جہان بصیرتنوائے خلق

مولانا ندیم صدیقی صاحب کی جرأت کو سلام

مکرمی!
گزشتہ ۱۷؍ مارچ کو ممبئی ہائی کورٹ کی جانب سے ایک ایسا تاریخی فیصلہ صادر ہوا ، جس نے صوبۂ مہاراشٹر کے مسلمانوں کو اطمینان کا سانس لینے اور عزت و وقار کے ساتھ سر اٹھاکر چلنے کا موقع فراہم کیا، وہ فیصلہ تھا بیڑ کے رہنے والے ایک بے قصور نوجوان انجینئر مرزا حمایت بیگ کے ۱۶؍ مقدمات میں سے ۱۴؍ سے باعزت بری کئے جانے کا، اس نوجوان کو گزشتہ چار سال قبل پونہ جرمن بیکری بم دھماکہ کیس میں اے ٹی ایس نے کلیدی مجرم (ماسٹر مائنڈ) بتلاتے ہوئے گرفتار کر کے اس کے اوپر مختلف دفعات کے تحت ملک سے غداری اور انسانوں کے جان و مال کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے اور اس قسم کے مختلف دفعات کے تحت پونہ سیشن کورٹ میں مقدمہ چلا کر پانچ مرتبہ پھانسی اور چھ مرتبہ عمر قید کا فیصلہ گزشتہ تین سال قبل جاری کروایا تھا، اس فیصلے کے بعد مرزا حمایت بیگ کے گھر والوں کی نگاہوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا تھا، اور ان کے لئے پوری دنیا انتہائی تنگ اور تاریک ہوگئی تھی، اسی مایوسی کے عالم میں انھوں نے جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر محترم جناب مولانا ندیم صدیقی صاحب سے رابطہ قائم کر کے اس کیس میں ان سے مدد کی درخواست کی تھی، چنانچہ انھوں نے اپنے صوبائی ذمہ داران کے مشورے سے اس کیس کو ممبئی ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے اور آخری دم تک اس لڑائی کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا، انھوں نے اپنے مرکزی ذمہ داران حضرت مولانا قاری عثمان صاحب منصور پوری اور حضرت مولانا محمود مدنی صاحب کے مشورے سے ملک کے چوٹی کے وکلاء ایڈوکیٹ محمود پراچہ، ایڈوکیٹ تہور خان، ایڈوکیٹ عشرت خان وغیرہ پر مشتمل وکلاء کی ایسی ٹیم کی مدد حاصل کی، جنھوں نے پورے سلیقے اور ذمہ داری کے ساتھ پونہ سیشن کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے سامنے مرزا حمایت بیگ کی بے گناہی پورے ثبوت و شواہد کے ساتھ پیش کرتے ہوئے اس بے قصور کی رہائی کا مطالبہ کیا، چنانچہ ایک لمبے عرصے تک کورٹ میں چلنے والی طرفین کے وکلاء کی بحث کے بعد بالآخر ۱۷؍ مارچ کو ممبئی ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ نے حمایت بیگ پر ہونے والے پھانسی کے فیصلے کو رد کرتے ہوئے ۱۶؍ میں سے ۱۴؍ میں ان کو باعزت بری کیا، مرزا حمایت بیگ کا یہ مقدمہ صوبۂ مہاراشٹر کے مسلمانوں کے لئے خصوصاً اور تمام انصاف پسند ہندوستانیوں کے لئے عموماً ایک بہت بڑا چیلنج تھا جو اس قسم کے مقدمات میں گرفتاری سے انتہائی فکر مند اور تشویش میں مبتلا رہتے ہیں، اس لئے کہ اس قسم کے مقدمات میں کسی مسلمان کانام آجانے کے بعد فرقہ پرست طاقتیں اور ملک دشمن اور تمام تخریبی کارروائیوں میں شامل ہونے کا پروپیگنڈا کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف برادرانِ وطن کے درمیان نفرت بڑھانے کا ہتھیار بنا کر استعمال کرتے ہیں، لیکن خدا وند قدوس کا لاکھ لاکھ کرم ہوا اور جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے ذمہ داران کی کوشش رنگ لائی اور تین سالہ طویل محنتوں اور کوششوں کے بعد الحمدﷲ یہ فیصلہ سامنے آیا، جس نے پورے صوبے کے مسلمانوں کو اطمینان کی سانس لینے کا موقع فراہم کیا، میں جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر مولانا ندیم صدیقی صاحب کی جرأت مندانہ قیادت کو اور عزت مآب وکلاء کرام ایڈوکیٹ محمود پراچہ، تہور خان اور عشرت خان کی پرخلوص محبت کو سلام کرتا ہوں، اور توقع رکھتا ہوں کہ مسلمانوں کی یہ نمائندہ تنظیم آئندہ بھی اس قسم کی جرأتمندانہ اقدامات کر کے اپنی منصبی ذمہ داریوں کو انجام دیتی رہے گی آخر میں مولانا ندیم صدیقی صاحب کو اس شعر کے ذریعے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
تمنا آبر و کی ہو اگر گلزار ہستی میں
تو خاروں میں الجھ کر زندگی کرنے کی خو کرلے
مولانا محمد ساجد قاسمی(بھیونڈی)
موبائل:9730634145

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker