Baseerat Online News Portal

خوشبوؤں کی شاعرہ: پروین شاکر

 

 

تحریر: طارق مسعود

 

کسے خبر تھی کہ چوبیس نومبر انیس سو باون عیسوی کو آنکھیں کھولنے والی اس لڑکی کے کارنامے دیکھ کر دیکھتی آنکھوں کی پتلیاں حیرت سے پھیلی کی پھیلی رہ جائیں گی ، نہ کوئی یہ جانتا تھا کہ آنے والے زمانے میں اس کی شاعری نہ صرف لوگوں کو مرعوب و متأثر کریگی بلکہ سحر میں جکڑ کر رکھ دیگی۔

پروین شاکر کو بارگاہِ ایزدی سے حیات کے صرف بیالیس سال اس سرائے فانی میں گزارنے کا اذن عطا ہوا تھا لیکن انسانی نظروں نے دیکھا کہ اتنی کم مدت میں پروین شاکر کے حصے میں وہ شہرت و مقبولیت آئی جسے پانے میں صدیاں بیت جاتی ہیں۔

پروین شاکر نے اپنے البیلے اسلوب اور اچھوتے انداز سے شاعری کرکے اردو ادب کی دنیا میں نہ صرف ایک خوبصورت اضافہ کیا بلکہ نسوانی جذبات و احساسات کی ترجمانی ، عورتوں کے مصائب و مشکلات اور معاشرے کے ظلم و ستم کو بے باک انداز میں بیان کرنے کا سلیقہ بھی سکھایا۔پروین شاکر نے نثری نظم کو بھی پروان چڑھایا اور غزل گوئی کا بھی منفرد اسلوب ایجاد کیا۔پروین کے یہاں ہر اس مسائل پر اشعار دیکھنے کو ملتے ہیں جن مسائل سے تقریباً تمام عورتیں ہی دوچار ہوتی ہیں۔ نئے اور انوکھے استعارات و کنایات پروین کی شاعری کو خوبصورتی کے بلند مقام پر لے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پروین شاکر کے پہلے مجموعہ کلام "خوشبو“ (1976ء) کو منظرِ عام پر آتے ہی ہاتھوں ہاتھ لے لیا گیا پھر یکے بعد دیگرے پروین کے دیگر مجموعے "صد برگ “ ، ” خود کلامی “ ، ” انکار “ ، ” ماہِ تمام “ وغیرہ بھی شائع ہوتے رہے اور ادو ادب کی دنیا میں پروین شاکر کا نام خوشبوؤں کی شاعرہ کے طور پر پہچانا جانے لگا۔

پروین شاکر شعر گوئی کے ساتھ ساتھ اپنی علمی لیاقتوں کے اعتبار سے بھی اپنی مثال آپ تھیں۔ پروین نے 1968ء میں کراچی سے ایف اے کا امتحان پاس کیا اور 1972ء میں کراچی یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں گریجویشن کیا ، 1990ء میں "ٹرینٹی کالج “ (امریکہ) سے تعلیم حاصل کی اور 1991ء میں ” ہارورڈ یونیورسٹی “ (امریکہ) سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری بھی حاصل کی۔ پروین شاکر نے کراچی کے اعلی علمی اداروں میں کچھ عرصوں تک تدریسی خدمات بھی انجام دیا اور بعد میں سرکاری ملازمت اختیار کرلی۔

پروین شاکر 1976ء میں ازدواجی زندگی سے منسلک ہوگئیں لیکن نسوانی جذبات کی ترجمان اور عورت و محبت پر شاعری کرنے والی اس خوبصورت شاعرہ کا ازدواجی رشتہ گھریلو مسائل اور شوہر سے تال میل نہ ہونے کے سبب کچھ عرصہ بعد ہی طلاق کی دہلیز پر دم توڑ گیا۔اور 1994ء کو ایک سڑک حادثے میں آنکھوں کو حیرت میں گرفتار کردینے والی اس شاعرہ کی آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند ہوگئیں۔

اوجِ کمال پر پہنچ کر شاعری کرنے والی اس شاعرہ کے اشعار رومانوی خیالات سے بھرپور ہوتے ہیں ، ان کی غزلوں میں عشق و محبت پر ، رات کی زلفوں پر ، ہجر و وصال پر ، محبوب کی بے رخی اور عدمِ توجہی پر اور موسمِ خزاں میں امیدِ بہار پر حسین ترین تعبیرات کے جلوے بکھرے پڑے ہیں۔

ذیل میں پروین شاکر کے تخیلاتی کرشمے دیکھیے۔

 

★ مدتوں بعد اس نے آج مجھ سے کوئی گلہ کیا

منصبِ دلبری پہ کیا مجھ کو بحال کردیا

 

★تو بدلتا ہے تو بے ساختہ میری آنکھیں

اپنے ہاتھوں کی لکیروں سے الجھ جاتی ہیں

 

★آمد پہ تیری عطر و چراغ و سبو نہ ہوں

اتنا بھی بود و باش کو سادہ نہیں کیا

 

★وہ مجھ کو چھوڑ کے جس آدمی کے پاس گیا

برابری کا بھی ہوتا تو صبر آ جاتا

 

★وہ کہیں بھی گیا لوٹا تو مرے پاس آیا

بس یہی بات ہے اچھی مرے ہرجائی کی

 

★بہت سے لوگ تھے مہمان میرے گھر لیکن

وہ جانتا تھا کہ ہے اہتمام کس کے لئے

 

★میری چادر تو چھنی تھی شام کی تنہائی میں

بے ردائی کو مری پھر دے گیا تشہیر کون

You might also like