اسلامیاتمضامین ومقالات

عورت کو کمال اوج جو خدا نے دیا

السبیل یسرہ (کراچی)
آج عورت جو سر بازار نظر آتی ہے یہ وہ عورت نہیں ہے جس کو اللہ نے بلند مرتبہ اس وقت دیا کے جب جہالیت میں وہ پاوں کی جوتیوں کے برابر سمجھی جاتی تھیں۔ اور ستم تو یہ کہ مخصوص دنوں میں بالکل اچھوت سمجھی جاتی تھی گھر کے کسی کام کو ہاتھ لگانے کی اسے اجازت تک نہیںتھی۔ اگر بیوہ ہو جاتی تو بد قسمتی کے دروازے مزید وا ہو جاتے تھے۔ اس کا وارث اگر چاہتا تو شادی کرتا اور اگر نہ چاہتا تو نہ کرتا اگر اس کا دل چاہتا کہ جائیداد باھر نہ چلی جائے تو خود ھی نکاح پڑھا کر اپنی زوجیت میں قبول کر لیتا۔
کیا کیا نہ ستم کھائے ہم نے
اس پاداش میں کہ عورت ہوں میں
لیکن دین اسلام نے عورت کو وہ ضیاء بخشی کہ اپنے رتبے پر جتنا ناز کرنا چاہے کم تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب حضرت صفیہ رضی اللہ سے نکاح کیا تو وہاں موجود صحابہ اکرام نے دیکھا کے آپ نے اپنا پاؤں بچھایا اور ہاتھ تھام کر آپ حضرت صفیہ رض کو اونٹنی پر سوار کیا ، کل تک جو پاؤں کی جوتی سمجھی جاتی تھی آج اس کے پاؤں اس عظیم ہستی کو چھو رہے تھے جو امام کائنات ہیں ۔
آج ہم عورتیں اپنا مقام اپنا معیار اپنی حقیقت اور اپنی حیثیت سب کچھ بھول چکی ہیں، جس عورت کی تاریخ اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فاطمہ الزہراء رابعہ بصری جیسی عظیم ترین ہستیوں سے مزین ہے وہ آج اپنی بربادی کے سامان ازخود پیدا کررہی ہے، آزادی اور آزادی نسواں کے نام پر عورتوں کو سر بازار لاکر کھڑا کردیا گیا ہے، حالانکہ عورت وہ مقدس اور بابرکت ذات ہے جسے اسلام نے گھر کی ملکہ قرار دیا ہے، جس کے پاؤں تَلے جنت بسائی گئی ہے، جس کی ناراضگی کو خدا کی ناراضگی کہا گیا ہے، لیکن افسوس کہ آج نام نہاد ترقی یافتہ یورپ کی اتباع میں ہم مسلم عورتوں نے بھی اپنا سب سے قیمتی زیور ضائع کردیا ہے، بنت حوا جو بیٹی، بہن، ماں اور بیوی جیسے مقدس رشتوں سے سجائی گئی تھی آج وہ فرائیڈے گرل، گرل فرینڈ جیسے الفاظ سے پکاری جارہی ہے، جس کی گود کو پہلی درسگاہ قرار دیا گیا ہے آج وہ اپنے نوزائیدہ بچوں کو چھوڑ کر بیوٹی پارلر اور سنیما گھروں کے چکر لگا رہی ہے، جسے رات دن قرآن و حدیث کی تلاوت و مطالعہ میں رہنا تھا اب فلمی نغموں اور میگزین میں وقت لگ رہا ہے، ناچ گانے ہم عورتوں کی زندگی کا حصہ بن چکے ہیں پھر بھی ہمیں شکایت ہے کہ اب ہماری کوکھ سْونی ہوگئی ہے اب ہماری کوکھ سے خالد بن ولید، محمد بن قاسم، موسی بن نصیر اور طارق بن زیاد جیسے اسلام کے جیالے کیوں پیدا نہیں ہورہے ہیں، تو یاد رکھو طبلے کی تھاپ پر، سارنگی کی کیں کیں پر ناچنے والے بدن سے اسلام بیزار اور دہریہ نہیں جنم لیں گے تو اور کیا؟
یقین مانئے آج اگر ہم نے ہوش کے ناخن نہیں لئے تو وہ دن دور نہیں جب اسلام مکمل طور پر ہماری زندگی سے نکل چکا ہوگا، اسلئے ابھی بھی وقت ہے کہ اپنے عہد زریں کا مطالعہ کریں اور یہ جانیں کہ دنیا میں اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جس پر عمل پیرا ہوکر دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے، عورتوں کی اس تباہی و بربادی میں عورت ذات تنہا نہیں ہے بلکہ مرد بھی اس کے شانہ بشانہ کھڑے ہوئے ہیں، گھر کا ذمہ دار اللہ نے مردوں کو بنایا ہے، یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ اگر گھر کی عورتیں بے راہ روی کا شکار ہورہی ہے تو انہیں متنبہ کرے، ورنہ بروز قیامت اس سلسلہ میں بھی پوچھ ہوگی کہ تمہیں ذمہ دار بنایا گیا تھا تم نے وہ ذمہ داری بخوبی نبھائی کہ نہیں ، اسلام نہ تو عورتوں کی تعلیم کا مخالف ہے اور نہ ہی ان کی ترقی کے خلاف ہے بلکہ اسلام اپنے ماننے والوں کو حکم