم قاسمی امام حضرت بلال مسجد سمن پورہ ،مولانا ابرار کریم قاسمی امام بکسریہ ٹولہ مسجد سلطان گنج ،مولانا نقیب عالم قاسمی امام شگونہ مسجد داناپور ،مولانا اقبال سعادتی امام کربلا مسجد پھلواری شریف، مفتی ابواللیث مظاہری پٹنہ سیٹی ،قابل ذکر ہیں

You might also like