Baseerat Online News Portal

مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کا انتخاب امارت شرعیہ کے استحکام کا باعث ہوگا: محمد امداداللّٰہ قاسمی

 

مدہو بنی ١٧ اکتوبر / بی این ایس

مسلمان ایک امت اور ایک جماعت ہے، مسلمان پابند ہیں اس کے کہ وہ ہمیشہ ایک اور نیک بن کر زندگی گزاریں، وطنِ عزیز بھارت میں جب تک مسلم حکمراں تھے؛ یہ اجتماعیت کسی درجے میں مسلم حکمرانوں کے ذریعہ قائم تھی، ۱۸۵۷ء میں مغلیہ حکومت کے ختم ہونے کے بعد مسلمانوں کا اقتدار اور مسلمانوں کی اجتماعیت ختم ہوگئی ،علماء کرام پھر سے مسلمانوں کو مجتمع کرنے کی طرف متوجہ ہوئے،چنانچہ ۱۳۳۹ھ مطابق ۱۹۲۱ء میں مولانا ابوالمحاسن محمد سجادؒ کی تحریک، قطب عالم حضرت مولانا محمد علی مونگیریؒ اورحضرت مولانا سیدشاہ بدرالدین قادری کی حمایت سے مولانا ابوالکلام آزادؒ کی صدارت میں امارت شرعیہ بہار قائم کی گئی، جس کے بنیادی مقاصد میں: سنت و شریعت کے مطابق زندگی گذارنا، کلمہ واحدہ کی بنیاد پر تمام مسلمانوں کو مضبوطی کے ساتھ ملائے رکھنا، جہاں تک ہو سکے قوانینِ خداوندی کے مطابق عدل و انصاف کا قیام، عام انسانوں کی خدمت، مختلف مذاہب اورفرقوں کے مابین اسلامی تعلیمات کے مطابق بہترین تعلقات بنانا؛ شامل ہیں۔

امارت شرعیہ کا پورا نظام ایک امیرشریعت کے ماتحت چلتاہے، سمع وطاعت اس کی بنیاد واساس ہے، قرآن واحادیث میں بھی امیر کی اطاعت کا حکم دیاگیاہے، الحمدللہ قیام کے وقت سے آج تک ایسے امیر ہوئے جنہوں نے خلوص و للّٰہیت، اپنی آہِ سحر گاہی، سوز دروں اور مسلسل جد و جہد سے امارت شرعیہ کو روز افزوں ترقی کی راہ پر گامزن رکھا۔

حضرت مولانا سید شاہ بدرالدین قادریؒ،حضرت مولانا سید شاہ محی الدین قادریؒ،حضرت مولانا سید شاہ قمرالدینؒ ،حضر ت مولانا سیدشاہ منت اللہ رحمانیؒ، حضرت مولاناعبدالرحمنؒ حضرت مولانا سید نظام الدینؒ اور مفکر اسلام حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانیؒ وہ امراء شریعت ہیں جن کی قیادت میں امارت شرعیہ کو خوب ترقی حاصل ہوئی، ساتویں امیر شریعت مفکراسلام حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی ؒ کی امارت میں یہ کارواں کامیاب مستقبل کی طرف رواں دواں تھا، مضبوط بنیادوں پر کام کا دائرہ بڑھ رہا تھا کہ۳؍ اپریل ۲۰۲۱ء کو حضرت کا وصال پر ملال ہو گیا اور نئے امیر شریعت کے انتخاب کا مرحلہ آیا، امیر شریعت کا انتخاب مجلس اربابِ حل و عقد کرتی ہے، کرونا کی بیماری کی وجہ سے تھوڑی تاخیر سے ہی سہی مگر نا مساعد حالات کے باوجود اپنی بصارت و بصیرت، خداداد فہم و فراست سے نائب امیر شریعت حضرت مولانا محمد شمشاد رحمانی مد ظلہ کی صدارت میں اراکین مجلس اربابِ حل و عقد کی اکثریت سے اب امارت شرعیہ کے لیے جس نئے امیر شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم کا انتخاب عمل میں آیا ہے یقیناً یہ امارت کے روشن مستقبل اور روز افزوں استحکام و ترقی کی ضمانت ہے، آپ اس عظیم خاندان کے عظیم فرزند ہیں جس کا سلسلہ سلطان المشائخ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ سے ہوتا ہوا حضورﷺ تک پہونچتا ہے۔ جس خانوادے کی پوری تاریخ جہد مسلسل سے عبارت ہے۔

ان کی شخصیت ”قدیم صالح و جدید نافع” کے امتزاج کا حسین سنگم ہے۔ یہ امتزاج سابق امرائے شریعت کے بنائے خطوط اور بتائے راستوں پر گامزن رہتے ہوئے ان کے چھوڑے ہوئے کاموں کو آگے بڑھانے میں مفید ثابت ہوگا اور آپ کا عہدِ امارت ملک و ملت کی فلاح و ترقی کا ایک کامیاب اور روشن دور ہوگا ان شاء اللہ۔

مذکورہ خیالات کا اظہار دارالقضاء امارت شرعیہ مدرسہ فلاح المسلمین گواپوکھر بھوارہ مدھوبنی کے قاضی شریعت مفتی محمد امداداللّٰہ قاسمی نے اپنے ایک اخباری بیان میں کیا۔

قابلِ ذکر ہے کہ مورخہ 17 اکتوبر بروز اتوار 2021 ع کو مدرسہ فلاح المسلمین گواپوکھر بھوارہ مدہوبنی میں جنرل سکریٹری جمعیت علماء مدھوبنی مولانا محمد نوراللہ قاسمی کی دعوت پر جمعیت العلماء مدھو بنی کی مجلس منتظمہ کی اہم نشست منعقد ہوئی جس کی صدارت مفتی محمد ابوذر صاحب قاسمی صدر جمعیت علماء مدھوبنی نے کی،

جس میں متفقہ طور پر یہ تجویز بھی پاس ہوئی کہ ”ارباب حل و عقد امارت شرعیہ نے بحیثیت امیر جن کا انتخاب کرلیا ہے دارالقضاء مدرسہ فلاح المسلمین گواپوکھر بھوارہ مدہوبنی اور جمعیت العلما مدھو بنی اطمینان کا اظہار کر تی ہے اور امارت شرعیہ کے استحکام اور مضبوطی کیلئے دعاء کرتی ہے“۔ اس نشست میں امیر شریعت ثامن کو مبارکباد پیش کیا گیا اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا گیا۔

You might also like