Baseerat Online News Portal

حفظان صحت:کوروناوائرس کی نئی قسم اومیکرون سے اپنے آپ کوکیسے بچائیں؟

نئی دہلی(ایجنسی)
صحت کے ماہرین کرونا وائرس کی نئی قسم اومکرون سے متعلق اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ یہ قسم زیادہ تیزی سے پھیلے اور اس کے خلاف موجودہ ویکسین سے حاصل کردہ قوت مدافعت کم پڑ جائے۔ان کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی نئی قسم اومکرون کے سامنے آنے کی وجہ کرونا وائرس کا بڑے پیمانے پر پھیلاؤ ہے۔امریکی ریاست میری لینڈ میں متعدی امراض کے ماہر ڈاکٹر فہیم یونس کا کہنا ہے کہ لوگوں نے شاید کبھی یہ نہیں سنا ہو کہ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جنوبی کوریا یا تائیوان سے وائرس میں کوئی میوٹیشن یعنی تبدیلی سامنے آئی ہو کیوں کہ ان ممالک میں وائرس پر کنٹرول ہے۔چند روز قبل جنوبی افریقہ میں سامنے آنے والی اس نئی قسم کے انکشاف کے بعد دنیا کے مختلف ممالک نے جنوبی افریقہ پر سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں جب کہ کئی ممالک نے ماسک سمیت دیگر احتیاطی تدابیر دوبارہ نافذ کر دی ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ کرونا وائرس کی مختلف اقسام یعنی ویریئنٹس جنوبی افریقہ، جنوبی امریکہ، بھارت اور برطانیہ سے نکلی ہیں۔ کیوں کہ وہاں کیسز زیادہ ہیں اور وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب جب وائرس تیزی سے پھیلے گا اس کی نئی قسم کا خطرہ بڑھ جائے گا۔خیال رہے کہ کرونا وائرس کی نئی قسم جسے عالمی ادارہ صحت نے اومیکرون کا نام دیا ہے وہ گزشتہ ماہ سامنے آئی ہے اور اس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ کرونا کی دیگر اقسام سے مختلف ہے کیوں کہ اس میں میوٹیشنز یعنی تغیرات زیادہ ہیں۔ان کے بقول یہ وائرس ایک بال کی طرح ہے۔ اس میں سے نکلی نوکیلی چیزیں اسپائک پروٹین کہلاتی ہیں۔ اس اسپائک پروٹین پر پچیس سے تیس میوٹیشنز ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ”ہماری ویکسین کی اقسام اور اینٹی باڈیز اسپائک پروٹین کو ٹارگٹ کرتی ہیں۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ امکرون کے بعد مزید ویریئنٹس کے سامنے آنے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

You might also like