Baseerat Online News Portal

سوشل میڈیا:مثبت ومنفی پہلوؤںکاادراک ضروری

فضل رحمن رحمانی
ایشین اسکول آف میڈیا اسٹڈیز،نوئیڈا
جدید ٹیکنالاجی(Technology) اور برق رفتار عہد میں سوشل میڈیا یعنی سماجی میڈیا آپسی رابطہ کا مؤثر ترین ذریعہ بن چکا ہے۔موبائل میں بآسانی نیٹ کی سہولت دستیاب ہونے کے باعث خواندہ وناخواندہ دونوں طبقے سوشل میڈیا کا استعمال بڑی تعداد میں کرنے لگے ہیں لیکن بالخصوص نوجوان نسل کے ذہن و دماغ پر سوشل میڈیاجنون کی حد تک حاوی ہوچکا ہے ،دن بھر کی تھکاوٹ اور تکان کے باوجود نوجوان جب تک اس پر اپنا کچھ وقت بتا نہیں لیتے انہیں نیند نہیں آتی ۔ یہ سماج میں ہر شخص کو زیادہ سے زیادہ اظہارِرائے و آزادیِ اظہار کے مواقع فراہم کرتا ہے ۔یوں بھی کہاجاسکتاہے کہ میڈیا جمہوریت کاچوتھاستون ہے یعنی جس ملک میں آزادمیڈیاکا؎تصورعام نہیں ہے وہاں ایک صحت مند جمہوریت کی تعمیر ناممکن ہے ۔ایسے وقت میں سوشل میڈیاکونسبتاََزیادہ آزادی کی ملی ہے ۔اگرچہ ماضی کے مقابلہ میں موجودہ دور میں سوشل میڈیا نے ایک نیا انقلاب برپا کیا ہے اور انفارمیشن ٹیکنالاجی (Information Technology) بھی شانہ بہ شانہ عام ہوئی ہے ،ایک سکے کی طرح اس کے بھی دو پہلو ہیں ہم چت اور پٹ کے لغوی معنی کو مثبت اور منفی کہ سکتے ہیں گلوبل ولیج( village Global) یعنی عالمگیریت کی شکل اختیار کرتی دنیا میں اہم کردار ادا کرنے والا سوشل میڈیا آج مفکرین کی نظر میں ایک سوال بن چکا ہے جسکی بڑی وجہ زیادہ تر نوجوانوں کا اپنا قیمتی وقت سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس (social netwprking sites) پر گزارنا ہے۔
اس سوال کا جواب اسکے استعمال پر منحصر کرتا ہے کہ ہم اسکے مثبت پہلووں پر زور دے کر اسے اپنے لئے نفع بخش بناتے ہیں یا منفی استعمال سے خود کو ناکامی و گمراہی کی دلدل میں دھکیلتے ہیں، سوشل میڈیا میںسماجی رابطہ کی ویب سائٹس (Websites) اور ایپلیکیشنز(Applications) جیسے فیسبک، ٹوئیٹر، واٹس ایپ، گوگل پلس، انسٹا گرام وغیرہ شامل ہیں، سن 2015 کے ایک سروے میں ایک سنسنی خیز انکشاف ہوا کہ نوجوان ہر روز تقریباً نو گھنٹہ سوشل میڈیا پر صرف کرتے ہیں اور یہ وہ طبقہ ہے جسکی آبادی لگ بھگ 58 فیصد ہے ،نوجون کسی بھی قوم کا قیمتی سرمایہ ہوتا ہے، کسی بھی قوم کے مستقبل کا انحصار اسکے نوجوانوں پرہی ہوتا ہے ،کیوںکہ اس عمر میں انسان کی صلاحیتیں عروج پر ہوتی ہیں اورانھیں صحیح سمت میں استعمال کرناضروری ہوتاہے۔
ایسے حالات میں سوشل میڈیا کی خطرناکی پر آنسو بہانا، اسے برائیوں کا سرچشمہ قرار دینا، اس سے پیچھا چھڑانے کی نصیحت کرنا دور اندیشی کی علامت قطعاً نہیں ہوسکتی ،ہم لاکھ سر پیٹیں ،لیکن ہماری نئی نسل اس سے دور نہیں ہو سکتی اسلئے بہتر ہے کہ انہیں اسکے فوائد و نقصانات سے آگاہ کرایا جائے اور اسکے ذریعہ سرزد ہونے والی تمام برائیوں اور گناہوں سے بچنے کی تلقین کی جائے۔