Baseerat Online News Portal

بلبھ گڑھ کی قدیم درگاہ کو راتوں رات شہید کر کے برابر کرنا مسلمانوں کے تشخص پر حملہ کرنے کے مترادف ہے:مولانا عثمان اویسی

بابا فرید کا آباد کیا ہوا شہر فرید آباد میں قدیم درگاہ کو شہید کرنے والے مجرموں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال کر حکومت فوری طور پر درگاہ کو از سر نو تعمیر کرے: صابر قاسمی
فریدآباد(عامر حسین میواتی؍بی این ایس)
بلبھ گڑھ پنچایت بھون میں واقع قدیم درگاہ کو جس طریقے سے شر پسندوں کے ذریعے راتوں رات شہید کر برابر کیا گیا ہے، اس سے صاف ظاہر ہے کہ اس معاملے میں فرید آباد پولس کاروائی پوری طرح سے مشکوک ہے۔
ان خیالات کا اظہار جمعیۃ علماء ہند میوات کے جنرل سکریٹری مولانا صابر قاسمی اور آل انڈیا منہاج رسول کے جنرل سکریٹری مولانا عثمان اویسی نے مشترکہ طور پر متاثرہ جائے وقوعہ کا دورہ کرنے کے بعد کیا۔
وہ آج شہید کی گئی درگاہ کا معائنہ کرنے اور پولس افسران سے میٹنگ کرنے کے بعد میڈیا کو خطاب کر رہے تھے۔
جمعیۃ علماء کے نمائندوں نے بتایا کہ انہوں نے اس معاملے پر بلبھ گڑھ پولیس سے میٹنگ کرکے معاملے کی معلومات اکٹھی کیں۔موصولہ معلومات پوری طرح سے پولس کاروائی کو مشکوک بناتی ہیں، انہوں نے کہا کہ جہاں اس کیس میں پولیس کے طرز عمل پر سوالیہ نشان کا معاملہ سامنے آیا ہے وہیں کچھ شرپسند تنظیموں کے ذریعے درگاہ کو جس طرح سے پولس سے مل کر ایک شازش کے تحت انجام دیا گیا ہے وہ بڑا افسوسناک واقعہ ہے، تفتیشی افسر نریندر کی باتوں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مولانا صابر قاسمی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئےبتایا کہ تھانہ کی پچھلی دیوار درگاہ کی اراضی سے متصل ہوتے ہو، ایک ہفتہ گذرنے کے باوجود پولیس انتظامیہ کے ہاتھ مجرموں کی گرفتاری سے آج تک خالی ہیں۔ جمعیتہ علماء اور آل انڈیا منہاج رسول کے وفد کو تفتیشی افسر نریندر نے بتایا کہ ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔اس حساس ترین واقعہ کو تقریباً ایک ہفتہ گزر چکا ہے۔لیکن کوئی گرفتاری عمل میں کیوں نہیں یہ ایک اہم سوال ہے جس کا پولس کے پاس لیپا پوتی کے علاوہ کوئی معقول جواب نہیں ہے ۔
مولانا صابر قاسمی اور آل انڈیا منہاج رسول کے قومی جنرل سکریٹری مولانا عثمان اویسی نے مشترکہ طور پر پریس کو جاری ایک بیان میں کہا کہ جس طرح سے شرپسند عناصر نے فرید آباد شہر میں مسلمانوں کی شناخت کی علامت۔ درگاہ شریف کو شہید کر برابر کیا ہے،اور آب تک کوئی کاروائی نہیں ہے اس سے شرپسند عناصر کے مذموم عزائم کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ جائے وقوعہ پر معائنہ کرنے سے پتہ چلا کہ، پہلے ملبہ ہٹانے کی کاروائی انجام دی ۔اس کے بعد تازہ مٹی ڈال کر درگاہ کے سبھی باقیات کو پوری طرح مسمار کیا گیا ہے، اس پوری کاروائی سے پولیس انتظامیہ کی ملی بھگت واضح ہو جاتی ہے، انہوں نے کہا کہ یہ سنگین معاملہ انتہائی تشویشناک ہے، انہوں نے کہا کہ جہاں فریدآباد پولس انتظامیہ کی متعصبانہ کاروائی پوری طرح سے بے نقاب ہوئی ہے، وہیں ضلع انتظامیہ اس پورے واقعے سے سوالوں کے گھیرے میں ہے، مولانا عثمان اویسی چلّی نے کہا کہ قومی راجدھانی سے متصل بی جے پی کی حکمرانی والی ہریانہ ریاست کی حکومت کی نیت اور پالیسی دیگر ریاستوں کے مسلمانوں کے تئیں جو اپنائی جا رہی ہے وہ یہاں بھی یکساں نظر آتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گروگرام نماز جمعہ ادائیگی معاملہ میں جس طرح کھٹر سرکار چال چل رہی ہے اس سے نہ صرف گوڑگاؤں کا مسلمان تشویش میں مبتلا ہے بلکہ ریاست ہریانہ کے مسلمانوں کے لیے گروگرام میں اب نماز جمعہ کا دن ٹینشن ڈے بن کر رہ گیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ تیسرا مہینہ چل رہا ہے لیکن ہریانہ سرکار تماش بیں بن کھڑی نظر آتی ہے ، کاروائی نہ کرنا اس کی جوابدہی تو سرکار کے ذمہ ہے،
مولانا صابر قاسمی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہریانہ کی اقلیتی برادری کے لیے گروگرام نماز جمعہ کی ادائیگی معاملہ اور اب فرید آباد کی قدیم درگاہ کی شہادت معاملہ سامنے آنے سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح سے مذہبی طبقے کے عبادت کرنے کے حقوق کی صریح خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔
یہ بہت افسوس ناک واقعہ ہے، انہوں نے سرکار سے مطالبہ کیا کہ سرکار مجرموں کے خلاف کوئی بھی کارروائی نہ کر کے حکومت ریاست کے مسلم شہریوں کو تحفظ دینے میں مکمل ناکام ثابت ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے صاف طور پر اقلیتی طبقات میں تشویش کا ماحول پیدا ہو رہا ہے۔جو حکومت کے لیے کبھی بھی خطرے کی گھنٹی ثابت ہو سکتی ہے۔

You might also like