Baseerat Online News Portal

چودہ صدی ہجری کے صوفیوں کی’ ارتقائی مراتب‘!

تنویر احمد، کلکتہ
سنگھی نظریات کے حاملین چودہ صدی ہجری کے صوفیوں نے اولیا ء اللہ کی دینی خدمات ،مجاہدات، تقویٰ وطہارت کی زریں روایتوں کی قیمت پر جس طرح امت مسلمہ کو وہابی بنام دہشت گردی اور صوفی بنام سلامتی و دیش بھگتی کے دو قطبی افکار پر محاذ بند کرنے کی کوشش کی تھی اسے اہلسنت کے ہوشمند اور دردمندان ملت نے ہی ناکام بنا دیا۔ واضح رہے کہ یہاں مسلک اہلسنت کا دامن بالکل صاف ہے لیکن اس کا ذکر خصوصی طور پر اسی لئے کیا گیا ہے کہ عالمی صوفی کانفرانس کی انتظامیہ کمیٹی نے اپنا انتساب اہلسنت کی طرف کر کے یہی تاثر دینے کی کوشش کی تھی کہ تصوف پر مسلک اہلسنت کی اجارہ داری ہے ۔ لیکن لائق صد احترام مسلک اہلسنت کے علماء کرام ، مفتیان عظام ، دانشوران ملت اور سیاسی رہنماقابل مبارکباد ہیں کہ انہوں نے چودہ صدی ہجری کے نام نہاد اور خود ساختہ صوفیوں کو مسلک اہلسنت کے نام پر ملک کے مسلمانوں کو باٹنے کی مذموم کوششوں کو ناکام بنا دیا۔ دراصل چودہ صد ی ہجری کے صوفیوںنے اہلسنت کی طرف تصوف کا انتساب تو کر لیا تھا لیکن مراتب ومدارج تصوف کے قلندرانہ اسلوب کی عدم واقفیت نے انہیں جب غیر کے آگے جھکا دیا تو تن اور من دونوں کی وقعت سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ شاید چودہ صدی ہجری کے صوفیوں کی یہی وہ ارتقائی مراتب ہے جو فقر و فاقہ ، صبر و قناعت، عبادت و ریاضت سے ماورا ہو کر اس درجہ غیر کی قدم بوشی کو اپنا منتہائے نظر بنالیا جس کے دامن سے گجرات کے معصوموں کاخون اب بھی ٹپک رہا ہے ۔
’’پانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی یہ بات۔ تو جھکا جب غیر کے آگے نہ من تیرا نہ تن‘‘۔
عالمی صوفی کانفرانس کی حقیقت کا بھانڈا پھوڑ اسوقت ہوا جب یہ اندیشہ ظاہر کیا جانے لگاکہ بیرون ملک سے چودہ صدی کے جبہ و دستار و قبا بند اہل تصوف کی مہمان نوازی پانچ ستارہ ہوٹلوں کے پر آسائش ٹھنڈے کمروں میں بک کروائی گئی ہے لیکن جس پر کڑوڑوں روپئے پانی کی طرح خرچ کرنے کیلئے عامۃ المسلمین سے کوئی چندہ وغیر ہ نہیں کیا گیا ہے۔ حقیقت کی نقاب کشائی نیز اپنوں کے بائیکاٹ کا جو لازمی نتیجہ سامنے آ سکتا تھا وہ عالمی صوفی کانفرانس کی افتتاح سے اختتامی تقریبات کے دوران خوب مشاہدہ کیا جاتا رہا ۔ اپنوں کے بائیکاٹ اور اندیشوں کی تشہیر کے بعد یہ کیسے ممکن تھا کہ منتظمین ،مسلکی منافرت پھیلانے کا کام کھل کر کرتے ۔ تاہم مسلمانوں کی مسلکی بنیاد پر تفریق کرنے والے بیانات سے کلی طور پر احتراز بھی نہیں کیا گیا۔ معروف کالم نویس منصور آغا لکھتے ہیں کہ’’ صوفیاء کا طریقہ عقیدہ اور عمل کی بنیاد پر کسی سے تفریق و تعصب کا نہیں ہوتا۔ صرف مسلک یہ نہیں کہ ایک کے گناہ کیلئے دوسرے کو خاطی قرار دیا جائے اور منافرت بین المسلمین کو ہوا دی جائے، جیسا کہ اس کانفرانس میں ہوا‘‘ یعنی مسلمانوں کے ایک خاص مکتب فکر کے گلے میں طوق ڈالا گیا۔ مقررین نے اپنا روئے سخن اگر چہ دیش بھگتی اور شانتی کی طرف موڑ نے کی کوشش بھی ضرور کی اور جس کی وجہ سے ’’ بھارت ماتا کی جئے‘‘ کا نعرہ بھی لگایا گیا، تاہم پروگرام کی ساری سر گرمیاںمجموعی طور پر مہمان خاص وزیر اعظم نریندر مودی کے گرد ہی محدود ہو کر رہ گئیں، جنہوں نے اپنے قوت حافظہ کا بھر پور مظاہرہ کرتے ہوئے وہی مکتوبہ اسکرپٹ سنا ڈالا جوانہیں دیا گیا تھا۔
اسلامی تعلیمات کی خوبیوں اور اس کے محاسن سے کسی مسلمان کو کیااعتراض ہو سکتا ہے؟ ہاں! اسلامی شعائر یا اسلام کی غلط تعبیر اور ترجمانی سے چودہ صدی ہجری کے خوشامدی صوفیوں کو تو خوش کیا جا سکتا ہے ، اسلام کے مسلمات کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ ملحوظ خاطر رہے کہ ہمارے چند اردو اخبارات نے بھی اسلام اور اسماء و صفات کے تعلق سے وزیر اعظم کے خوش کن اور من گھڑت تاویلات کو شہ سرخیوں کے ساتھ شائع کر کے مسلمانان ہند کے دلوں میں بہت سارے توقعات جگا دی ہیں۔ لیکن اہل نظرجانتے ہیں کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی اس غلط تاویلات کا مقصد صرف اور صرف مسلم ووٹوں کا بٹوارہ اور باہمی انتشار ہے۔ کاش! نریندر مودی کے اسکرپٹ لکھنے والے کوصفات الٰہیہ، جسے وزیر اعظم موصوف نے اللہ کے 99 ناموں سے معتبر کیا ہے، کی پوری فہرست اور اس کی تفصیلات بتلاتے جس میں الجبار، القہار ، المانع،القوی، المتکبر، المنتقم جیسے اسماء الحسنی بھی شامل ہیں ۔ یہ صفات الٰہیہ صوفی اصطلاح ’’ وحدۃ الوجود‘‘ یا ’’وحدۃ الشہود‘‘ کے بموجب کسی بندہ جہد میں حلول کر جائے تو اس کا کیا نتیجہ سامنے آ سکتا ہے ، ہندوستان کے معروف صوفی اور ولی حضرت خواجہ معین الدین چشتی ( متوفی 631ہجری) کی زندگی کا ایک واقعہ میں ملتا ہے۔ واقعہ مشہور ہے کہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ اسلام پھیلانے کیلئے اجمیر تشریف لائے تھے تو آپ کا ایک ہندو جوگی سے مقابلہ ہوا۔ ہندو جوگی نے یہ کرشمہ دکھایا کہ اس نے اپنا جوتا اوپر پھینکا، پھر وہی جوتا ہوا میں اڑتا ہوا اوپر چلا گیا۔ لوگ حیران و ششدر رہ گئے ۔ پھر حضرت خواجہ ہند الولی معین الدین چشتی ؒ کی باری آئی تو آپ نے بھی اپنا جوتا ہوا میں پھینکا ، جو اس جوگی کے جوتے کو مارتے مارتے نیچے اتار لایا۔ حاضرین نے جب یہ دیکھا تو سمجھ گئے کہ اسلام ہی سچا مذہب ہے ، چنا نچہ وہ جوگی مع چیلے آپ خواجہ کے مرید ہو گئے حتیٰ کہ حاضرین میں سے بھی اکثر مشرف بہ اسلام ہوئے‘‘ ( اس روایت کی صحت کا علم نہیں تاہم یہ واقعہ زائرین درگا اجمیری کی اکثریت بتلاتے ہیں)۔ اسی قسم کا ایک واقعہ پیران پیر حضرت عبدالقادر جیلانی ؒ ؒ سے بھی منسوب ہے جسے ’’ سیرت غوث الثقلین‘‘( صفحہ 167 ) میں ضیاء اللہ قادری نے رقم کیا ہے۔ ’’ شیخ ابو عمرو اور محمد عبدالحق سے مروی ہے کہ ہم غوث پاک کی خدمت میں حاضر تھے کہ اس وقت آ پ نے اپنی کھڑائیں پہنیں اور وضو فرمایا، اور دو رکعت نفل پڑھنے کے بعد بلند آواز کرتے ہوئے ایک کھڑائوں کو ہوا میں زور سے پھینکا، پھر اسی طرح دوسرا پھینک دیا۔دونوں کھڑائیں ہماری ( راوی )نظر سے غائب ہو گئیں مگر ہم ( راوی )سے کسی کو آپ سے واقعہ معلوم کرنے کی جرأت نہ ہوئی۔ تین دین بعد ایک قافلہ آیا اور کہنے لگا کہ ہم نے غوث اعظم کے حضور نذرانہ پیش کرنا ہے۔ ہم نے اجازت طلب کی ، تو آپ نے اجازت دے دی اور کہا کہ جو کچھ نذرانہ دیں ‘ لے لو‘‘ ۔ نذرانہ مع کھڑائیں وغیرہ لینے کے بعد واقعہ رقم ہے کہ ’’ باہر آ کے ہم (راوی)نے ان (قافلہ والوں)سے کھڑاؤں کے متعلق پوچھا کہ کہاں سے ملیں؟ تو انہوں نے بیان کیا کہ تین3 سفر کو جا رہے تھے کہ راستہ میں عرب ڈاکوؤں نے لوٹ لیا اور ہمارے قافلہ کے بہت سے افراد کو قتل بھی کر ڈالا۔ اس وقت ہم نے کہا کہ شیخ عبدالقادر ہماری دستگری فرمائیں اور ہم بچ کر نکل جائیں تو اپنے مال میں سے آپ کی نذر پیش کریں گے۔ ابھی ہم (قافلہ والے)یہ کہہ ہی رہے تھے کہ دو بلند آوازیں سنائی دیں کہ سارا بیابان گونج اٹھا اور وہ ڈاکو بھی ہیبت زدہ ہو کر ہمارا مال واپس کر دیا نیز کہا کہ دیکھو ! ہمارا کیا حال ہوا ہے۔ ہم وہاں پہنچے تو ڈاکوؤں کے دونوں سرداروں کو مردہ پایا اور ہر ایک کے پاس پانی سے تر ایک ایک کھڑ۱ؤں پڑی ہے‘‘۔ اس روایت کی صحت سے قطع نظرصوفیوںاور اولیا ء اللہ کی ذات سے منسوب تاریخ مشائخ و مناقب کی کتابوں میںدشمنوں کی سر کوبی کے ایسے بیشمار واقعات ملتے ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ مسلمانوں نے اگرچہ امن و آشتی کا دنیا کو پیغام دیا ہے لیکن جب ان کی ذات پر تشدد حد سے تجاوزہونے لگتی ہے تو دفاعی اقدام کے تحت حسب ضرورت ردعمل کا مظاہرہ بھی کیا گیاہے، جس کی تعلیمات اللہ کی اس صفات القہار اور الجبار سے ہمیں ملتی ہیں ۔
