Baseerat Online News Portal

” کسان تحریک………. مسلمانوں کے لیے لمحہ ء فکریہ” 

 

 

عارفہ مسعود عنبر

 

 

ہندوستان اور ہندوستانی عوام گزشتہ کچھ سالوں سے جس بحران کا شکار ہے اس میں سب سے زیادہ کرب ناک موجودہ حکومت کے وہ فیصلے ہیں جن کا اعلان وزیر عظم نریندر مودی نے رات کے آ ٹھ بجے عوام کے نام پیغام میں کیا ۔خواہ وہ نوٹ بندی کا اعلان ہو یا تالابندی کا جی ایس ٹی کا ہو یا جنتا کرفیو ۔ وزیراعظم نے کبھی نہیں سوچا کہ ان فیصلوں کے اس کے ملک کی عوام پر کیا اثرات ہوں گے ۔ سی اے اے ، این آر سی اور جانے کیا کیا……. خیر… جو بیت گیا اس کا رونا کیا ۔عوام ان سب باہر بھی نہیں آ سکی تھی کہ تین زرعی قوانین نافذ کر دیئے گئے جن کی مخالفت میں ملک بھر کے کسان سڑکوں پر اتر آئے ۔اور ان قوانین کی واپسی کے لیے تحریک شروع کر دی ،ملک بھر میں احتجاج ہونا شروع ہوگیا ،کسان دھرنےپر بیٹھے ،ریل روکو تحریک میں بھی ہزاروں کسانوں نے ریل کی پٹریوں پر بیٹھ کر اپنا احتجاج درج کرایا لیکن سرکار کے کان پر جوں تک نہ رینگی ۔ بلکہ انہیں دہشت گرد ، غدار ،خالصتانی ، اور جانےکیا کیا خوبصورت القابات سے نوازا گیا ۔سیکڑوں ماں کے لالوں نے اپنی جانوں کی قربانی پیش کر دی۔ چودہ ماہ سے جاری کسانوں کی تحریک آخر کار رنگ لاکر ہی رہی اور وہ وزیر اعظم جو اپنی جگہ سے ایک انچ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھے کئی میٹر نہیں بلکہ کئی کیلومیٹر پیچھے ہٹے اور زرعی قوانین رد کرنے کا اعلان کر دیا۔

اب اس کے پیچھے کیا وجہ ہے خدا جانے کوئ کہتا ہے اتر پردیش میں شکست کا خوف ہے،تو کسی کا کہنا ہے زرعی قوانین واپس لینے کا مطلب پنجاب میں اپنی ساکھ کی بحالی ہے ۔کسی کا ماننا ہے اس فیصلے سے مرکزی حکومت کی سکھوں کو اپنے پالے میں کرنے اور پنجاب میں سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش ہے۔لیکن ہم جیسی ادب کی پرستار کا سیاست سے کیا لینا دینا وجہ چاہے جو بھی ہو ہمیں اپنی گفتگو کے مقصد پر آنا چاہیے۔مرکزی حکومت نے گزشتہ سات برسوں کے دوران متعدد یک طرفہ فیصلے سنائے جس کی ملک بھر میں بڑے پیمانے پر مخالفت ہوئی اپوزیشن سیاسی پارٹیوں نے بھی خاصہ دم خم لگا کر زور آزمائی کی لیکن بادشاہ وقت اپنے فیصلے سے ٹس سے مس نہیں ہوئے ۔مگر کسانوں کی ہمت ،حوصلے ، اور مضبوط تحریک نے حکومت ہند کے زعم کو مسمار کر کے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ۔اس کی سب سے بڑی وجہ بذات خود مظاہرہ کرنے والے کسان ہیں۔جو پچھلے ایک برس سے اپنا گھر بار چھوڑے ہوے” سڑکوں پر خانہ بدوش” زندگی بسر کر رہے ۔حکومت سمجھ رہی تھی گزسشہ تحریکات کی طرح تھک ہار کر گھر واپس چلے جائیں گے ۔لیکن کسانوں کے مضبوط ارادوں اور یکجتی نے سرکار کو جھکنے پر مجبور کر دیا۔ خاکسار کہنا یہ چاہتی ہے کسان تحریک نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا یکجہتی مضبوط ارادے ہمت اور حوصلے کامیابی کے ضامن ہیں ۔پھر کیوں میری قوم کے جیالے ہمت ہار رہے ہیں؟ کیوں غیر کے تلوے چاٹنے پر مجبور ہیں ؟ کیوں انہیں اپنی ہمت اور طاقت کا احساس نہیں ہے ؟اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں اتحاد کی بڑی کمی ہے ،مسلم قائدین اپنے فرض کی ادائیگی میں کوتاہی برت رہے ہیں۔یہ کم علم تمام مسلم دانشوران ، رہنماؤں ، اور تنظیموں سے التماس کرتی ہے کہ مسلیم تنظیمیں اور رہنما کسانوں کی تحریک سے سبق لیں اور ایک پلیٹ فارم پر آکر مسلمانوں کے مسائل کے حل تلاش کریں ۔۔۔

You might also like