Baseerat Online News Portal

قانون کی بالادستی میں ہی جمہوریت کی بقاء ہے:

قانون کی بالادستی میں ہی جمہوریت کی بقاء ہے:

مفتی غلام رسول قاسمی

‏آج ہی کے دن چھبیس نومبر 1949 کو ہمارے ملک بھارت کا آئین تیار کیا گیا تھا، مناسب ہوتا کہ آج قومی سطح پر محاسبہ کیا جاتا کہ ملک کا جو دستور بنا تھا اس پر حزب اقتدار اور اس سے جڑی عوام عمل کر رہی ہے یا نہیں؟ غور و خوض کیا جاتا کہ ملک کے آئین کی خلاف ورزی کہاں کہاں اور کن زاویوں سے ہو رہی ہے تاکہ آئے دن اس کی ہو رہی خلاف ورزیوں پر لگام لگایا جا سکے۔

ملک بھر میں ہر مذہب کے ماننے والوں کو برابری کا حق مل رہا ہے کہ نہیں؟ کہیں کسی خاص طبقے کی جانب سے اقلیتوں کو تکلیف تو نہیں پہنچائی جا رہی ہے؟ ویسے تو ہندوستان کا دستور دنیا کے سارے ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ مفصل ہے لیکن دستور مکتوب ہے اور عمل نہیں کیا جا رہا ہے، قانون کی بالادستی کو لیکر اس لیے بھی فکر مند ہونا ضروری ہے کہ نفرت پرست لوگ اور گروہ اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے جذبات مجروح کر رہے ہیں، مسلمانوں سے ووٹ کا حق چھیننے کا مطالبہ کر رہے ہیں، مدارس دینیہ کو دہشت گردی کا اڈا کہتے تھکتے نہیں، مسلمانوں کو گالیوں کے ساتھ غدار اور گولی مارنے کے سرعام نعرے لگاتے ہیں اور ہندی ہندو ہندوستان مُلا بھاگو پاکستان، جب مُلے کاٹے جائیں گے تو رام رام چلائیں گے، جیسے نفرت انگیز نعرے بازی کرتے ہیں، ایسے نعرے لگانے والوں میں بہت سے فرقہ پرست گروہ اور اراکین پارلیمنٹ و اراکین اسمبلی بھی ہیں جن کے نام کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں، یہ عناصر صرف ایک کمیونٹی کے خلاف نہیں ہیں بلکہ ملک کی جمہوریت کے بھی حق میں نہیں ہیں، اس لیے حکومت ہند اور صدر جمہوریہ سے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر آپ دستور ہند کے معاملے میں مخلص ہیں تو ایسے گروہوں پر پابندی اور اراکین کی سیٹیں سوخت کرتے ہوئے ان پر سخت کارروائی کیجیے اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے اس عنوان پر ایک نیا قانون بنائیے! نیز دستور ہند کے تحفظ کے لئے ہر تعلیمی ادارے کو اسے پڑھانے کا اہتمام کرنے کا حکم دیجیے۔

تحریر: مفتی غلام رسول قاسمی.

Email [email protected]

You might also like