دیتا ہے کہ جو کام بھی کرو وہ حدود شرع میں رہ کر کرو، اسلام نے عورتوں کو پردہ کا حکم دیا ہے، اور پردہ ہر حال میں ضروری ہے، کالج ہو یا یونیورسٹی کہیں بھی محض حصول علم کے نام پر بے پردہ رہنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے عورت اگر ماں ھے تو رابعہ بصری ہے، عورت اگر بیٹی ہے تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہاہے، بیوی ہے تو حضرت خدیجہ ؓ، اسلام نے بیشمار بنت اسلام پیدا کی ہیں اگر ایک ایک کی سوانح اٹھا کر پڑھی جائیں تو آج کی عورت شرم سے ڈوب مرے گی کہیں منہ چھپانے کو بھی جگہ نہیں ملے گی ۔ آج ہم عورتیں اپنا مقام اپنا کردار اپنا معیار سب کھو بیٹھی ھیں اسی لیے ھم آج نہ خالد بن ولید پیدا کر سکتی ھیں اور نہ ہی محمد بن قاسم ۔ ھم نے اپنا وقار بے پردگی کی کرکے بازاری عورت کا روپ دھار چکی چکی ہیں اس لئے ھم لٹیرے ، چور ، ڈاکو ، حرام خور ،سود خور جیسے جوان پیدا کر رہے ہیں۔ تاریخ کے اوراق الٹ کر دیکھیں تو عورت آسمان کو چھوتی ہوئی نظر آتی ہے ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کا مدینے کے فقہامیں شمار ہوتا تھا مرد تک آکر آپ سے مسائل پوچھا کرتے تھے وہ بھی تو عورت تھیں ، عورت کے پردے کا اہتمام اتنا تھا کے کوئی ناخن تک نہیں دیکھ سکتا تھا ۔ پردے کے احکام اترے تو لوگوں نے دیکھا کہ اس رات گھروں میں چراغ روشن تھے جب پوچھا گیا تو بتلایا گیا کے عورتیں گھروں میں اپنے دوپٹے تیار کر رہی ہیں کہ رسول خدا ﷺ کا حکم ھے اور اللہ نے پردے کے بارے میں آیات اتاری ہیں اس لئے ہم اپنی چادریں سی رہی ھیں کہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی نہ ھو جائے اور آج کھیل کے میدان میں اسلام کی بیٹی پردے سے بے نیاز مردوں کے شانہ بشانہ چوکے اور چھکے لگاتی نظر آتی ھے ۔ تف ہے ھم مسلمان عورت پر پیسے کے لئے اپنی عزتوں کو گروی رکھ چھوڑا ہے ۔چادر اور چہاردیواری کے تقدس کو آج کی عورت کے کردار نے پامال کر دیا ، اس بے حیائی میں سب کچھ عورت ہی ہے بلکے گھر کا مرد بھی شامل ھے اسی لیئے حدیث میں ہے ایک عورت چار مردوں کو اپنے ساتھ جہنم میں لے جائیںگی ۔ بیٹی باپ کو، بیوی شوھر کو، بہن بھائی کو، ماں بیٹے کو۔ یہ روز قیامت پوچھیں گی کے ھم جب بے پردہ تھے بازاروں میں گھومتے تھے غیر مردوں کے سامنے جاتے تھے تو ، ھمارے گھر کے مردوں نے ہمیںکیوں نہیںروکا ، کیوں ھم پر سختی نہیںکی گئی، ، کیوں ھم کو اسلام نہیںسکھایا گیا۔ وقت بہت آگے نکل چکا ھے اب کوئی اس بگڑے ہوئے معاشرے کو سدھارنے نہیں آئے گااگر ھم عورتیں چاھتی ہیں کے اللہ کے سامنے سرخ رو ہوں تو ھمیں پلٹ کر ماضی میں جانا ھو گا اسلام اپنے اندر لانا ھو گا ۔ اسلام کی تعلیمات کو اپنے اوپر نافذ کرنا ھو گا اپنا گھر اسلام کا نمونہ بنانا ھو گا تاکہ معاشرہ بھی سنور سکے ۔ اگر قرآن و حدیث کو نہ تھاما تو وہ دن دور نہیں جب عورت کو پھر سے پاؤں کی جوتی سمجھاجانے لگے اور عزت تار تار ھونے لگے ، ھمیں کو خود سنبھالناھو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورت کو بلند مقام عطا فرمایا اور اللہ فرماتا ہے عورتوں سے کہہ دو کہ کسی کام سے گھر سے نکلیں تو اپنے چہروں پر پردہ ڈال لیں تاکہ ان کی عزت کی جائے۔ اگر ہم اسلامی شعائر کو اپنا کر مکمل اسلام پر عمل پیرا ہوجائیں یہود ونصاریٰ کی تہذیب کو پرے چھوڑ کر اپنے آپ میںسدھار لائیں تو ضرور ہماری کوکھ سے اسلام کے جیالے پیدا ہوں گے جو اقصیٰ کی بازیابی بھی کریں گے اور فلسطین کے مسلمانوں کی دادرسی بھی۔ جو برما میں جاکر مسلمانوں کا ہاتھ بھی بٹائیں گے اور شام میں امام ومہدی و عیسیٰؑ کے انصار بھی ثابت ہوں گے۔ انشاء اللہ۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker