Baseerat Online News Portal

ہوتے جو مسلماں بھی ایک!

مبشر عارفی
معرکہ کربلا ہو یا زوال اسپین،خاتمہ خلافت ترکستان ہو یا عراق و افغانستان کی تباہی، مصر میں اخوان المسلون کی حکومت کا خاتمہ ہو یا شام میں داعش کے ظم وستم ، ہر دور میں وہی فکر کار فرما رہی ہے جو ارباب اقتدار کے دریچوں سے نکل کر ہمارے نظروں تک پہونچی کہ مسلمانوں کو آپسی اختلافات میں الجھا کرکمزور کر دیا جائے۔ چند دنوں قبل مسلمانو کے ایک گروہ نے وڑلدس صوفی کانفرنس کا انعقادکیا اور وزیر اعظم نریندر مودی کو دعوت دی گئی نتیجہ تمام مسلمان اس گروہ کے خلاف فتوے جاری کرنے لگے لیکن کسی نے ان سے ملکر اس پروگرام کے پیچھے انکا موقف جاننے کی کوشش نہیں کی اورنا ہی ان لوگوں نے بتانے کی ضرورت محسو س کی اور ملت اسلامیہ کا باطنی انتشار ہر خواص وعام کیسامنے ظا ہر ہو گیا، دوسرا واقعہ بھارت ماتا کی جئے نہ کہنے پر اسدالدین اویسی کابیان جس میں مسلمانوں کی ایک جماعت انکی حمایت میں ہے تو دوسرا انکی مخالفت میں، کوئی انہیں حق گو کہ رہا ہے تو کوئی بیوقوف اور ان دونوں طبقوں میں علما بھی شامل ہیں۔ اب کوئی کیسے فیصلہ کر سکتا ہےکہ اس معاملہ میں ملت اسلامیہ کی متفقہ رائے کیا ہے؟ یہ حال ہے دنیا کے سب سے متمدن، منظم اور مہذب قوم کا ۔ کیا یہ ایسے مسئلے نہیں جن پر تمام فرقے کے علما بیٹھتے اوراجمع کے ذریعہ کسی فیصلہ پر پہونچتے؟ جنگ بدر کی صف بندی یاد کیجئے کہ محدالرول اللہؐ نے مسلمانوں کو کس انداز میں صف بند کیا ویسی صف بندی دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ زمانہ جاہلیت میں لوگ جنگ میں انفرادی مقابلہ کو اجتماعی مقابلہ کے بنسبت زیادہ پسند کرتے تھے لیکن اللہ کے رسولؐ نے صف بناکر ایک ساتھ لڑنے کو ترجیح دی، پہلے صف سیدھی ((Linear بنتی تھی لیکن آپﷺنے اس ترکیب سے گول صف بنوائی کہ ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑاتے ہوئے صف کے سب سے آخری سپاہی کو پہلے سپاہی کا ہاتھ اس طرح پکڑایاکہ سب کی پشت ایک طرف یعنی گول (circle)کے اندر کی طرف رہتے اور چہرہ باہر کی طرف۔ اس طرح جو گول صف بنی اس پر دشمن جس سمت سے حملہ کرتا اس سمت کوئی نہ کوئی سپاہی (صحابہؓ)مقابلے کی لئے ضرور موجود ہوتے۔ خلاصہ یہ ہیکہ پشت کی طرف سے حملہ کرنا ناممکن بن گیا۔ صف کی یہ ترتیب ہی ہے جس میں مسلمانوں کی کامیابی کا راز مضمر ہے۔ جنگ کا میدان ہو روز مرہ کی زندگی مسلمان محمد عربیؐ کے بتائے ہوئے طریقہ سے اسلام مخالف قوموں کے حربوں سے بچ سکتا ہے۔ قرآن کریم نے اسی صف بندی کو کچھ اس اندازمیں بیان کیا ہے واعتصمو بحبل للہ جمیعا و لا تفرقو ترجمہ: تمام اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ بازی مت کرو۔ یہاں اللہ کی رسی سے مراد کلمہ طیبہ بھی ہے جس کے بنیاد پر مسلمانوں کو متحدہونے کی دعوت دی جارہی ہے۔ مسلمانو ں کو بھول جانا چاہئے کہ وہ شیعہ ہے یا سنی، اہل حدیث ہے یا دیوبندی، بریلوی ہے یا وہابی مسلک حنفیہ سے تعلق رکھتا ہے یا کسی اور مسلک سے ، وہ جو کچھ بھی ہے سب سے پہلے مسلمان ہے۔ اور مسلمان قوم کو کتنا متحد و چاہئے ؟ اس حدیث پاک سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ المسلمون کجسد واحد ترجمہ: تمام مسلمان ایک جسم کے مانند ہیں۔ اختلافات تو ہر جگہ ہو تے ہیں لیکن اختلاف اور انتشار مفہوم کے اعتبار سے دو الگ الگ الفاظ ہیں ۔ اختلاف کا مطلب الگ رائے رکھنا جو کہ روز اول سے ہی جاری اور عین موافق فطرت انسانی ہے وہیں انتشار کا مطلب بدامنی ہے جو کسی بھی لحاظ سے قابل قبول نہیں۔ اختلاف سے کسی بھی بات کا منفی پہلو اجاگر ہوتا ہے جو کہ کسی بھی فیصلہ کا ایک جز ہوتا ہے۔ بہترین فیصلہ (Ideal decision ) اسی کو کہ سکتے ہیں جس کے اند مثبت اور منفی دونوں پہلووں کو نظر میں رکھکر کسی نتیجہ پر پہونچا جائے لیکن ہم اختلاف رائے کے اس پہلو سے کہیں نا کہیں فائدہ تبھی اٹھا سکتے ہیں جب ہمارے اندر اتفاق کا کوئی پہلو موجود ہو، ہمیں اس پہلو کو تلاش کرنا ہے۔ ملت اسلامیہ کی سب سے بڑی خوش قسمتی یہ ہیکہ آج بھی کلمہ طیبہ کی بنیاد پر متحد ہو کراقوام عالم سے آگے بڑھ سکتے ہیں۔ کیوں نہ ہم کلمہ طیبہ پر اتفاق کر کے شیر وشکر ہو جائیں اور دنیا وآخرت کی کامیابی کے حقدار ہوں جیسا کہ ارشاد ابانی ہے ۔ “تعالو الی کلمۃ سواء بیننا و بینکم” اور تمام اختلاف سے الگ ہٹ کر ایک ایک ایسے کلمہ کے بنیا د پر متحد ہو جائیں جو تمام مسلمانان عالم میں مشترک ہے اور “انا من المسلمین” کا نعرہ بلند کریں اور دنیا کو بتا دیں کہ ہم آج بھی صرف اور صرف مسلمان ہیں اور بس یہی ہماری پہچان ہے۔ بقول شاعر
ایک ہے سب کا خدا دین بھی قرآں بھی ایک کیا بری بات تھی ہوتے جو مسلماں بھی ایک
(بصیرت فیچرس)

You might also like