Baseerat Online News Portal

دارالعلوم اشرفیہ دیوبند کے ناظم اعلیٰ مولانا عبد الماجد کا اچانک انتقال، علمی حلقوں کی فضا مغموم۔

 

 

دیوبند: قاسم پورہ روڑ پر واقع دیوبند کے مشہورو معروف تعلیمی ادارے دارالعلوم اشرفیہ کے ناظم اعلی مولانا عبد الماجد کا مختصر علالت کے باعث حرکت قلب بند ہونے کے سبب احمد آباد (گجرات) کے الامین ہسپتال میں انتقال ہوگیا ہے۔ ان کے انتقال کی خبر سے دینی، علمی، ملی اور سماجی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ آج صبح مولانا کے انتقال کی خبر جیسے ہی دیوبند اور ان کے آبائی وطن موضع مہیشوری بہٹ روڑ سہارنپور پہنچی تو ان کی رہائش گاہ پر علماء، متعلقین اور لوگوں کا تانتا لگ گیا اور مولانا کی اچانک انتقال پر انتہائی رنج و الم کا اظہار۔

 

دارالعلوم دیوبند کے قابل ترین فضلاء میں شامل مولانا عبدالماجد کی عُمر تقریباً45 سال تھی، وہ گزشتہ تقریبا پچیس سال سے درس و تدریس کی خدمات انجام دے رہے تھے، فی الوقت وہ دارالعلوم اشرفیہ دیوبند میں موقر استاذ کی حیثیت کے ساتھ ساتھ نظامت کا عہدہ بھی سنبھالے ہوئے تھے۔ مولانا عبدالماجد انتہائی نیک دل، ملنسار، خوش اخلاق اور نہایت دیانت دار شخصیت کے مالک تھے۔ان کے انتقال علمی حلقوں اور اہل خانہ و متعلقین کے لیے گہرے صدمے کا باعث ہے۔

 

پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ جو دیوبند سے آبائی گاؤں روانہ ہو گئے۔ دارالعلوم اشرفیہ کے مہتمم مولانا سالم اشرف قاسمی نےمولانا عبد الماجد کے انتقال کو ادارہ کے ساتھ ساتھ اپنا ذاتی نقصان قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ مولانا گزشتہ ہفتے بکار مدرسہ گجرات کے احمد آباد میں گئے تھے، جہاں گزشتہ روز ان کی طبیعت خراب ہوئی، لیکن علاج کے بعد افاقہ ہو گیا تھا، مگر سنیچر کی صبح نماز فجر ادا کرنے اور تلاوت کے بعد اچانک ہارٹ فیل ہو گیا، مقامی لوگوں کی مدد سے انہیں ہسپتال میں داخل کرایا گیا، لیکن اس وقت تک مولانا مالک حقیقی سے جا ملے تھے۔

 

انہوں نے بتایا کہ مولانا مرحوم کے جنازے کو ایمبولینس کے ذریعے احمدآباد سے ان کے گاؤں مہیشور لایا جا رہا ہے جہاں کل صبح( اتوار کے روز) ان کی جنازہ کی نماز ادا کرکے تدفین عمل میں آئے گی۔

You might also like