Baseerat Online News Portal

آئی ایف سی، ادبی فورم ریاض کے زیر اہتمام طرحی مشاعرہ کا انعقاد 

 

ریاض /بی این ایس

سعودی عرب،ریاض کی معروف تنظیم انڈین فرینڈس سرکل (آئی ایف سی) کے ادبی فورم کے زیر اہتمام 19 نومبر کو شام 7 بجے بوقت سعودی عربیہ اختر ناصح نصیب اور اعجاز احمد خان اعجاز کی یاد میں  زوم پر ایک شاندار طرحی مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا،جس کی صدارت مشہور و معروف استاد شاعر عابد ہاشمی نے کی ؛جبکہ نظامت کے فرائض منصور قاسمی نے انجام دیئے۔

 

بحیثیت مہمان خصوصی ہندوستان سے ڈاکٹر ایاز احمد جلوہ افروز رہے ۔

 

دو طرحیں دی گئی تھیں "چین سے جینے نہ دیگا اضطرابِ دل مجھے”۔  (شاعر:اختر ناصح نصیب)

"اسی لئے مرا پیغام عام ہو نہ سکا” ۔ (شاعر: اعجاز احمد اعجاز )جن پر شعراء نے بھرپور اور شاندار طبع آزمائی کی ۔

 

محفل کا آغاز ادبی فورم کی روایت کے مطابق قاری یوسف بن دانش کی خوبصورت تلاوتِ کلام پاک اور اس کے ترجمہ سے ہوا، عامر اعظمی نے اپنی مترنم آواز میں نعتیہ کلام پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔

ابتدائی کلمات کے ساتھ  صدر محفل اور مہمان خصوصی کا مختصر مگر جامع تعارف پیش کرنے کے بعد  ضیاء عرشی نے مائک ناظمِ مشاعرہ منصور قاسمی کے حوالے کیا تو آپ نے مشاعرہ کا باضابطہ شعری سفر کا آغاز کیا ۔

 

منصور قاسمی کی خوبصورت نظامت نے مشاعرہ کو کافی دلچسپ بنا دیا تھا۔ مہمانِ خصوصی ڈاکٹر ایاز احمد اور صدرِ محفل عابد ہاشمی نے شعراء کے کلام کی خوب تعریف کی۔ اخیر میں صدرِ محفل نے صدارتی کلمات کے بعد اپنا غیر طرحی کلام سنا کر سامعین سے خوب داد وصولی.

 

واضح رہے کہ اس مشاعرے میں ریاض ، دمام ، دبئی ہندوستان اور پاکستان کے شعراء اور ان ملکوں کے علاوہ دیگر کئی ممالک کے سامعین شریک رہے ۔

مشاعرہ مختلف مراحل طے کرتا ہوا تقریباً رات 10:00 بجے سعودی وقت کے مطابق اکرم علی اکرم کے کلمات تشکر کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔

 

قارئین کے لئے شعراء کے منتخب اشعار پیش ہیں۔

 

امتیاز احمد امتیاز صاحب

روز ہوتا ہو فساد و خوں خرابہ جس جگہ

اس جگہ جینا بھی لگتا ہے بہت مشکل مجھے

 

اسماعیل روشن صاحب

کل تلک ہمراہ تھے وہ اب کہاں پہلو نشیں

درد کے ساحل پہ رہنا ہوگیا مشکل مجھے

 

ضیاؔء عرشی صاحب

چین سے جینے نہ دیگا اضطرابِ دل مجھے

ورنہ فرقت میں بھی جی لینا نہ تھا مشکل مجھے

 

اسد اعظمی

آپ  کو  دیکھا  تو  میرا  دل  مجھے کہنے لگا

ائے اسد رک جا یہیں پر مل گئی منزل مجھے

 

یاور مظفر پوری صاحب

کامیابی کی طرف میں نے اٹھایا جب قدم

آگئی  دیوار  بن  کے  روکنے  مشکل مجھے

 

شیخ احمد ضیاء صاحب

میں بہت ہشیار ہوں سب لوگ کہتے ہیں یہی

وہ مگر دیتی ہے طعنہ،  مل گیا  غافل مجھے

 

دانش ممتاز صاحب

میں نے  بحر ظلمتوں  میں  وادیوں  میں  دی اذاں

وقت کے طوفاں سے ٹکرا کر ملا ساحل  مجھے

 

خورشید الحسن نیر صاحب

خاک میں ملکر ہوا گلزارِ دل حاصل مجھے

یار کر دے گا ولی کامل مجھے

 

منصور قاسمی صاحب

تو کسی کی ہو نہ پائی کس طرح ہوگی مری

زندگی ! مت کر تو اپنی بزم میں شامل مجھے

 

فیض الحسّان عارفی صاحب

دوستوں کی جب کرم فرمائیاں یاد آگئیں

آگیا میرے مقابل لے کے میرا دل مجھے

 

سعید اختر اعظمی صاحب

تمھارے ہجر نے بخشی ہے ایسی تنہاٸی

سواۓ یاد کوٸی اہتمام ہونہ سکا

 

عامر اعظمی صاحب

تجھ سے عامر بات کر نےمیں بہت ڈرتاہےاب

تیری باتیں کر نہ جائیں پھر کہیں گھائل مجھے

 

صابر احمد صابر مرزہ پوری

یوں تو دنیا روز کہتی ہے کبھی آ مل مجھے

روکتا ہے ٹوکتا ہے پر یہ میرا دل مجھے

 

رفیق آکولوی صاحب

دربدر  لے کر  گیا   ہے  یہ  دلِ  بسمل مجھے

آخرش مل ہی گئی ہے اب مری منزل مجھے

 

طاہر بلال صاحب

قتل کرنا پڑ گیا خود کو ہی اپنی ذات میں

یہ جہاں کہتا ہے تو کہتا رہے قاتل مجھے

 

ابو نبیل مسیح دکنی صاحب

مل گیا آئینہ جام جم کی مانند ہاتھ میں

جس نے خود سے کردیا بیگانہ و غافل مجھے

 

شوکت جمال صاحب

کتنے پاپڑ  بیلنے  مجھکو  پڑے  ہیں تب کہیں

آپ کی نظروں نے سمجھا پیار کے قابل مجھے

 

سرفراز بزمی صاحب

اب  یہ میرے  ذہن  کا  بدلاؤ  ہے  یا  بے بسی

جانے کیوں وہ سنگدل لگتا ہے دریا دل مجھے

 

جلال اکبر صاحب

دل و دماغ پہ چھایا ہے نشئہ توحید

میرا شعور کبھی نظرِ جام ہو نہ سکا

 

ڈاکٹر ایاز احمد

برف کی چٹان سا دریا میں تھا میں منجمد

اور موجیں کاٹتی تھیں سوچ کر ساحل مجھے

 

عابد ہاشمی صاحب

جب کچھ نہ رہے تو پرکھوں کی انمول نشانی بکتی ہے

دنیا کے عجائب خانوں کی ہر جنس پرانی بکتی ہے

You might also like