Baseerat Online News Portal

نظر کا آپریشن

مدثر احمد
ایڈیٹر روزنامہ آج کاانقلاب،شیموگہ،کرناٹک: 9986437327
تنظیمیں ،ادارے اور انجمنیں،یہ ہمارے سماج کے اہم حصہ ہیںاور ہمارا سماج ان اداروںو انجمنوں سے کئی ساری امیدیں رکھتا ہے۔انجمنوں و اداروں میں بھلائی کے کام انجام دینے کیلئے نہ صرف اس کے ذمہ دار اپنا مالی تعاون و وقت پیش کرتے ہیں بلکہ سینکڑوں مخیر حضرات اپنے مال و اسباب کی قربانی دیتے ہیں۔موجودہ دور میں مسلمان تعلیمی،روزگار و سماجی انصاف سے محروم ہوتے جارہے ہیں او رمسلمان یہ چاہتے ہیں کہ ان کا سہارا یہ تنظیمیں،ادارے و انجمنیں بنیں۔آجکل ہمارے پاس اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا جذبہ رکھنے والے ہزاروں طلباء موجود ہیں ،لاکھوں نوجوان بے روزگاری کا شکار ہیں، سینکڑوں بچے بیماریوں سے متاثر ہیں لیکن ان کی مالی امداد کرنے والے اداروں وتنظیموں کی تعداد مٹھی بھر ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے ادارے جب وجود میں آتے ہیں تو اپنے اغراض و مقاصد کی لمبی چوڑی فہرست لیکر میدان میں اترتے ہیں اور اس بات کادعویٰ کیا جاتا ہے کہ ہم امت مسلمہ کے ہر مسئلہ کو حل کرنے کیلئے آگے آئینگے۔ان کے اغراض ومقاصد کو دیکھ کر لوگ خوش ہوجاتے ہیںکہ چلو امت کا سہارا دینے کیلئے کام کررہے ہیں تو ایسے اچھے کاموں کیلئے ہمارا بھی تعاون ہونا ضروری ہے۔اس تعاون کیلئے لوگ اپنے چندے ،زکوٰۃ،فطرے یہاں تک کہ صدقے بھی دے دیتے ہیں۔لیکن جب ہر سال ان تنظیموں و اداروں کی کارگردگی کا جائزہ لیا جائے تو امیدسے کہیں دور پائے جاتے ہیں،ہماری یہ تنظیمیں قوم کا سہارا بننے کیلئے آگے آتی ہیںوہ ہر سال مفت ہیلتھ کیمپ،چند لڑکیوں کی شادیوں کیلئے معمولی رقم،چند بچوں کیلئے اسکولی کتابیں دے دیتے ہیں اور ہر سال جب موسم گرما کا موسم آتا ہے تو سُنت ابراہیمی کی کروانے کا مقابلہ چلتا ہے۔ہر ایک تنظیم و ادارے کی جانب سے اعلان کروایا جاتا ہے کہ ہماری تنظیم کی جانب سے مفت سُنت ابراہیمی کروائی جائیگی۔اس کیلئے جو لوگ اپنے نام درج کرواتے ہیںاُن میں زکوٰۃ لینے کے مستحق بھی ہوتے ہیں توکچھ لوگ خود زکوٰۃ دینے کے مستحق بھی ہوتے ہیں۔ایسے میں قوم کا مال ضائع ہوجاتا ہے۔سُنت ابراہیمی کروانا غلط نہیں ہے ،لیکن جو طریقہ اپنایا جارہا ہے وہ غلط ہے۔جو ماں باپ اپنے بچے کی پیدائش نجی اسپتالوں میں ہزاروں روپئے دیکر کرواتے ہیں کیاان ماں باپ کیلئے زندگی میں ایک بات کروائی جانے والی سُنت ابراہیمی اتنی مہنگی ہوجاتی ہے کہ ادارے اس کیلئے اسپانسرشپ کرے۔