Baseerat Online News Portal

کسانوں کے ساتھ ہمدردی یا سیاسی پیترا بازی

 

محمد عظیم فیض آبادی دارالعلوم النصرہ دیوبند

’’بھیڑ اکٹھا ہونے سے قانون واپس نہیں ہوتے ،  یہ آندولن ماووادی سوچ سے متاثر لوگوں کے ہاتھوں میں چلا گیا ، آندولن کے پیچھے پاکستان اور چین کا ہاتھ ہے،  آندولن کاری ٹکڑےٹکڑے گینگ ہیں ، آندولنوں کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ہے ،  کائر ہیں خودکشی کرنے والے کسان ، آندولن جیوی  پر جیوی کی طرح ہوتےہیں ‘‘۔

یہ وہ بھونڈے جملے اور تبصرے ہیں جوکسانوں کی زندگیوں کو  تباہ کردینے والےکالے قانونوں کے خلاف ، احتجاج کرنے والے کسانوں پر بولے گئے ۔

زراعت کو فروغ دے کر ملک کی معیشت کو ترقی دینے والے، ملک کے ریڑھ کی ہڈی کہے جانے والے احتجاج کر رہے کسانوں کے خلاف اس طرح کے نازیبہ تبصرے وہ بھی کسان بل کی مخالفت میں احتجاج کرتے کسانوں کے لئےاتنے بڑے جمہوری ملک کے اس وقت کی سب سے بڑی پارٹی کے بڑے بڑے منتریوں اور نیتاؤں کے زبان سے وقتا فوقتا نکلنا باعث حیرت ہونے ساتھ ساتھ قانونی منصب اور ذمہ دارانہ عہدوں کی توہین بھی ہے، یہی نہیں بلکہ انھیں خالستانی دیش دروہی (ملک مخالف) تک کہا گیا۔

کسانوں کے خلاف  بھاجپائی سرکار کے ظلم وستم کی ایک طویل داستان ہے ان کے احتجاج کو ختم کرنے کے لئے کبھی لاٹھی ڈنڈے برسائے گئے  سخت سردی میں  ان پر پانی کی بوچھاریں ماری گئیں، آنسؤ گیس کے گولے چھوڑے گئے،  جی سی بی کے ذریعہ گہری کھائی کھودی گئی بیرکیڈ لگائے گئے، تار اور کیلیں راستوں میں گاڑ دیئے گئے ، دہلی  تک رسائی روکنے کے لئے راستوں میں کنٹینر کھڑے کئے گئے،  احتجاج کرنے والے کسانوں کے سرتوڑ دینے کے احکام تک جاری کئے گئے ان کے سر پھوڑ کر لہولہان تک کیاگیا، احتجاج کر رہے کسانوں کو دھمکیاں تک دی گئیں ، تیزرفتارگاڑی سے بے دردی کے ساتھ روندا گیا، منتریوں دیگر نیتاوں کو گاؤں گاؤں بھیج کر کسان بل کی اہمیت بتانے تک کی کوشش کی گئی، ملک کی جمہوریت اورگنگا جمنی تہذیب کو گھن کی طرح کھاجانے والے نام نہاد میڈیا چینلس کے ذریعہ مسلسل اس کے فوائد بیان کئے گئے ۔

کسانوں کو بہالانے پھسلانے،  سمجھانے سے بھی کام نہ چلنے پر طاقت کے استعمال سے بھی دریغ نہیں کیاگیا ہر حربہ سرکار نے آزمایا مگر کسان اپنے فیصلے پر اڑے رہےمختلف ادوار کی باتیں چلیں،  سپریم کورٹ کا سہارا لے کر ایک کمیٹی تک تشکیل دی گئی مگر

’’الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا‘‘

اب جب پانچ صوبوں کا الیکشن قریب ہے مہنگائی بے روزگاری، بھوکھمری، ملک کی تباہ ہوتی معیشت ،عورتوں کی عزت وحرمت کی پامالی ، لاقانونیت وانارکی ڈائن بن کر ستانے لگی۔

کسانوں کے احتجاج اور سات سو کسانوں کی قربانی اور کالے قانون مہگی بجلی اورڈیزل سے کسانوں کی سخت ناراضگی نے اڑیل اور ہٹلری حکومت کو حوش کے ناخن لینے پر مجبور کیا، طاقت کے نشے میں چور حکومت کو یہ احساس ہوگیا کہ اب محض دھرم کے نام پر سماج میں نفرت کا زہر گھول کر فسادات کی آگ پر توا گرم کرکے فتح کی روٹیاں نہیں سینکی جا  سکتی خاص کر جب 5/ نومبر کو مظفر نگر کی کسان ریلی نے نفرت کے سوداگروں کو منہ تور جواب دیتے ہوئے ہندو مسلم اتحاد کا سبق پڑھاتے ہوئے حکومت کو للکارکسانوں کے اسٹیج سے اللہ اکبر کی صدابلند کرتےہوئے ایک بار پھر اتحاد وآپسی بھائی چارے کا اعلان کیا جسے ختم کرکے الیکشن کو مذہبی دینے کی مسلسل کوشش کی جاتی رہی ، اور بی جے پی کو اپنا ہر حربہ ناکام ہوتا نظر آنے لگا اور شکست کے بادل منڈلانے لگےاور اب خود اپنے ہی سروے میں مودی یوگی حکومت کو اپنی چولیں کھسکتی ہوئی صاف نظر آنے لگی تو اب خلاف توقع مودی جی نے بالکل ڈامائی وفلمی انداز میں اچانک آکر صبح پہلی ہی میٹنگ میں کسان بل کی واپسی کا اعلان کرڈالا جیسے بل پاس  کرتے وقت نفع وضرر کی میزان پر تولے بغیر محض کارپوریٹ گھرانوں کو خوش کرنے کے لئے قانون بناڈلا ۔

اگر چہ یہ ابھی صرف اعلان ہے دونوں ایوانوں سے قانونی طور پر اسے رد نہیں کیا گیا ہے لیکن صرف رسمی اعلان پر کسان نہ احتجاج ختم کرنے والے ہیں اور نہ ہی اس خوش فہمی میں اپنی سرگرمیاں موقوف کرنے پر آمادہ  ہیں اور نہ ہی اس میں کچھ ترمیم کا ارادہ رکھتے ہیں کیوں کہ سات سالوں سے ان کے بھی کان طرح طرح کے جملوں سے آشنا ہوتے رہے ہیں اور ابھی کچھ پتہ نہیں کہ کب مودی جی کے اس اعلان سے یہ کہتے ہوئے پلہ جھاڑدیاجائے کہ وہ جملہ تھا۔    

  

You might also like