اگر سوشل میڈیاکے مثبت پہلو پر روشنی ڈالی جائے تو ہندوستان میں انا ہزارے، اروند کیجریوال اور پاکستان میں عمران خان اور مولانا طاہرالقادری کی تحریکوں کے علاوہ ملالہ کا چمکتا چہرہ اور دہلی میں اجتماعی زیادتی کا شکار ہوئی دامنی کی مقبولیت اور اسکے ذریعہ پیدا شدہ حالات کے علاوہ ہمارے ملک کے چھوٹے بڑے مسائل کے تئیںلوگوں کی آرا اور ان پر سنجیدہ اور مثبت روییوں پر مبسوط بحثیں بھی اسمیں شامل ہیں۔یہ رابطہ کا مؤثر اور سہل ترین ذریعہ تو ہے ہی ،ساتھ ہی ساتھ اسکے ذریعہ بندہ اپنا موقف دنیا کے کروڑوں لوگوں تک پہنچا سکتا ہے اس پر کاروباری، دینی،علمی،سیاسی تمام طرح کی معلومات بھی ہوتی ہیں اور طلبہ کی رہنمائی کیلئے معلومات بھی میسر ہوتی ہیں، کوئی بھی ایشو (Issue) یعنی مسئلہ دنیا کے سامنے پیش کرنے کیلئے یہ بہترین پلیٹ فارم ہے، کبھی تاجروں کو الیکٹرانک (Electronic) اور پرنٹ (print) میڈیا میں تجارت کو فروغ دینے کیلئے خطیر رقم خرچ کرنا پڑتی تھی، ابھی وہی لوگ نہایت کم لاگت میں سوشل میڈیا کے ذریعہ اپنی تجارت کو فروغ دے رہے ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالاجی کے اس دور میں سوشل میڈیا دن بدن لوگوں میں مقبول ہو رہا ہے جسکی بڑی وجہ اسکی جانب سے دئے گئے فیچرز ہیں جو زندگی کے ہر کام کو آسان سے آسان تر کرتے جا رہے ہیں آن لائن مارکیٹنگ نے خریدو فروخت کو سہل بنا دیا ہے آن لائن جابز، بینکنگ، ووٹنگ، ایجوکیشن ہر ایک پہلو اور شعبہ کو سوشل میڈیا نے گھیر لیا ہے، حد تو تب ہوئی جب فقیہ وقت حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی مدظلہ العالی نے اسلامک فقہ اکیڈمی کے پچیسویں سہ روزہ عالمی فقہی سیمینار کے موقع پر اپنے بیان میں برملا فرمایا کہ موجودہ حالات کے پیش نظر علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ غیر مسلم۔بھائیوں کے سامنے اسلام کی صحیح تصویر پیش کریں اور اسکے لئے سوشل میڈیا کا سہارا لینا وقت کی اہم ضرورت اور ایک دینی فریضہ ہے،
مگر ان تمام مثبت پہلوؤں کے ساتھ اس کے منفی پہلووں کا ادراک بھی ضروری ہے،کیوںکہ بیشتراوقات سوشل میڈیاکو استعمال کرنے والا نوجوان اس مایاجال میں اس قدر پھنس جاتا ہے کہ وہ سوشل میڈیا استعمال کرتے ہوئے بھی نان سوشل ہو جاتا ہے وہ اپنے ساتھ موجود لوگوں کے ساتھ ٹھیک طرح سے بات تک نہیں کرتا اور نہ ہی انکی بات ٹھیک سے سنتا ہے ۔پرائیویسی (Privacy) اور پاسورڈ (password) کے نام پر وہ دوسروں کی مداخلت سے آزاد ہوتا ہے، اسکی مرضی ہوتی ہے کہ وہ جس سے چاہے تعلق جوڑے اورجس سے چاہے توڑ دے ریسرچ سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ سوشل میڈیا کو حد سے زیادہ استعمال کرنے والا نوجوان حقیقی زندگی سے دورہو جاتا ہے ،اسکے مزاج میں غصہ اور چڑچڑاپن آ جاتا ہے، اسکو اپنے ارد گرد ہونے والے واقعات کی کوئی فکر نہیں ہوتی ،اسکی جسمانی نشوونما بھی متاثر ہوتی ہے، کیوںکہ وہ آؤٹ ڈور ایکٹیویٹی (Outdoor activity ) یعنی باہری سرگرمی سے دور ہوتا ہے۔
