Baseerat Online News Portal

سپریم کورٹ نے تریپورہ حکومت سے پوچھا،تشددبھڑکانے والے بی جے پی رکن اسمبلی پرکیاکارروائی ہوئی؟

نئی دہلی(ایجنسی) تریپورہ میں انتخابی تشدد کے معاملہ پر سپریم کورٹ نے ریاستی حکومت سے پوچھا ہے کہ کیا بی جے پی کے رکن اسمبلی نے طالبانیوں کی طرز پر تشدد بھڑکانے کی تقریر کی تھی۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اگر واقعی ایم ایل اے نے ایسی تقریر کی تھی تو ان کے خلاف کیا کارروائی کی گئی؟
سپریم کورٹ نے تریپورہ حکومت سے پولنگ والے علاقے میں اضافی نیم فوجی دستوں کی تعیناتی پر بھی غور کرنے کا مشورہ دیا۔ سماعت کے دوران تریپورہ حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے مہیش جیٹھ ملانی نے کہا کہ ہمیں نہیں لگتا کہ وہ تشدد بھڑکانے والی تقریر تھی۔ ایم ایل اے کو پوچھ گچھ کے لیے بھی طلب کیا گیا ہے۔
وہیں، ٹی ایم سی کی جانب سے پیش ہونے والے جے دیپ گپتا نے کہا کہ حالات اتنے خراب ہیں کہ خوف کی وجہ سے سی پی ایم نے اپنی امیدواری واپس لے لی ہے۔ اگر ہم کھڑے نہ ہوئے تو وہاں حزب اختلاف باقی نہیں رہے گا۔
ٹی ایم سی کا الزام ہے کہ 18 اگست کو تریپورہ کے بی جے پی ایم ایل اے ارون چندر بھومک نے پارٹی کارکنان سے ’طالبانی انداز‘ میں ٹی ایم سی لیڈروں پر حملہ کرنے کی اپیل کی تھی۔ پارٹی نے اپنی توہین عدالت کی عرضی میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود تریپورہ میں انتخابات کے دوران حالات خراب ہو رہے ہیں، ایسے میں سپریم کورٹ کو تریپورہ کے افسران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرنی چاہیے۔
سماعت کے دوران ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی جانب سے سپریم کورٹ کو کچھ تصاویر پیش کی گئیں۔ ٹی ایم سی کی طرف سے پیش ہونے والے ایڈوکیٹ جے دیپ گپتا نے کہا کہ تریپورہ میں صورتحال بہت سنگین ہے۔ پولیس موجود ہے لیکن کچھ نہیں کر رہی، صحافی کو مارا پیٹا گیا۔ نعرے لگانے کی پاداش میں پارٹی رکن سیونی گھوش کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی۔ متاثرہ ہونے کے باجود انہیں اقدام قتل کے الزام کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹروں کو متاثر کیا جا رہا ہے کیونکہ ریاستی مشینری اور پولیس کام نہیں کر رہی۔
خیال رہے کہ تریپورہ میں 25 نومبر کو بدلیاتی انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ اس معاملے میں تریپورہ حکومت کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل مہیش جیٹھ ملانی نے کہا کہ یہ درخواستیں سیاسی طور پر محرک ہیں۔ ہائی کورٹ اس معاملے کو دیکھ رہا ہے، جس نے ستمبر میں نوٹس جاری کیا تھا۔ جیٹھ ملانی نے کہا کہ عرضی گزاروں کی طرف سے ہائی کورٹ میں معاملے کو ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا اور اب سپریم کورٹ سے فوری حکم جاری کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

You might also like