Baseerat Online News Portal

سعودی عرب:طلاق سے پہلے دیاگیاتحفہ واپس نہیں ہوگا،عدالت نے خاوندکی درخواست مستردکردی

آن لائن نیوزڈیسک
سعودی عدالت نے مطلقہ سے 50 لاکھ ریال مالیت کا تحفہ واپس دلانے کا سعودی خاوند کا مطالبہ مسترد کر دیا۔
عکاظ اخبار کے مطابق مقامی شہری نے آن لائن مقدمہ پیش کرتے ہوئے عدالت سے درخواست کی کہ اسے اس کی مطلقہ سے پچاس لاکھ ریال مالیت کا وہ بنگلہ واپس دلایا جائے جو اس نے رشتہ زوجیت کو قائم رکھنے اور بیوی کے ہنگاموں سے جان چھڑانے کے لیے اسے تحفے کے طور پر پیش کیا تھا۔
سعودی شہری نے بتایا کہ 30 برس قبل اس کا نکاح ہوا تھا۔ بیوی بہت زیادہ جھگڑالو تھی۔وقت بے وقت لڑتی رہتی تھی۔ اس نے بیوی کے شر سے بچنے کے لیے اسے شہر کی پوش کالونی میں بڑے رقبے پر تین منزلہ بنگلہ تحفے کے طور پر دیا جس کی قیمت پچاس لاکھ ریال سے زیادہ کی ہے۔ تحفے کا واحد مقصد یہ تھا کہ ہم دونوں کی زندگی خیر و خوشی سے گزرے۔
شوہر نے عدالت کے سامنے اپنے مطالبے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس نے بنگلہ کسی مالی معاوضے کے بغیر بیوی کو پیش کیا تھا۔ اس کی غرض یہ تھی کہ مرنے کے بعد اس کے بچوں کو اچھا سائبان نصیب رہے۔
شوہر نے توجہ دلائی کہ بیوی نے اس قدر قیمتی بنگلے کا مالک بنائے جانے کے باوجود اپنے طور طریقے نہ تبدیل کیے- لڑائی جھگڑے کا سلسلہ شروع کر دیا اور بالاخر نوبت طلاق تک پہنچ گئی۔اتنا ہی نہیں وہ طلاق کے بعد بھی لیبر کورٹس کے سامنے میرے خلاف مختلف قسم کے فرضی مقدمات دائر کرتی رہتی ہے۔ اب میں چاہتا ہوں کہ میں نے اسے جو بنگلہ رشتہ زوجیت کو بچانے اور باہمی تعلقات بہتر بنانے کی غرض سے دیا تھا وہ مجھے واپس دلایا جائے کیونکہ تحفے کا جو مقصد تھا وہ پورا نہیں ہوا۔
مطلقہ نے اعتراف کیا کہ ’نکاح اور طلاق کی جو بات شوہر نے اپنے دعوے میں کہیں وہ درست ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ وثیقہ نویسی کے ادارے نے جو دستاویز جاری کی ہے اس میں یہ بات صاف ہے کہ بنگلہ تحفے کے طور پر دیا گیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ بنگلہ میاں بیوی کے رشتہ زوجیت کے درمیان مالیاتی حقوق اور تنازعات طے کرنے کے لیے دیا گیا تھا۔لہذا میں بنگلہ واپس نہیں کروں گی وہ میری ملکیت ہے اور اس نے وہ مجھے برضا و رغبت دیا تھا میری طرف سے کوئی زور زبردستی نہیں تھی۔‘
عدالت نے مطلقہ کا موقف درست تسلیم کرتے ہوئے مقدمہ خارج کر دیا۔

You might also like