باطل مذاہب اور گمراہ فرقوں نے سوشل میڈیا کے سہارے دین کے بازار میں کھوٹے سکوں کو خوب خوب رائج کیا ہے اور کر رہے ہیں ،یہودو نصاریٰ اور متعصب ہندو تنظیموں نے اسلام کے خلاف شبہات پھیلانے میں کوئی دقیقہ نہیں چھوڑا ہے، انکی شرارت اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعہ مسلمانوں کی نئی نسل کے بیچ مختلف قسم کے شبہات پھیلاتے رہتے ہیں، تاکہ انکو اسلام سے بد ظن کر سکیں، فیس بک، ٹوئٹر، یوٹیوب اور بلاگ جیسی سوشل سائٹس کو انہوں نے شبہات سے بھررکھاہے ،فحاشیت کے پجاریوں نے بے حیائی،فحاشی،عریانیت اور رقص و سرود کے وہ گل کھلا رکھے ہیں کہ گویا وہ انسان نہیں، بلکہ درندہ سے بھی بدتر کوئی مخلوق ہیں،تفریح کے نام پر مسلمانوں کی نئی نسل کو گمراہ کرنے کی منظم پلاننگ ہو چکی ہے، صلیبی جنگوں میں جب نصاریٰ کو منہ کی کھانا پڑی ،تو انہوں نے عسکری جنگ کے بجائے فکری جنگ کیلئے پلاننگ شروع کر دی اوراس مقصد کو بروئے کار لانے کیلئے انہوں نے مستشرقین کی ایک کھیپ تیار کی، آج شبہات اور شہوات کی جو آندھی چل رہی ہے،یہ انہی مستشرقین کی دسیسہ کاریوں کا شاخسانہ ہے۔
آج پوری دنیا میں داعش نے جو جال بکھیرے ہیں اس سے سارے عالم کے مسلمانوں کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور یہی سوشل میڈیا انکا اہم ہتھیارہے۔انتہاپسندبڑے منظم انداز میں منصوبہ بندی کے ساتھ اسے محاذِ جنگ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، وہ اسے نظریاتی، علمی اور نفسیاتی ہتھیار کے طورپراستعمال کر کے بڑے خوشکن تصورات، خیالات اور دلائل سے نوجوان نسل کو متاثر کر رہے ہیں انکاطریقۂ کار یہ ہے کہ وہ نوجوانوں کے ذہنوں کو متاثر کر کے اپنی طرف مائل کرتے ہیں جبکہ نوجوان نہیں جانتے کہ یہ لوگ بھیڑ کی کھال میں بھیڑئے ہیں اور دوا کی شکل میں زہر بانٹ رہے ہیں ،نوجوان اپنی کم علمی، کم مائیگی، پیچارگی اور احساس محرومی کے سبب انتہا پسندوں کا محبوب ہدف ہیں اور بآسانی انکا شکار بن جاتے ہیں ۔
اب سوال یہ ہے کہ آخر یہ داعش ہے کیا؟ جس نے لوگوں کے دل و دماغ اور کئی ممالک کے علاقوں پر قبضہ کرنے کیلئے چوطرفہ لڑائی شروع کر رکھی ہے، جو بے پناہ مالی وسائل کے ساتھ انٹرنیٹ پر سوشل میڈیا کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔یہ انتہا پسند نام نہاد اسلامی گروپ ہے، جس نے پچیس ہزار (25000) غیر ملکی افراد کو شام اور عراق میں جنگ کیلئے آمادہ کر لیا ہے واٹر لو یونیورسیٹی (water loo university) کے محقق امر ناتھ امراسنگم کہتے ہیں کہ داعش کی سوشل میڈیا پر مہم نے لوگوں کے خیالات انتہا پسندی کی طرف موڑنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، اگرچہ بہت سی این جی اوز داعش کے پروپگنڈہ کا توڑ کرنے اور انہیں سوشل میڈیا پر جوابی پیغامات دینے کیلئے تربیت فراہم کر رہی ہیں، انہوں نے ایسی ویب سائٹس بنائی ہیں جو قرآنی آیات کا درست پس منظر میں ترجمہ اور وضاحت پیش کرتی ہیں ،ابھی حال ہی میں شہر حیدرآباد میں المعہد العالی الاسلامی میں تین روزہ سیرت سیمینار میں تین سو 300 علمائے کرام نے داعش کے خلاف ایک ہو کر مقابلہ کرنے کا عزم کیااور اسے غیر اسلامی قرار دیا۔
