Baseerat Online News Portal

ایتھوپیامیں گرفتاریوں کے خلاف اقوام متحدہ نے جاری کی سخت وارننگ

آن لائن نیوزڈیسک
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا کہ ایتھوپیا حکومت کی جانب سے دو ہفتے قبل نافذ کی گئی ایمرجنسی کے بعد ملک بھر میں گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ گرفتار کیے جانے والے بیشتر افراد کا تعلق تیگرائی نسل سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک کم از کم ایک ہزار افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے اور یہ ایک "پریشان کن ” صورت حال ہے۔
حکومتی فورسزسے برسرپیکار تیگرائی پیپلز لبریشن فرنٹ (ٹی پی ایل ایف) کے جنگجووں نے کئی اہم شہروں پر قبضہ کرنے کے بعد دارالحکومت ادیس ابابا کی طرف کوچ کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد حکومت نے 2 نومبر کو ملک گیر ایمرجنسی نافذ کردی۔ اس کے بعد سے ہی گرفتاریوں میں تیزی آگئی ہے۔
ایمرجنسی فی الحال چھ ماہ کے لیے نافذ کی گئی ہے۔ اس دوران سکیورٹی فورسز اور حکومت کو خصوصی اختیارات حاصل ہوگئے ہیں۔ کسی بھی شخص کو شبہ کی بنیاد پر مقدمہ چلائے بغیر ایمرجنسی کی مدت تک جیل میں رکھا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ وارنٹ کے بغیر کسی بھی گھر کی تلاشی لی جاسکتی ہے۔
اقوام متحدہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اب تک کم از کم ایک ہزار افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے تاہم بعض رپورٹوں کے مطابق گرفتار شدگان کی تعداد اس سے "بہت زیادہ” ہے۔
پورے ایتھوپیا سے لوگوں کو گرفتار کیا جارہا ہے۔ ان میں دارالحکومت ادیس ابابا کے علاوہ ملک کے شمالی علاقے گوندر اور بحیر دار شامل ہیں۔
ایمرجنسی کے اعلان کے بعد سے اقوام متحدہ کے متعدد اسٹاف کو بھی گرفتار کیا جاچکا ہے۔
اقوام متحدہ کی ترجمان لز تھروسیل نے بتایاکہ اقوام متحدہ کے دس مقامی اہلکار اور کانٹریکٹ پر کام کرنے والے 34ڈرائیور اب بھی جیلوں میں ہیں۔
اقوام متحدہ نے اپنے بیان میں کہا کہ قیدخانوں کی حالت بہت خراب ہے اور وہاں گنجائش سے زیادہ افراد رکھے گئے ہیں۔ بہت سے لوگوں کو یہ بھی نہیں معلوم کہ انہیں کیوں گرفتار کیا گیا ہے۔
تھروسیل نے بتایا کہ قیدیوں کے ساتھ برے سلوک کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔
پولیس نے پہلے کہا تھا کہ نسلی بنیاد پر کسی کو گرفتار نہیں کیا جارہا ہے بلکہ اس کا مقصد ٹی پی ایل ایف کے حامیوں کو حراست میں لینا ہے۔
ایتھوپیا کی حکومتی فورسز اور تیگرائی کی حکمراں جماعت ٹی پی ایل ایف کی حامی فورسز کے درمیان ایک برس سے کچھ زیادہ عرصے سے تصادم جاری ہے۔ اس دوران تیگرائی خطہ قحط سے بھی دوچار ہے۔
منگل کے روز تیگرائی کے ہسپتالوں سے جاری اعدادو شمار کے مطابق ہسپتالوں میں بھوک کی وجہ سے پانچ برس سے کم عمر کے 186بچوں کی موت ہوچکی ہے۔
تیگرائی سے کوئی مواصلاتی رابطہ نہیں ہے جس کی وجہ سے اقوام متحدہ کی طرف سے امدادی سرگرمیاں بالخصوص ضروری ادویات اور طبی سازو سامان کی سپلائی رک گئی ہے۔
تیگرائی کی حکومت میں محکمہ صحت کے سربراہ ہاگوس گاڈیفے کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ہیلتھ ورکرز کو دور افتادہ علاقوں میں جانے کی اجازت نہیں ہے جہاں بھوک سے ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد "یقیناً دوگنی ہوگی۔”
ہاگوس کا کہنا تھا کہ انتہائی قلت تغذیہ کا شکار بچوں کی تعداد 29فیصد ہے جو کہ جنگ شروع ہونے سے قبل 9 فیصد تھی۔

You might also like