Baseerat Online News Portal

’’بھارت ماتا کی جے یا راشٹریہ آڈمبر واد‘‘

(قسط اول) 
ڈاکٹر ایم انیس احمد
Mob: 9918133465
’’بھارت ماتا کی جے ‘‘کے عنوان کے تحت پھر ایک بحث جاری ہے۔ سوال یہ ہے کہ’’ وندے ماترم ‘‘ اور ’’بھارت ماتا کی جے ‘‘ میں فرق کیا ہے؟ اس بحث کی حمایت و مخالفت میں جو دلائل پیش کئے جا رہے ہیں ، لوگوں کے خیال میں کسی نہ کسی زاوئے سے اہم بھی ہو سکتے ہیں۔ لیکن اس بحث میں ہندوستانی قومیت ، اسلام و مسلمان اور ہندوتوا جیسے مدعوں کو زیر بحث لایا جا رہا ہے۔ لہٰذا ان حوالوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے حقیقت پسندانہ گفتگو کا آغاز ہونا چاہئے۔ یہ امر لمحۂ فکریہ ہے کہ اس بحث کو کچھ لوگ بہت ہی سطحی بنا دیتے ہیں اور یہ مدعا الجھ کر رہ جاتا ہے۔
وندے ماترم یا بھارت ماتا کی جے کا مدعا ایک صدی سے بھی زیادہ قدیم ہے جبکہ 1882میں بنکم چندر چٹرجی نے اپنا ناویل ’’آنند مٹھ‘‘ شائع کیا۔ وندے ماترم بھی اسی ناول سے ماخوذ ہے ۔ سوال یہ ہے کہ اس وندے ماترم سے قبل و بعد ہزاروں گیت وطن ہند سے اظہار تعلق کے طور پر لکھے گئے۔ کیا مسلمان ان تمام گیتوں کی مخالفت کر رہے ہیں؟ ایسا نہیں ہے اور قطعی نہیں ہے، بلکہ مسلمانوں نے خود بہت سے گیت لکھے ہیں جن میں ہندوستان سے تعلق اور تعریف کے مضامین بہت ہی بلند و بالا ہیں۔ لیکن وندے ماترم کی مخالفت وہ کیوں کر رہے ہیں؟ اس تعلق سے چندبہت ہی سنجیدہ اسبا ب ہیں۔
ان اسباب پر غور کرنے سے قبل ایک اصولی بات طے ہونی چاہئے کہ ہمارے ملک کا تصور ِ قومی کن بنیادوں پر استوار ہوگا ؟اس تصور قومی کے اجزائے ترکیبی کیا ہوںگے؟ اس تصورِ قومی کو تشکیل دینے کا اختیار کس کو حاصل ہوگا؟ جدید ہندوستان کے قومی تصور کو یہاں کو عوام ہی تشکیل دیںگے۔ سیکولرزم کے حوالے سے ایک بات یہ ہے کہ یہاں مختلف مذاہب میں کوئی مداخلت نہ ہو اور نہ مذہب کی بنیاد پر کوئی تفریق ہو۔ قومیت کے حوالے سے بھی یہ بات اہم ہو جاتی ہے کہ قومیت کی ظاہری و باطنی ہیٔت میں کوئی ایسی چیز نہ شامل کی جائے جس پر کسی دیگر مذہبی عقیدہ کو اعتراض ہو۔ یا زیادہ محتاط الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ کسی مذہب کے عام اور معروف اصولوں سے متصادم نہیں ہونا چاہئے۔ ہم یہ کام اکثریتی جبر کے ذریعہ نہیں کر سکتے۔ بلکہ عام مفاہمت کے اصولوں کے تحت کر سکتے ہیں۔ اور یہ کام کسی ایک طبقہ کی ذمہ داری نہیں ہے۔ کسی ایک گروہ کو ٹھیکا نہیں ملا ہوا ہے کہ وہ ہندوستانی قومی تصور کی ہیٔت کو از خود طے کر دے۔
