Baseerat Online News Portal

مہاراشٹرکے وزیراقلیتی فلاح نواب ملک نے نئی تصاویر کے ذریعہ این سی بی کی جانچ پر پھر اٹھائے سوال

 

ممبئی(ایجنسی)

بالی ووڈ کنگ خان شاہ رخ خان کے بیٹے آرین خان کو ایک کروز پر مبینہ ریو پارٹی میں گرفتار کئے جانے کے معاملے میں نارکوٹسک کنٹرول بیورو کی شفافیت پر ایک بار پھر این سی پی لیڈراورمہاراشٹرکے وزیراقلیتی فلاح نواب ملک نے سوال اٹھائے ہیں۔ اس بار انہوں نے کچھ مزید تصاویر شیئر کی ہیں اور دعویٰ کیا ہے کہ آرین خان ڈرگس معاملے میں اہم جانچ افسر سمیر وانکھیڑے نے جتنے بھی گواہ بنائے ہیں، وہ سبھی ان کے جانکاروں میں سے ہیں۔

نارکوٹکس کنٹرول بیورو پر الزام لگاتے ہوئے وزیراقلیتی فلاح نواب ملک نے کہا کہ آج جو تصویر میں شیئر کر رہا ہوں، اس میں دکھائی دے رہا شخص بھی سمیر وانکھیڑے کا جانکار ہے۔ انہوں نے تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’اس تصویر میں نظر آرہا شخص فلیچر پٹیل ہے اور اس کی تصویر این سی بی افسر سمیر وانکھیڑے کی بہن جیسمین وانکھیڑے کے ساتھ موجود ہے۔ نواب ملک نے دعویٰ کیا ہے کہ سمیر وانکھیڑے اور فلیچر پٹیل ایک دوسرے کو کافی اچھی طرح سے جانتے ہیں۔ وزیراقلیتی فلاح نے پوچھا کہ ’سوال یہ ہے کہ این سی بی افسر اپنے کسی جاننے والے کو گواہ کیسے بنا سکتے ہیں‘؟

وزیراقلیتی فلاح نواب ملک نے اس سے پہلے دعویٰ کیا ہے کہ اس معاملے میں این سی بی کے گواہ ٹھیک نہیں ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ آرین خان کی گرفتاری کے بعد جو تصاویر وائرل ہوئی تھی وہ کے پی گوساوی نام کے شخص نے لی تھی۔ آرین خان کے ساتھ حراست میں گوساوی کی سیلفی وائرل ہونے کے بعد جانچ ایجنسی نے پہلے کہا تھا کہ اس کا اس شخص سے کوئی تعلق نہیں ہے، جبکہ بعد میں اسے ہی گواہ بتایا گیا۔ نواب ملک نے بتایا کہ آرین خان کے دوست ارباز مرچنٹ کے ساتھ ایک ویڈیو میں ہاتھ پکڑے ہوئے دکھائی دے رہا شخص بی جے پی کا کارکن منیش بھانو شالی ہے۔ منیش کی فیس بک پروفائل پر وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور کئی سینئر بی جے پی لیڈروں کے ساتھ لی گئی تصاویر موجود ہیں۔

اس سے قبل این سی پی کے مقامی ڈائریکٹر سمیر وانکھیڑے پر تنقید کرتے ہوئے این سی پی ترجمان اور مہاراشٹر کے وزیر نواب ملک نے کہا تھا کہ ممبئی ساح پر ایک کروز شپ پر چھاپہ ماری کے بعد این سی بی کے مقامی ڈائریکٹر سمیر وانکھیڑے نے کہا تھا کہ 8 سے 10 لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے، لیکن سچائی یہ ہے کہ 11 لوگوں کو حراست میں لیا گیا تھا۔ بعدم یں تین لوگوں رشبھ سچدیوا، پرتیک گابا اور عامر فرنیچر والا کو رہا کیا گیا ہے۔

پنچ نامہ کیاہے؟

’پنچ‘ مجرمانہ جانچ کے دوران جائے حادثہ پر کی گئی جانچ یا اشیا کی ضبطی وغیرہ کے معاون ثبوت فراہم کرتا ہے۔ ’پنچ‘ پکڑے گ ئے ملزمین کے سامنے ہی اپنی گواہی دیتے ہیں، جنہیں ’پنچ‘ کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ ’پنچ‘ پولیس کو ملی چیزوں کی تصدیق کرتے ہیں اور پنچنامہ پر دستخط کرتے ہیں۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، پنچوں کو عام طور پر’آزاد‘ گواہ مانا جاتا ہے، لیکن کبھی کبھی چل رہے چھاپے کے دوران ایسے شخص کو تلاش کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اس لئے کچھ معاملوں میں ’پنچ‘ پولیس کے جانکار ہوتے ہیں۔ (حالانکہ ایسا ہونا نہیں چاہئے)۔

You might also like