Baseerat Online News Portal

ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی کنٹرول کامسئلہ،گذشتہ دودہائی میں ہندوؤں کے مقابلے مسلمانوں کی آبادی گھٹی ہے

نئی دہلی(ایجنسی)
ہندوستان ایک ایساملک ہے جہاں مسلمانوں کی آبادی کاتناسب سرکاری اعدادوشمارکی روشنی میں 15فیصدسے بھی کم ہے،لیکن اس کے باوجودملک کے اکثریتی طبقہ کے ایسے لیڈران جوہمیشہ ہندومسلم منافرت کی بات کرتے ہیں وہ ہمیشہ ہی مسلم آبادی کوکنٹرول کرنے کاقانون بنانے کی مانگ حکومت سے کرتے رہتے ہیں۔ابھی گذشتہ دنوں آرایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے بھی اپنی ایک تقریرمیں مسلمانوں کی آبادی کوکنٹرول کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیاکہ وہ ملک میں یکساں آبادی کنٹرول قانون بنائے۔لیکن جب ہم گذشتہ دودہائیوں کے اعدادوشمارپرروشنی ڈالتے ہیں تواس سے صاف پتہ چلتاہے کہ 1991 سے 2011 کے درمیا ن ملک کی سب سے بڑی اکثریت ہندوؤں کے مقابلے مسلمانوں کی آبادی کم ہوئی ہے۔
ہندوستان میں1991 سے 2001اور 2001سے 2011کے بیچ ہندوؤں کے مقابلے مسلمانوں کی آبادی تیزی سے بڑھی ہے،لیکن ان دودہائیوں میں ہندوؤں کے مقابلے مسلمانوں کی شرح نموزیادہ تیزی سے کم ہوئی ہے۔
ٹائمزآف انڈیاکی رپورٹ کے مطابق ملک کی تمام قابل ذکرمذہبی برادریوں میں ان دونوں دہائیوں کے درمیان آبادی کی شرح نمومیں سب سے کم گراوٹ ہندوؤں کی ہوئی ہےجب کہ جین اوربودھ جیسی چھوٹی برادریوں کی آبادی تیزی سے گھٹی ہے۔
سال 1991 کی مردم شماری میں جموں وکشمیرکوشامل نہیں کیاگیاتھا۔جموں وکشمیرکوچھوڑکر1991سے 2001کے بیچ ملک کی کل آبادی 1991کے مقابلے 2001میں 21.5 فیصدبڑھی ہے،لیکن 2001سے 2011کے بیچ یہ 17.7فیصدی گھٹی ہے۔
ہندوآبادی کی شرح نمومیں گراوٹ 3.1فیصدپوائنٹس کے ساتھ 19.9 فیصدی سے گھٹ کر16.8 فیصدی رہی۔یہ واحدبڑی برادری ہے جس کی آبادی میں گراوٹ قومی اوسط سے کم رہی ہے۔
مسلم آبادی کی شرح نمو7.4فیصدپوائنٹس سے گرکر29.3فیصدی سے گھٹ کر24.6 فیصدی رہی۔جب کہ عیسائی ،سکھ ،بودھ اورجین آبادی میں سب سے زیادہ گراوٹ دیکھی گئی۔
معاشی طبقہ اورتعلیم بالخصوص ماں کی تعلیم کامعیارتولیدی صلاحیت اورآبادی میں اضافے کاسب سے بڑاعامل ہے اورمذہب سب سے کمتر۔

You might also like