Baseerat Online News Portal

جنگلات ایکٹ میں ترمیم پر ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کا رد عمل

 

نئی دہلی،14 اکتوبر(پریس ریلیز)

ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے قومی صدر ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے ماحولیات، جنگلات اور آب ہوا کی تبدیلی کے  مرکزی وزیر شری بھو پیندر یادو کو ایک خط لکھ کر ان کے اس  مشاورتی پیپر پر جو انہوں نے حکومت کی ویب سائٹ پر ڈال کر جنگلات ایکٹ Forest (Conservation) Act, 1980) )میں ترمیم سے متعلق مشورہ طلب کیا ہے، مشورے اور تجاویز دی ہیں۔

ڈاکٹر الیاس نے اپنے خط میں کہا یہ مشاورتی پیپر معاملہ سے متعلق لوگوں کے  تحفظ  اور حقوق سے بحث نہیں کر تا یعنی قبائلی افراد اور وہ تمام لوگ جن کی معیشت و زندگی جنگلات کے گرد گھومتی ہے، حالانکہ قانون میں ترمیم ان افراد کی زندگیوں کو براہ راست متاثرکر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ شمولیاتی جمہوریت کو  مضبوط بنانے اور تمام افراد کومشاروت کا جز بنانے کا  بنیادی تقاضہ تو یہ تھا کہ اس پیپر کو تمام علاقائی زبانوں میں شائع کیاجاتا اور ان کی شرکت کو یقینی بنایا جاتا تاکہ قانون کی وہ ترمیم جو براہ راست ان کی زندگیوں سے متعلق ہے اس پر  ان کا مشورہ بھی حکومت کے سامنے آجاتا۔

پارٹی کے قومی صدر کے مطابق حکومت کی تجویز میں جنگلات کے تحفظ کے مقابلے انحراف زیادہ ہے۔ اسی طرح جنگل کی زمینوں کو سرمایہ داروں اور کارپوریٹس کو  بآسانی دستیاب کرانے پر زور ہے، جو نجی کاری اور مونوٹائزیشن(Monotisation) کی راہ کو آسان کرے  گا۔

اسی طرح اس ترمیم نے ملک کی وفاقی ڈھانچہ کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے ،جس سے ریاستوں کے اختیارات سکڑ جائیں گے اور ریاستی حکومتوں کا جنگلات کی زمینوں کو نوٹیفائی کر نے کا اختیار بھی محدود ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ جنگلات کی زمینوں سے متعلق کسی بھی پروجیکٹ کے لیے یہ ضروری قرار دیا جائے کہ پہلے اس کا جائزہ  ماحولیاتی جائزہ کمیٹی لے جو اس بات کو یقینی بنائے کہ اکو لوجیکل مضبوطی حاصل ہو  نیز جنگات کا  ماحولیاتی تحفظ  ہو  نیز  بناتات،  حیوانات اور جنگلات سے فائدہ اٹھانے والے عام لوگوں کا حق متاثر نہ ہو۔

ڈاکٹر الیاس نے تجویز دی کہ پارلیمنٹ میں بحث سے پہلے اس بل کو سلیکٹ کمیٹی کے حوالہ کیا جائے تاکہ وہ ہر پہلو کا جائزہ لینے کے بعد اسے پارلیمنٹ کے حوا لہ کرے۔

You might also like