ہندوستان میںمسلمان ملک کی دوسری بڑی اکثریت ہونے کے باوجود تعلیمی،سماجی،سیاسی اور معاشی لحاظ سے دلتوں سے بھی بدتر ہیں مسلمانوں کی پسماندگی کی بڑی وجہ بھارتی حکومتوں سمیت دیگر سرکاری اداروں کا وہ متعصبانہ رویہ ہے، جو گزشتہ 67 سالوں سے مسلم طبقہ سے روا رکھا گیا ہے، آج 14 فیصد آبادی کے تناسب میں 22 فیصد مسلمان غیر قانونی طور پر سلاخوں کے پیچھے ہیں،ایک اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان میں بڑی تعداد میں مسلم نوجوان دہشت گردی کے جھوٹے الزامات کے تحت زیر حراست ہیں، جن کی جڑ معلوم کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ سوشل میڈیا پر کوئی چھوٹی موٹی حرکت ہی بہانہ بنی۔سرِدست آج ہمیں یہ غور کرنا اور سوچنا ہے کہ جب ہر فکر کے حاملین سوشل میڈیا کو استعمال کر کے اپنے مقاصد کی تکمیل کر رہے ہیں ،تو آفاقی دین کے حاملین نے اپنے دین کے محاسن اور آفاقیت کو فروغ دینے میں کیاکردار ادا کیا ہے، ہمیں سوشل میڈیا کو دعوت کے فروغ کیلئے نعمتِ غیر مترقبہ سمجھنا چاہئے ،شر کا مقابلہ خیر سے کرتے ہوئے اسکا استعمال خیر کے فروغ اور دعوت کے کاموں میں کرنا چاہئے ،اسلام کی عالمگیریت اور آفاقیت سے غیر مسلموں کو متعارف کرانا چاہئے ،بلا شبہ وہ تمام بھائی اور بہن قابل مبارکباد ہیں، جو سوشل میڈیاکااستعمال خیر کے فروغ میں کر رہے ہیں، ایسے لوگوں کو دیکھ کر انکے حق میں دعائیں نکلتی ہیں ،لیکن افسوس کہ ایسے لوگ بہت کم ہیں۔
انسان کی تحریر و تقریر اور حرکت و عمل اسکی فکر اور سوچ کا آئینہ ہیں ،حتیٰ کہ موت کے بعد بھی اسی سے اس کی پہچان ہوتی ہے۔بہت سارے فیس بک کے ایسے والزپرہیں جن پر فحش تصاویر نشر ہوتی ہیںحالاںکہ بہت باراس کا اکاؤنٹ ہولڈر دارِفانی سے رخصت ہو چکا ہوتا ہے تاہم اسکا وال موجود اوراس کی سوچ اور فکر کی ترجمانی کررہاہوتاہے، جی ہاں! ہم دنیا سے چلے جاتے ہیں ،لیکن ہماری یادیں خیر و شر کی شکل میں جاوداں ہوتی ہیں اور انہی کے ذریعے ہم جانے جاتے ہیں ۔ اسلئے جن احباب نے اب تک سوشل میڈیا کا استعمال ذہنی تفریح کیلئے کیا ہے، ان کو چاہئے کہ اپنی زندگی میں وقت کی قدر و قیمت کو سمجھیں اور اپنی تحریری یا تقریری صلاحیت کامظاہرہ تعارفِ اسلام کاصفحہ کھول کر، دینی باتوں اور اقوالِ زریں پر مشتمل آڈیو یا ویڈیو ریکارڈ کر کے اور قرآنی آیات اور احادیث نبویہ پوسٹ کر کے کریں۔ آئیے ہم عہد کریں کہ سوشل میڈیاکے ذریعے ہم خیر کے پیامبر بنیں گے اور برائیوں پر ہر ممکن روک لگانے کی کوسش کریں گے!۔
(مضمون نگار کارابطہ نمبر9971224394)
(بصیرت فیچرس)

You might also like