Baseerat Online News Portal

ایم ایل اے نوح آفتاب احمد نے گڑگاؤں نماز جمعہ ادائیگی معاملے میں ڈی جی پی ہریانہ سے بات کی

نوح ؍میوات( عامرحسین میواتی؍بی این ایس) نوح کے ایم ایل اے اور ہریانہ کانگریس پارٹی کے ڈپٹی لیڈر چودھری آفتاب احمد نے گڑگاؤں نماز جمعہ معاملہ میں ریاست کے ڈی جی پی پی کے اگروال سے فون پر رابطہ کر بات کی ۔اس موقع پر انہوں نے مطالبہ کرتے ہوئے فوری طور پر پولس کارروائی کرنے کی بات کی۔ ایم ایل اے نے اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر واقع چنڈی گڑھ کی رہائش گاہ پر دو بار رابطہ کیا لیکن انہیں بتایا گیا کہ وزیر اعلیٰ میٹنگ میں مصروف ہیں۔ ہریانہ کے ڈپٹی لیڈر چوہدری آفتاب احمد نے ڈی جی پی کو بتایا کہ اس جمعہ کو گڑگاؤں میں جس طرح سے پولیس کی موجودگی میں نمازیوں کی عبادت کے دوران خلل ڈالا گیا وہ قابل اعتراض ہے، جسے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ آفتاب احمد نے امن و امان میں خلل ڈالنے والوں کے خلاف کارروائی اور منظور شدہ جگہوں پر نماز پڑھنے والوں کو سیکورٹی فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ دن بدن خراب ہوتا جا رہا ہے اور انتظامیہ مناسب کارروائی کرنے سے قاصر ہے۔ ہریانہ کے ڈی جی پی نے ایم ایل اے کو ضروری اقدامات کرنے کی مثبت یقین دہانی کرائی ہے۔ آفتاب احمد نے کہا کہ اس معاملے کو وزیر اعلیٰ منوہر لال کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور اسے انتظامی مسئلہ سمجھنے کی بجائے اسے حکومت کی ناکامی تصور کرنا چاہیے۔ آفتاب احمد نے کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے اجازت کے باوجود نمازوں میں رکاوٹ حکومت کی نیت کو ظاہر کرتی ہے۔ آفتاب احمد نے بتایا کہ انہوں نے ایک ماہ قبل وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر کو خط لکھ کر معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے مناسب کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا تھا، تینوں ایم ایل اے نے وزیر اعلیٰ کے میوات پہنچنے سے قبل پریس کانفرنس کرکے معاملہ اٹھایا تھا، لیکن انہوں نے اس معاملہ کو سنجیدگی سے نہیں لیا، بلکہ شرپسندوں کی خاموش حمایت کرتے نظر آتے ہیں۔
گروگرام نماز جمعہ معاملہ میں سرگرم صابر قاسمی نے ڈی جی پی کرائم محمد عقیل سے بات کی اور گروگرام نماز جمعہ ادائیگی معاملے میں بات کر معاملے کی نزاکت اور حساسیت سامنے رکھی، انہوں نے بتایا کہ گروگرام معاملے میں دن بدن کشیدگی میں اضافہ اور ماحول میں شدت پیدا ہو رہی ہے، اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ گروگرام میں نماز ادا کرنے اور فرید آباد میں راتوں رات قدیم درگاہ کو شہید کرنے معاملے میں پولیس کو دس روز گذرنے کے بعد مجرمین کی گرفتاری سے ہاتھ کھالی ہیں، اور پولس کے ذریعے کاروائی نہ کرنے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ اور دونوں معاملات میں فوری طور پر مداخلت کرنے کی بات کہی۔

You might also like