Baseerat Online News Portal

استنبول میں منعقدہونے والے انٹرپول کے سالانہ اجلاس میں صدرکاانتخاب متوقع

آن لائن نیوزڈیسک
ایک سو چورانوے ممالک کی نمائندگی کرنے والی انٹرنیشنل پولیس کے تین روزہ اجلاس میں تمام رکن ممالک کے پولیس سربراہان اور دیگر افسران شرکت کر رہے ہیں۔
ترک شہر استنبول میں منعقد کیے جانے والے اس اجلاس میں رکن ممالک کے نمائندے عالمی سلامتی کو درپیش خطرات پر تبادلہ خیال کریں گے اور مستقبل کی مشترکہ حکمت عملی کو مزید بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔
اس ادارے کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ رکن ممالک جرائم کی دنیا میں موجودہ رجحانات پر مذاکرات کریں گے تاکہ مجرمانہ نوعیت کی بین الاقوامی کارروائیوں کو روکنے میں مدد مل سکے۔
پروگرام کے مطابق جمعرات کے دن اس ادارے کے نئے سربراہ اور ایگزیکٹیو کمیٹی کے ممبران کا انتخاب کیا جائے گا۔ اس ادارے کے نئے صدر کا الیکشن اس لیے بھی عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے کیونکہ انٹرپول کے پہلے چینی صدر مینگ ہونگوائی اپنی چار سالہ مدت پوری نہیں کر سکے تھے۔
سن دو ہزار اٹھارہ میں چین پہنچنے کے بعد وہ اچانک غائب ہو گئے تھے۔ تاہم بعد میں معلوم ہوا تھا کہ انہیں رشوت اور دیگر جرائم کے الزامات کے تحت گرفتار کر لیا گیا تھا۔ تب انٹرپول نے اعلان کیا تھا کہ ہونگوائی نے صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
اس پیشرفت کے بعد انٹرپول کے نائب صدر کم جونگ یون کو اس ادارے کا نیا صدر چن لیا گیا تھا۔ جنوبی کوریا سے تعلق رکھنے والے جونگ یون کے عہدے کی مدت سن دو ہزار بیس میں ختم ہونا تھی لیکن کورونا وائرس کی عالمی وبا کی وجہ سے گزشتہ برس انٹرپول کی سالانہ میٹنگ نہیں ہو سکی تھی اور ان کے عہدے کی مدت میں ایک سال کی توسیع کر دی گئی تھی۔
چین اور متحدہ عرب امارات کی کوشش ہے کہ انٹرپول کے اعلیٰ عہدوں پر ان کے نمائندے منتخب کیے جائیں، جس کے لیے وہ مہم بھی چلا رہے ہیں۔
تاہم ناقدین کے مطابق اگر ان دونوں ممالک کے نمائندے انٹرپول کی قیادت میں آگے آ گئے تو وہ اس بین الاقوامی ادارے کے ذریعے مجرمان کو پکڑنے کے بجائے سیاسی منحرفین اور سیاسی وجوہات کی وجہ سے جلاوطنی اختیار کرنے والوں کو واپس اپنے اپنے ممالک لانے کی کوشش شروع کر دیں گے۔
انٹرپول کا البتہ کہنا ہے کہ اس اہم بین الاقوامی ادارے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ اس ادارے کا سیکرٹری جنرل روزمرہ کے معاملات کا انچارج ہوتا ہے تاہم انٹرپول کے صدر کے اختیارات بھی کم نہیں ہوتے۔

You might also like