ایک طرف سُنت ابراہیمی پر اداروں کا پیسہ خرچ کیا جاتاہے تودوسری طرف بچیوں کی شادی کیلئے بھی بڑے پیمانے پر رقم خرچ کی جاتی ہے۔ویسے دیکھا جائے تو اسلام میں شادی کو سادی طریقے سے انجام دینے کا حکم دیا گیا ہے لیکن آج ہم اپنے باپ دادا کی روایتوں کاحوالہ دیکر،سماج کی اونچ نیچ کابہانا بنا کر شادیوں کو میلے کی طرح انجام دے رہے ہیں۔جس میں شرعی وغیرشرعی دونوں حرکتیں انجام دی جارہی ہیں۔کیا یہ اچھا ہوتا کہ ہم اپنے اغراض ومقاصد کی سوچ بدلتے۔موجودہ دور میں ہماری قوم کو اگر ہمیں مستحکم و کسی کامحتاج نہ بنانا ہوتو قوم کو تعلیمی پسماندگی سے باہر لانا ہوگا۔بچیوں کو تعلیم یافتہ بنا کر انہیں روزگار کے مواقع دئیے جائینگے تو ان کی شادیاں سادی ہونے لگیں گی اور اپنی شادیوں کیلئے کسی ادارے کو عرضی دینا نہیں چاہیں گی۔اسی طرح سے اگر غریب لوگ ہیں اور ان کے بچوں کی سُنت ابراہیمی کروانی ہے تو اس کیلئے بھی ہمیں چندہ دینے کی ضرورت نہیں۔غریب کی غربت دور کرنے کیلئے روزگار کے مواقع فراہم کئے جائیں تو وہ خود اپنے بچوں کی ضروریات پورے کرسکتے ہیں۔آج قوم کو ختنہ و شادی کیلئے چندوں کی ضرورت نہیں بلکہ اعلیٰ تعلیم کی مدد کی ضرورت ہے۔جب ہم اپنے بچوں کواعلیٰ تعلیم دلوائینگے اور ان کے روزگار کیلئے ٹرائننگ سینٹرس بنائے جائینگے،سرکاری ملازمتوں کو حاصل کرنے کیلئے انہیں تربیت دی جائیگی اور کامیاب ہوجائینگے تو انہیں کسی کے سہارے کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ وہ خود دوسروں کاسہار ا بن سکتے ہیں۔آج ہمیں اپنی سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے او ریہ سوچ اسی وقت بدل سکتی ہے جب ہم دنیا کے موجودہ حالات کو گہرائی کے ساتھ دیکھیں۔تحریر کو ختم کرنے سے پہلے سوچ کے تعلق سے ایک واقع بیان کرنا چاہیں گے۔۔۔ایک چھوٹا سا بچہ اپنے دونوں ہاتھوں میں ایک ایک سیب لے کر کھڑا تھا۔اس کے پاپا نے مسکراتے ہوئے کہا کہ’’بیٹا ایک ایپل مجھے دے دو‘‘اتنا سنتے ہی اس بچے نے ایک ایپل کو دانتوں سیکتر لیا۔اس کے پاپا کچھ بول پاتے اس کے پہلے ہی اس نے اپنے دوسرے ایپل کو بھی دانتوں سے کتر لیا۔اپنے چھوٹے بیٹے کی اس حرکت کو دیکھ کر باپ ٹھگا سا رہ گیا اور اس کے چہرے پر مسکراہٹ غائب ہو گئی تھی ۔۔تبھی اس کے بیٹے نے اپنے ننھے ہاتھ آگے کی طرف بڈھاتے ہوئے پاپا کو کہا۔۔۔’’پاپا یہ لو۔۔ یہ والا زیادہ میٹھا ہے۔شاید ہم کبھی کبھی پوری بات جانے بغیر نتیجے پر پہنچ جاتے ہیں ۔کسی نے کیا خوب لکھا ہے۔نظر کا آپریشن تو ممکن ہے،پر نظریہ کا نہیں ۔۔!!!فرق صرف سوچ کا ہوتا ہے ۔۔ورنہ وہی سیڑھیاں اوپر بھی جاتی ہے، اور نیچے بھی آتی ہے ۔
(بصیرت فیچرس)

You might also like