جہاں تک جدید ہندوستان کے قومی تصور کی بات ہے۔ اس کا آغاز موجودہ دستور کے نفاذ سے ہوتا ہے ۔ حالانکہ اس ضمن میں مسلمانوں کا یہ اعتراض بھی ہے کہ اس دستور سازی کے دوران مسلمانوں کی نمائندگی دستور ساز اسمبلی میں خاطر خواہ نہیں تھی۔ اور جو لوگ بھی تھے وہ مسلمانوں کے آزاد نمائند ے نہیں تھے۔ پھر بھی اس دستور کو قومی تصور کے ضمن میں ایک بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر علمائے اسلام جدید ہندوستان کو دارالمعاہدہ کے طور پر تسلیم کر لیتے ہیں ۔ حالانکہ یہ معاہدہ کے عام اصولوں کے تحت تشکیل نہیں دیا گیا ہے۔
’’راشٹریہ آڈمبر واد‘‘ باکل مختلف چیز ہے اور دستور کی پابندی کرتے ہوئے ملک کے قومی تصور کی حفاظت کرنا ایک مختلف امر ہے۔ یہ دیکھا گیا ہے کہ جو لوگ راشٹریہ کرم کانڈ اور آڈمبر کی رٹ لگاتے رہتے ہیں اور مسلمانوں پر اس ضمن میں مختلف زاویوں سے حملے کرتے رہتے ہیں، ملک کے’’ دستوری قومی تصور ‘‘ اور ’’معاہداتی قومی تصور ‘‘کے خلاف عمل کرتے رہتے ہیں۔ در حقیقت سب سے بڑے ملک مخالف یہی لوگ ہیں۔ اس ضمن میں دو مثالیں کافی ہوںگی۔
دستور کے نفاذ سے دو روز قبل ڈاکٹر راجیندر پرساد کو صدر جمہوریہ بنا دیا گیا حالانکہ صدر کے انتخاب کا ایک ضابطہ دستور میں طے کیا گیا تھا کہ پہلے پارلیامینٹ اور اسمبلیاں وجود میں آئیںگی اور پھر یہ نمائندے صدر جمہوریہ کا انتخاب کریںگے۔ ایک عبوری انتظام چل رہا تھا اور آئندہ انتخاب تک مؤخر کیا جا سکتا تھا۔ لیکن جو دستور 26نومبر 49کو وہ مکمل کر چکے تھے، اس کے نفاذ کو 26جنوری 50تک کے لئے مؤخر کر دیاگیا۔ پھر 24جنوری 1950کو کیا ضروری تھا کہ پارلیامینٹ اور اسمبلیوں کے وجود سے قبل ہی صدر جمہوریہ کا تعین کر دیا جائے؟ یہ دستور کی پہلی خلاف ورزی تھی۔ دوسری خلاف ورزی 16اگست 1950کو ڈاکٹر راجیندر پرساد نے دفعہ 341کے تحت ایک آرڈنینس کے ذریعہ ایس سی ؍ایس ٹی اگر مسلمان ہے تواسے رزرویشن کی سہولیات سے مستثنیٰ کر دیا ۔مذہب کی بنیاد پر یہ تفریق دستور کے ان اصولوں کے خلاف ہے جنہیں دستور کی ابتدائیہ میں درج کیا گیا ہے۔ مسلمانوں کو دیا گیا یہ دھوکہ ملک کے دستوری قومی تصور کے خلاف تھا اور ہنوز جاری بھی ہے ۔اس طرح کی بے شمار مثالیں اکثر واقع ہوتی رہتی ہیں۔
جو لوگ مسلمانوں سے وندے ماترم اور بھارت ماتا کی جے کا مطالبہ کرتے ہیں۔’’رام رام جپنا پرایا مال اپنا‘‘ کے سب سے بڑے مستحق ہیں۔ قدیم ہندوستان میں جناب بُدّھا کے ساتھ اس طرح کا رویہ ان کرم کانڈیوں نے اختیار کیا تھا ۔ ان کو ناستک اور دھرم ورودھی قرار دے کر ان کی مخالفت کی تھی۔حالانکہ جناب بدھا نے مذہب کے نام پر مذہبی ٹھیکیداروں کے ذریعہ جو کرم کانڈ ہو رہا تھا، جہاں مذہب کے علاوہ مذہب کے نام پر سب کچھ موجود تھا، اس کرم کانڈ کی مخالفت کی تھی۔ نہ انہوں نے خدا کے وجود اور نہ ہی خدا کے ایک ہونے کے تصور کی اور نہ ہی زندگی کے معاملات میں خوفِ خدا کی مخالفت کی تھی۔وسط واعتدال پر مبنی جناب بُدّھا کی تعلیمات اس با ت کی گواہ ہیں لیکن ان کرم کانڈیوں نے جناب بدھا کو ناستک ، وید کی نندا کرنے والا، خدا کا انکار کرنے والا کہہ کر مخالفت کی اور بودھوں کے خلاف بڑے پیمانے پر عوام میں نفرت کو فروغ دینے میں کامیاب ہو گئے۔ آج کے کرم کانڈی ، راشٹریہ کرم کانڈی بن گئے ہیں۔ اور اپنے مذموم مقاصد کے تحت لوگوں کو ملک و قوم مخالف قرار دیکر نفرت کا ماحول پیدا کرنے میں سر گرمِ عمل ہیں۔
جدید ہندوستان کے قومی تصور میں کسی فرد یا گروہ کی نفی نہیں ہونی چاہئے۔ یہ عمل قومی تصور کے خلاف ہی قرار دیا جائیگا۔ سب کا ساتھ سب کا وکاس ایک اچھا نعرہ ہو سکتا ہے، اگر قومی تصور کی تشکیل میں اکثریتی جبر کو روکنے کی کوشش کی جائے اور بالجبر راشٹریہ کرم کانڈ کا مطالبہ کرنے کے بجائے دستور میں درج لوگوں کے حقوق و اختیارات کا باہمی احترام کیا جائے۔لیکن ایسا نہیں ہو رہا ہے ۔ بڑے بڑے فسادات کے ذریعہ قتل و غارت گری کرنے والے، نفرتوں کو فروغ دینے والے، کرپشن کے ذریعہ ملک و عوام کو دھوکہ دینے والے، بڑے بڑے رشوت خور اور گھوٹالے باز۔ یہ اگر بھارت ماتا کی جے لگاتے ہیں تو لوگوں کو ہوشیار ہو جانا چاہئے کہ یہ بڑے دھوکے باز ہیں اور بہت بڑے خطرے کے اسباب پیدا کر رہے ہیں ۔ کرپشن، ناانصافی اور فرقہ واریت کو بھارت ماتا کی جے کے ذریعہ یہ لوگ جائز کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بات صاف صاف ہونی چاہئے اور وہ یہ ہے کہ ملک کے قومی تصور کی تشکیل میں جس قدر کسی دوسرے کو حق حاصل ہے۔ اسی قدر مسلمانوں کو بھی یہ حق حاصل ہے۔ اس سلسلے میں ان کی کسی بات کو آپ نذر انداز نہیں کر سکتے اور کس اصول کے تحت کریں گے ؟ کیا اکثریتی جبر کے ذریعہ؟یہ بات واضح ہونی چاہئے کی اکثریتی جبر کو نہ توجمہوریت قرار دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی دستوری قومیت میں ہی اس کی کوئی گنجائش ہے۔ ایسے لوگوں کو مسلمانوں سے کرم کانڈانہ مطالبہ کرنے کی بجائے اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ یہ واضح کریں کہ وہ اکثریتی جبر کو کسی بھی حیثیت میں انکار کرتے ہیں۔ جو لوگ خود کو اکثریتی گروہ کہتے ہیں ، یا جو لوگ حکومت میں ہیں ،یہ ذمہ داری ان پر بطور خاص عائد ہوتی ہے۔ (یو این این)

You might also like