Baseerat Online News Portal

بابری مسجد کی طرح متھرا کی عیدگاہ کو فرقہ وارانہ فساد کی بنیاد بنانا، ناقابل برداشت۔ احمد بیگ ندوی  کاشی کی گیان واپی مسجد اورمتھرا کی شاہی عید گاہ کا جمہوری طریقے پر دفاع کر نے کے لیے آل انڈیا امامس کونسل پورے ملک کے عوام کو اپنے ساتھ لے کر آگے کھڑی رہے گی۔

پریس ریلیز

22، نومبر، 2021، شاہین باغ، اوکھلا، نئی دہلی۔

بابری مسجد کی طرح کاشی کی گیان واپی مسجد اورمتھرا کی شاہی عید گاہ کو فرقہ وارانہ فساد کی بنیاد بنانا، ناقابل برداشت ہے۔ سنگھ پریوار پھر سے ملک کو فرقہ وارانہ نفرت کی آگ میں جھونکنے کی تیاری میں ہے۔ ہندو مہاسبھا کے ملک دشمن عناصر کا یہ اعلان کہ ”6 دسمبر کو متھرا کی عیدگاہ میں مورتی رکھی جاۓگی“ ملک کے ہندو مسلم بھائی چارے کو ختم کرنے اور ملک میں خانہ جنگی کی آگ سلگانے کی خطرناک سازش ہے۔ کسی بھی صورت میں اس کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

آل انڈیا امامس کونسل کے قومی صدر مولانا احمد بیگ ندوی نے کہا کہ: ”بابری مسجد کی طرح متھرا کی عیدگاہ کو کسی بھی صورت میں فرقہ وارانہ فساد کا مدعی نہیں بننے دیا جائے گا۔ ہندو مہاسبھا کے جو لوگ اس کو یوپی الیکشن میں فائدہ حاصل کرنے کے لیے متھرا کی عیدگاہ کو مدعی بنانے کی سازش کر رہے ہیں، حکومت ایسے عناصر کے خلاف فوراً ایکشن لے۔اگر حکومت اس پر قبل از وقت ایکشن نہیں لیتی ہے تو آل انڈیا امامس کونسل پورے ملک کے عوام کو اپنے ساتھ میں لے کر جمہوری طریقے سے فسطائی عناصر کو روکنے کے لیے صف اول میں رہے گی“۔

قومی صدر نے کہا کہ: ”اس سنگین مسئلے کے تعلق سے مذہبی اور غیر مذہبی ہر قسم کے لوگوں کو اپنی خاموشی توڑنے ہوگی۔ بالخصوص تمام ہندؤوں، سناتنیوں اور دیگر مذاہب کے لوگوں کو اس سازش کے خلاف کھڑا ہوکر مضبوط لائحہء عمل طے کرنا ہوگا؛ تاکہ بابری مسجد کی طرح حالات پیدا نہ ہو سکیں۔ماضی میں جو مسلم کمیونٹی کے ساتھ دھوکہ بازی کی گئی آئندہ مسلم کمیونٹی اس کے لیے خاموش نہیں رہے گی؛ بلکہ پورے ملک کے عوام کو اپنے ساتھ لے کر جمہوری طریقے پر کاشی ،اور متھرا کی مسجدوں کا دفاع کر نے کے لیے ہر طرح کی قانونی کارروائی کرے گی“۔

قومی صدر مولانا احمد بیگ ندوی نے کہا کہ: ”متھرا کی شاہی عیدگاہ مسجد تھی، ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ ہندومہاسبھا کی سازش کو ہندستانی عوام کسی بھی صورت میں کامیاب نہیں ہونے دےیں گے۔ اس کے خلاف تمام سیاسی لیڈران، سماجی کارکنان اور مذہبی قائدین کو قبل از وقت آواز اُٹھانے کی ضرورت ہے“۔

سوشل میڈیا ڈسک:

آل انڈیا امامس کونسل

اوکھلا، نئی دہلی۔

You might also like