Baseerat Online News Portal

بزرگ فلسطینی عالم دین پر اسرائیلی وحشی جلادوں کا وحشیانہ تشدد

آن لائن نیوزڈیسک
قابض اسرائیلی پولیس کے نام نہاد "قطری اینٹی کرپشن اینڈ آرگنائزڈ کرائم یونٹ – لاھف 433 نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے اندر اللد شہر میں واقع جامع مسجد کے امام 63 سالہ الشیخ یوسف الباز کو گرفتار کرکے ان سے تفتیش شروع کی ہے۔ ان پر جمعہ کے خطبوں میں عوام کو اسرائیل کے خلاف نفرت پر اکسانے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔ ذرائع سے پتا چلا ہے کہ بزرگ فلسطینی عالم دین کو دوران حراست ایک بدنام زمانہ عقوبت خانے میں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔یہ تفتیش 19 جولائی 2021 کو عید الاضحی کے خطبہ کے دوران "تشدد اور دہشت گردی پر اکسانے” کے الزام میں شروع کی گئی ہے۔الباز کالعدم اسلامی تحریک کے ایک اہم رہنما ہیں، جس کی سربراہی شیخ راید صلاح کر رہے ہیں۔الشیخ الباز اللد میں فلسطینیوں کے حقوق کا دفاع کرنے اور ان کی وکالت کرنے کے لیے پہلےبھی آواز بلند کرچکے ہیں۔الباز نے ایک پریس بیان میں کہا تھا کہ تین تفتیش کار جنہوں نے تقریباً چار گھنٹے تک اس سے پوچھ گچھ کی۔ اسرائیلی تفتیش کاروں نے الزام لگایا کہ گذشتہ سال عید الاضحی کے مبارک خطبہ کے دوران اشتعال انگیزی ،تشدد اور دہشت گردی پر اکسایا تھا۔اس کے جواب میں الشیخ الباز نے کہا ان کے دعوے کے مطابق اشتعال میرے خطبہ میں کہنے سے آیا۔ ہم اپنی جانیں قربان کر دیں گے اور ہم مسجد اقصیٰ کو نہیں چھوڑیں گے۔بات جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تفتیش کرنے والوں نے مجھ سے پوچھا کہ اپنی جان قربان کرنے کا کیا مطلب ہے؟ تو میں نے ان کو جواب دیا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ قابض ریاست نے ہم پر کتنا ہی ظلم کیوں نہ کیا ہو، اور ہمارے ساتھ کتنا ہی ظلم کیوں نہ کیا گیا ہو ہم اس سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ مسجد اقصیٰ ہماری ہے اور اس میں یہودیوں کا کوئی ذرہ بھر بھی حصہ نہیں ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ مجھ سے پوچھا گیا کہ آپ نے کہا کہ میں اسرائیل کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ مسجد اقصیٰ کے خلاف اپنی جارحیت بند کرے۔ ورنہ یہ دنیا کے نقشے سے مٹ جائے گی؟۔ میں نے جواب دیا کہ میں اب بھی اس پر اصرار کرتا ہوں۔ تفتیش کار نے جواب دیا کہ ایسا کرکے آپ اسرائیل کی ریاست کو اس کے خاتمے کی دھمکی دیتے ہیں۔الباز نے کہا کہ انہوں نے تفتیش کار کو جواب دیا کہ آپ کے الفاظ آپ کی طرف واپس آ گئے ہیں۔ مجھے پوری طرح یقین ہے کہ سلطنتیں اسرائیل سے ہزاروں گنا مضبوط تھیں اور یہ سلطنتیں دنیا کے نقشے سے اس لیے غائب ہو گئیں کہ وہ ناانصافی کرتی تھیں۔8 جولائی 2021 کو قابض پولیس کے پبلک پراسیکیوشن نے الباز کے خلاف اللد  مرکزی عدالت میں فرد جرم جمع کرائی جس میں ان پر مبینہ طور پر "تشدد، دہشت گردی اور دھمکیوں پر اکسانے” کا الزام عاید کیا گیا تھا۔

You might also like