Baseerat Online News Portal

یک روزہ سیمنار بعنوان تذکرہ علمائے مدھوبنی بحسن و خوبی اختتام پذیر ،مدہوبنی واطراف مدہو بنی کی علمی، ادبی، سیاسی اور سماجی شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی،

مدھوبنی کی تاریخ میں پہلا سیمنار!

مدہوبنی /بی این ایس

ہندوستان کے مشہور و معروف نیوز پورٹل بصیرت آن لائن اور تحریک اردو ادب مدھوبنی کے اشتراک سے بروز اتوار 5 دسمبر کو یک روزہ سیمنار تذکرہ علمائے مدھوبنی زیر صدارت حضرت مولانا حافظ اقبال صاحب چوناوالا ممبئی  رکن مشاورت دارالعلوم وقف دیوبند، اور مہمان خصوصی حضرت مولانا رشید احمد صاحب ندوی جنرل سکریٹری انجن اہل السنہ والجماعہ ممبئی کے موجودگی میں متھلاٹیچر ٹرینگ بسوارہ میں منعقد کیا گیا ، سیمنار کا آغاز جناب قاری شمیم احمد استاذ مدرسہ فلاح المسلمین گواپوکھر بھوارہ مدھوبنی کی تلاوت قرآن پاک سے اور حافظ فیاض متعلم مدرسہ ہٰذا کی خوبصورت نعتیہ کلام سے ہوا۔

 

یاد رہے کہ  اس سیمنار کا اہتمام ضلع مدھوبنی کے چار علمی عبقری شخصیات فقہ ملت حضرت مولانا زبیر احمد صاحب قاسمی رحمتہ اللہ علیہ سابق ناظم جامعہ اشرف العلوم کنواں، مفکر ملت حضرت مولانا قاضی حبیب اللہ صاحب قاسمی رحمتہ اللہ علیہ سابق قاضی شریعت و صدر المدرسین مدرسہ فلاح المسلمین گواپوکھر مدھوبنی، ہردل عزیز حضرت مولانا وصی احمد صدیقی صاحب رحمتہ اللہ علیہ ناظم مدرسہ چشم فیض ململ، اور حضرت مولانا مکین صاحب رحمانی رحمتہ اللہ علیہ کی علمی خدمات کو اجاگر کرنے، انکی خدمات کو عام کرنے کی غرض سے اہتمام کیا گیا۔  ان اکابر علمائے کرام پر مدھوبنی کی علمی شخصیتوں نے اپنا مقالہ بھی پیش کیا اور اس بھی بڑی بات کہ بصیرت آن لائن اور تحریک اردو ادب کے ذمہ داروں نے قلیل مدت میں تقریباً پینتیس مقالوں کا مجموعہ تذکرہ علمائے مدھوبنی کے نام سے خوبصورت دلفریب بینڈنگ کی شکل میں ایک مجلہ بھی جاری کیا۔

سر زمین مدھوبنی میں اس نوعیت کا یہ  پہلا سیمنار تھا لیکن اسکے باوجود کیا ہی خوب کامیاب سیمنار رہا، مدھوبنی اور اطراف مدھوبنی کے اکثر علمی، ادبی، اور عبقری شخصیات شریک سیمنار رہے، مثلا نمونہ سلف حضرت مولانا اظہار الحق صاحب مظاہری مدظلہ کنہواں شمسی ، حضرت مولانا مطیع الرحمن صاحب قاسمی مدظلہ استاذ مدرسہ فلاح المسلمین، حضرت مولانا مفتی ابوذر صاحب قاسمی مدظلہ صدر جمیعت علمائے مدھوبنی، حضرت مولانا قاضی امداد اللہ صاحب قاسمی قاضی شریعت مدرسہ فلاح المسلمین گواپوکھر بھوارہ مدھوبنی، حضرت مولانا قاضی اعجاز احمد صاحب قاسمی قاضی شریعت مدرسہ محمود العلوم دملہ، حضرت مولانا قیصر صاحب قاسمی ناظم مدر بشارت العلوم کھرما، حضرت مولانا مفتی محمد روح اللہ صاحب قاسمی استاذ مدرسہ فلاح المسلمین گواپوکھر بھوارہ, ڈاکٹر فیاض احمد صاحب سابق { ایم ایل ائے } بسفی، ڈاکٹر شکیل احمد سابق {ایم پی}  مفتی مسیح احمد قاسمی مدہو بنی مولانا مظفر احسن رحمانی، مولانا فاتح اقبال ندوی، ناظم مدرسہ چشمہ فیض ململ ،وغیرھم، تقریبا پانچ سو علماء کرام، ملی و سماجی شخصیات شرکت کی اور بزرگوں کی تئیں اپنی عقیدت ومحبت کا اظہار کیا

