Baseerat Online News Portal

ایک عہد جسے دنیا بھول نہیں سکتی 

 

بقلم : حمزہ اجمل جونپوری

07 اکتوبر 1817ء کو دہلی کے ایک متوسط خاندان میں ایک ایسا بچہ پیدا ہوتا ہے جسکا گھرانا علمی و خانقاہی سے منور تھا علماء اور اولیاء سے بہت محبت و عقیدت رکھتا تھا کہا جاتا ہے کہ اس مرد جری کا خاندان افغانستان کے شہر پرات سے بھارت آیا تھا آپ کے گھرانے کا تعلق مغلیہ سلطنت سے بہت زیادہ تھا شاہ غلام مجددی نقشبندی نے آپ کا نام احمد رکھا ابتدائی تعلیم گھرانے کے طرز پر خالص مذہبی اور دینی تھی یہ گھرانا سلسلہ نقشبندیہ اور شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کے گھرانے سے عمدہ تعلقات تھے اس بچے کی پرورش بھی اسی خوشگوار ماحول میں ہوئی آپ نے ناظرہ قرآن اپنے نانا جان فرید احمد خان سے پڑھا عمر رفتہ کے ساتھ آپ عربی و فارسی پر دسترس حاصل کی اسکے علاوہ آپ نے حساب و طب اور تاریخ پر بھی کثرت سے مطالعہ کیا.

ابتدائی تعلیم کے بعد آپ نے اپنے خالو جان سے عدالتی کام سیکھا 1937ء میں آپ نے آگرہ میں کمشنر کا دفتر بطور نائب منشی کے سنبھالا کوشش اور محنت و ایمانداری سے آپ نے اپنی عزت میں اضافہ کیا اور دہلی کے صدر امین ہو گئے قیام دہلی کے دوران آپ نے اپنی سب سے مشہور کتاب آثار الصنادید 1847ء تصنیف فرمائی .

1857ء میں آپ کو بجنور تبادلہ کر دیا گیا بجنور قیام کے دوران آپ نے حالات بجنور پر ایک کتاب لکھی جسکا نام سرکشی ضلع بجنور رکھا آپ نے بہت سے انگریز مردوں و عورتوں کی جان بچائی جسکے عوض آپ کو ایک جہانگیر عطا کی گئی جسکو آپ نے ٹھکرا دیا 1864ء میں آپ کے ہاتھوں غازی پور میں سائنسی سوسائٹی کا قیام عمل میں آیا اسکے بعد آپ نے لندن کا سفر کیا اور اٹھارہ ماہ قیام کے بعد آپ انڈیا تشریف لائے لندن سفر میں آپ نے ہندوستان کے مستقبل کا نقشہ تیار کیا اور آپ نے ہندی نوجوانوں کے لئے ایک عظیم خواب دیکھا.

اس وقت ہندوستانی مسلمانوں کے حالات بری طرح خراب ہو گئے تھے جانی و مالی نقصان کے ساتھی علمی نقصان بھی بہت زیادہ ہوا دینی تعلیم کی بقا کے لئے مولانا قاسم نانوتوی صاحب رحمہ اللہ نے دارالعلوم کو قائم کر دیا تھا لیکن کہیں نا کہیں دور جدید کی کمیاں محسوس ہوئی وہ نقشہ جو آپ نے لندن کے سفر میں کھینچا تھا اسکی تکمیل کے لئے آپ نے جد و جہد کی اور مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لئے عصری تعلیم کا خاکہ دنیا پر عیاں کر دیا اور یہ تأثر پیش کیا کہ مسلمان عصری تقاضوں کے ذریعہ کامیاب ہو سکتا ہے جسکی وجہ سے آپ نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی بنیاد 1875 میں رکھ دی اور یہی اس عظیم الشان مقصد کی پہلی بنیاد ہے.

انہوں نے ملک کو ایک عظیم رخ سے دیا علمی میدان میں انگریزوں سے مقابلہ کرنے والے ایک سے ایک جری و بے باک لیڈروں سے نوازا ہندوستان کو آج بھی اس شخص پر ناز ہے ہند ہی نہیں بلکہ پوری دنیا آپ پر فخر کرتی ہے

آپ ایک عظیم لیڈر کے ساتھ قائد اور رہنما بھی تھے جس نے ہندوستان کے ساتھ پوری دنیا کو جدید تعلیم سے آراستہ کیا اور مسلمانوں میں عصری تقاضوں کا ایک جوش و ولولہ اجاگر کیا جو وہاں کے جیالوں میں آج بھی نظر آتا ہے.

آپ کی تصانیف میں تفسیر قرآن آثار الصنادید اور خطبات احمدیہ سر فہرست ہیں اسکے علاوہ اپ نے اپنے قلم کے جوہر کو بھی طرح طرح کی تصانیف سے آراستہ کیا.

یہ روشن ستارہ دنیا کو ترقی و کامرانی کا راستہ دکھا کر بالآخر 1898ء میں برطانوی سامراج میں 80 سال کی عمر میں ہمیشہ کے لئے سو گیا لیکن اسکے ستارے آج بھی زمانے میں گردش کر رہے. اور علی گڑھ کے حدود میں آپ کو دفن کر دیا گیا.

یہ عظیم رہنما جس کو آپ پڑھ رہے تھے اسکا مکمل نام سر سید احمد خان تھا جس کے ذکر کے بغیر ہندوستان کی تاریخ نامکمل نظر آتی ہے

 

 

You might also like