سوال یہ ہے کہ تصوف کے افکار اور نظریات میں ہی ایسے بے شمار واقعات موجود ہیں تو صرف اپنے پسند کے منتخب صفات الٰہیہ کے حوالوں سے وزیر اعظم دنیا کو کون سا درس دینا چاہ رہے تھے؟ اسلام کی سلامتی ثابت کرنے کیلئے اس کا معنی غلط اخذ کر نے کی کیا ضرورت تھی ؟ اسلام بہ معنی سلامتی کس لغت میں درج ہے؟ چودہ صدی ہجری کے تصوف کے دعویداروں نے اسلام کا صحیح معنی اللہ کی فرمانبرداری یا تابعداری کیوں نہیں بتلائی؟ ہاں! مسلمانوں کا شعار ہے کہ جب وہ باہم سلام کرتے ہیں تو ا یک دوسرے کی سلامتی کے متمنی ہوتے ہیں اور مشفق رسول ؐ نے اس فروغ دینے کا حکم بھی دیا ہے۔ اس اسلامی تہذیب سے کیا اس کے امن پسندانہ طرز حیات کا ثبوت نہیں ملتا ہے؟لگتا ہے اسلام کا معنی اللہ کی تابعداری بتلا دینے سے ’’ بھارت ماتا کی جئے‘‘ کا نعرہ لگانا مشکل ہو جاتا۔ کاش!شاعر مشرق سے ہی ان کی نظم ادھار لے لیتے تو مرد مسلمان کا معنی بھی سمجھ میں آجاتا۔
ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان نئی آن
گفتار میں ، کردار میں ، اللہ کی برہانً!
قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت
یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان
وزیر اعظم نریندر مودی نے عالمی صوفی کانفرانس میں اسلام کے محاسن کی جس طرح تاویلات کی ہے، کیا ہے اچھا ہوتا اگر کسی موقع پر آریس ایس اور اس کی ذیلی تنظیموں کے بے لگام کارکنوں نیز اپنی پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ کو مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کرنے سے بھی منع کرتے۔ مسلمانوں کے خوردنوش کے حق انتخاب کے مد نظر دادری اور رانچی کے لاتیھار ضلع کے واقعات کا سخت نوٹس لیتے۔نظم و نسق کے مسئلے کو ریاستوں کی ذمہ داری کہہ کر روح واقعہ سے عمداً کنی کٹا لینے سے مسلمانوں کی مظلومیت اور شر پسندوں کے ارتکاب ظلم میں کمی واقع نہیں ہو سکتی۔یاد رہے کہ رانچی کے ضلع لاتیھار میں محمد مظلوم اوربارہ سالہ آزاد خان عرف ابراہیم کا قتل نیزدادری کے محمد اخلاق کے قتل کا محرک ایک ہی ہے۔ مسلمانوں کا خون اگرچہ مختلف ریاستوں میںبہایا جارہا ہے لیکن اس کے عوامل اور محرکات آر ایس ایس کے وہی نظریات ہیں جو مسلم دشمنی پر مبنی ہیں۔
عالمی صوفی کانفرانس میں چودہ صدی ہجری کے صوفیوں کی ارتقائی مراتب میں مطالبہ کیا گیا تو ملک بھر کی ریاستوں میں صوفیوں کے مراکز نیز مرکزی وقف کونسل اور ریاستی وقف بورڈ میں، مرکزی و ریاستی حج کمیٹیوں میں، قومی اقلیتی فینانس ڈیولپمنٹ کارپوریشن وغیرہ میں خاطر خواہ نمائندگی۔ چودہ صدی ہجری کے تصوف کے تھیلے سے حرص دنیا کی بلی بالآخر باہر آ ہی گئی ۔تصوف کے مراتب و مدارج میں معلوم نہیں یہ مقام بھی آتے ہیں یا نہیں، تاہم اقبالؔ نے جس ممکنات کی دعوت دی تھی چودہ صدی کے صوفیوںسے اب ظہور ہونے لگا ہے
تری نگاہ میں ہے معجزات کی دنیا
مری نگاہ میں ہے حادثات کی دنیا
تخیلات کی دنیا غریب ہے، لیکن
غریب تر ہے حیات و ممات کی دنیا
عجب نہیں کہ بدل دے اسے نگاہ تری
بلا رہی ہے تجھے ممکنات کی دنیا
(بصیرت فیچرس)

You might also like