اس سیمنار کا مقصد بتاتے ہوئے بصیرت آن لائن کے چیف ایڈیٹر جناب مولانا غفران ساجد صاحب نے بتلایا کہ میں برسوں سے یہ سوچ رہا تھا کہ مدھوبنی میں کیسی کیسی عبقری شخصیت آئی اور چلی گئی، انہوں نے دن رات کی جفاکشی برداشت کرکے قوم و ملت کے لئے خدمات پیش کی لیکن افسوس کہ آج کی نوجوان نسل ان شخصیات سے بالکل بے خبر ہیں، اس لئے شدت کے ساتھ یہ محسوس کیا گیا کہ اپنے اکابر علمائے مدھوبنی کی قربانی، جفاکشی، انکی فکر، کام کرنے کا منہج و طریقہ  نئی نسل تک پہنچائی جائے اسی سلسلے کی یہ ایک کڑی اور چھوٹی سی کوشش ہے، کہ ہمارے نوجوان بھی اپنے اسلاف علمائے کرام کی زندگی سے سبق لیکر ان کے نقشِ قدم پر چل کر قوم و ملت کی خدمات انجام دے سکیں، اس سیمنار کے کنوینر اور تحریک اردو ادب کے سکریٹری جناب مولانا عنایت اللہ ندوی نے اس سیمنار کے ذریعے مدھوبنی کی اہم شخصیات جو مختلف میدانوں میں جیسے دینی علوم، عصری علوم، صحافت، میڈیکل اور دیگر میدان میں قوم و ملت کے لئے جو اپنا نمایا کردار ادا کر رہے ہیں انکی خدمات پر حوصلہ افزائی کے لئے ایسے مخصوص لوگوں کو ایوارڈ سے سرفراز کیا۔ یاد رہے کہ سیمنار کی سرپرستی ڈاکٹر فیاض احمد سابق {ایم ایل ائے} بسفی کر رہے تھے اور انکے برادران حافظ نیاز احمد چیرمین متھلاٹیچر ٹرینگ بسوارہ و جناب اشتیاق احمد و جناب امتیاز احمد صاحبان کا  بھی بھرپور تعاون رہا جس کی وجہ سے باسہولت سیمنار انجام تک پہنچا

اس موقع پر حضرت مولانا اظہار الحق صاحب مدظلہ  نے قلبی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ سیمنار منعقد کرنے والے نوجوان قابل مبارکباد ہیں کہ انہوں نے تحریر کے ذریعے اپنے اکابر کو زندہ رکھنے کی کوشش کی ہے۔

حضرت مولانا مفتی ابوذر صاحب قاسمی نے کہا کہ یہ تو ابتداہے ان شاءاللہ آئندہ بھی مدھوبنی کے دوسرے اسلاف کو یاد کرنے کا اہتمام کیا جائے گا۔

حضرت مولانا قاضی اعجاز صاحب قاسمی نے کہا کہ بصیرت آن لائن اور تحریک اردو ادب کو سلام پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے اپنے اکابر کو زندہ رکھنے کے لئے یہ مستحن قدم اٹھایا، حضرت مولانا قاضی محمد امداد اللہ صاحب قاسمی نے کہا کہ اپنے بزرگوں کی صالح روایات کو زندہ رکھنا یہ لوگوں کی روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔ قابل مبارک ہیں مولانا غفران ساجد صاحب اور مولانا عنایت اللہ ندوی صاحب کہ اس میدان میں ان حضرات نے پہل کی، سیمنار کے اختتام پر جناب مولانا غفران ساجد صاحب چیف ایڈیٹر نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور اکابر علمائے مدھوبنی پر سالانہ سیمنار کرنے کا اعلان بھی کیا۔

You might also like