Baseerat Online News Portal

مسلمان اپنے اخلاق سے دنیا کو متاثر کر نے کی فکر کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔ مولانا شمیم سالک  آپسی اتحاد کے بغیر ہم سماج میں اصلاحی انقلاب کی امید نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔۔۔۔نسیم سالک قاسمی

 

 

جالے۔    اگر اس اخلاقی تنزلی کے دور میں مسلمان واقعی اپنے رب کی رضا اور دنیا میں عزت کا مقام چاہتے ہیں تو انہیں اسلام کے اصولوں کو اپنا کر اپنی زندگی کے اعمال وکردار کا محاسبہ کرنا ہوگا اور انہیں خود کو زندگی کے اس رخ پر ڈالنے کی کوشش کرنی ہوگی جسے اللہ قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے یہ باتیں بنگلور کی معروف علمی وسماجی شخصیت اور جمعیة علماء کرناٹک کے سکریٹری مولانا ڈاکٹر شمیم سالک مظاہری اور المعہدالشفیق للعلوم الاسلامیہ میسور روڈبنگلور کے مہتمم مولانا محمد نسیم سالک قاسمی نے اپنے بہار دورہ کے دوران مقامی بلاک کے دوگھرا میں سماجی اتحاد واتفاق کے موضوع پر میڈیا کے اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہیں ۔انہوں نے مسلمانوں کی موجودہ صورت حال پر کھل کر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آج دنیا کے نقشے پر مسلمانوں کو تکلیف دہ حالات کا سامنا صرف اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے اپنے رشتوں کو اپنے رب سے کمزور کر لیا ہے اور وہ ایسے اعمال وکردار کو اپنی فکر کا حصہ بنا نے پر آمادہ ہیں جن کا شریعت سے دور کا بھی رشتہ نہیں ہے حالانکہ اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ مسلمان آپسی اتحاد کے بغیر کسی خوشگوار نتیجے تک نہیں پہونچا جا سکتا۔ مولانا سالک نے کہا کہ کوئی بھی قوم اپنے وجود سے نہیں بلکہ اپنی تہذیب سے پہچانی جاتی ہے اس لئے مسلمانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ عملی طور پر دنیا کو اپنے اعمال وکردار سے متاثر کر نے کی کو شش کر ے انہوں نے کہا کہ دینی تعلیم سے دوری نے مسلم قوم کو اخلاقی بدحالی کا شکار بنا دیا ہے اور اگر آپ نظر اٹھا کر دیکھیں گے تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ مسلمانوں کی نئی نسل اپنی بد اعمالیوں کے سبب زندگی کے اس موڑ پر کھڑی ہے جس کی آخری منزل تباہی وبربادی تک پہنچتی ہے ا س لئے میں آپ سے کہونگا کہ آپ ایک ذمہ دار کی حیثیت سے اپنے معاشرے کی مجموعی حالات کا جائزہ لے کر موجودہ صورت حال کا اطمینان بخش حل نکالنے کی فکر کریں انہوں نے کہا کہ عبادات سے لے کر تجارت تک زندگی کے ہر مرحلے میں مسلم قوم غیر یقینی حالت کی شکار ہے کل تک جو قوم دوسروں کو زندگی کے اصول بتایا کرتی تھی اور جسے دیکھ کر لوگ اپنی منزل کا پتہ معلوم کیا کرتے تھے آج اس نے خود کو دوسروں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ عالمی سطح پر مسلمانوں کی حیثیت عرفی پامال ہوتی جارہی ہے مولانا نسیم سالک قاسمی نے اپنے پیغام میں کہا کہ سماج اس وقت نفرت وعداوت اور خانہ جنگی کے جس موڑ پرکھڑا ہے اس میں آپسی اتحاد واتفاق کو یقینی بنائے بغیر سماج میں اصلاحی انقلاب کی امید نہیں کی جاسکتی،انہوں نے کہا کہ قرآن اللہ کی وہ عظیم کتاب ہے جس نے انسانی زندگی میں انقلاب پیدا کیا تھا اور تاریخ بتاتی ہے کہ جب تک مسلمانوں نے قرآنی تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے رکھا حالات اس کے غلام رہے لیکن آج کا مسلمان خود کو قرآن سے دور کر کے طرح طرح کے حالات کا خود غلام بن گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب ہم نے اپنے کلمہ کے ساتھ خود کو اللہ کے احکامات کا تابع بنا کر اس بات کا اقرار کیا ہے کہ خدا کی ذات ہی عظیم ہے نہ تو کوئی اس کی ذات میں شریک ہے اور نہ ہی صفات میں تو پھر اپنی زندگی کے اعمال وکردار سے بھی یہ ثابت کر ناہو گا کہ ہم خدا کی خدائی کو تسلیم کرتے ہیں اگر ایسا نہیں کیا اور ہم نے اپنے ایمان کی قوت کو اپنے عمل کے ذریعہ ثابت کر نے کی فکر نہ کی تو یقین کیجئیے آپ کسی بھی وقت تاریخ کا حصہ بن جائیں گے اور اس دنیا کے نقشے پر کوئی آپ کو پوچھنے والا نہیں ہوگا انہوں نے کہا کہ آج مغربی طرز فکر نئی نسل کے ذہن ودماغ پر غالب ہے لیکن آپ کو شاید اس بات کا احساس نہیں کہ ان کا یہ طرز عمل پورے معاشرے کی جڑوں کو کھوکھلی بنا رہا ہے انہوں نے کہا کہ بڑائی صرف اللہ کے لئے ہے مگر ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم۔نے خود کو اپنے عمل اپنی تجارت اپنی دولت اپنی شہرت اپنی قوت اپنے تعلقات اپنے عہدہ اور اپنی عزت کی وجہ سے بڑا سمجھ لیا ہے اور تکبر کے اس عمل نے ہمیں ذلت کے اس مقام تک پہونچا دیا کہ اس کا اندازہ بھی لگا پانا مشکل ہے اس لئے ہمیں خود کو تکبر کے عمل سے دور رکھنے کی کو شش کر نی چاہئیے تاکہ سماج میں ہمیں عزت کا وہ مقام حاصل ہو سکے جو ہم چاہتے ہیں ۔

You might also like