Baseerat Online News Portal

امریکہ میں پولس افسرکی گولی سے سیاہ فام کی موت،مقامی لوگوں میں اشتعال،مظاہرے

آن لائن نیوزڈیسک
افریقی امریکی سیاہ فام غیر مسلح جیسن واکر کی پولیس افسر جیفری ہیش کی گولی سے موت کے بعد اس ہفتے فائٹے ویلے میں مقامی لوگوں نے کئی چھوٹے مظاہرے کیے جبکہ انسانی حقوق کے معروف وکیل بنجامن کرمپ اور متوفی کے خاندان نے شہر میں آج "انصاف ریلی” کا اعلان کیا ہے۔
پولیس کے ہاتھوں ایک اور سیاہ فام شخص کی ہلاکت کے بعد امریکا میں بالخصوص اقلیتوں کے خلاف پولیس کی مبینہ زیادتیوں پر ایک بار پھر بحث چھڑ گئی ہے۔ جیفری ہیش سن 2005 سے پولیس میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ لیکن ہفتے کے روز سیاہ فام جیسن واکر جس وقت ان کی گولی کانشانہ بنے اس وقت ہیش اپنی ڈیوٹی پر نہیں تھے۔
جیفری ہیش اپنی گاڑی میں اپنی بیوی اور بیٹی کے ساتھ جا رہے تھے کہ 37 سالہ غیر مسلح سیاہ فام واکر ان کے والدین کے گھر کے قریب کی سڑک پار کرنے لگا۔ ہیش نے چند ہی لمحے بعد واکر پر گولی چلادی اور جائے واقعہ پر ہی ان کی موت ہو گئی۔
تاہم اس پورے واقعے پر ایک تنازع بھی پیدا ہوگیا ہے۔
ایک راہگیر نے فائرنگ کے فوراً بعد اس واقعے کی ویڈیو بنالی تھی اور اسے آن لائن پوسٹ کردیا، جس میں پولیس افسر اپنے ساتھیوں کو یہ بتاتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں کہ واکر سڑک کے بیچوں بیچ کود پڑے تھے۔ جس کے بعد انہوں نے واکر کو ہٹ جانے کے لیے کہا۔
ہیش کے مطابق واکر نے خود کو گاڑی پر گرا دیا، اس کی ونڈ شیلڈ کا ایک وائپر توڑ دیا اور اس سے ونڈ شیلڈ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ جس کی وجہ سے ہیش کو اپنی بیوی اور بیٹی کو بچانے کے خاطر ہتھیار نکالنا پڑا۔
دوسری طرف عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ہیش نے گاڑی روکنے سے قبل واکر کو ٹکر ماری تھی۔
ایلزابیتھ رکس نامی ایک عینی شاہد کا کہنا تھا، "میں نے ہیش کو جیسن واکر کو ٹکر مارتے دیکھا…جس کے بعد ان کا جسم ونڈ شیلڈ سے ٹکرا گیا۔”
رکس کا مزید کہنا تھا کہ اس کے بعد انہوں کے گولیوں کی آوازیں سنیں۔ "میرے خیال میں انہوں نے پہلی گولی ونڈ شیلڈ کے ذریعہ ماری اور پھر تین مزید گولیا ں گاڑی سے باہر نکل کر چلائیں۔”
پولیس کے مطابق ہیش کے سیاہ رنگ کے پک اپ ٹرک پر ٹکر کا کوئی نمایاں نشان نہیں ہے جب کہ واکر کے جسم پر گولیوں کے زخم کے علاوہ کسی اور طرح کے نشانات نہیں ہیں۔
مذکورہ پولیس افسر کو چھٹی پر بھیج دیا گیا ہے لیکن ان پر کوئی الزام نہیں لگایا گیا ہے اور نہ ہی گرفتار کیا گیا ہے۔ تفتیش کاروں نے قتل کے واقعے کی انکوائری شروع کر دی ہے۔
اس دوران ایک مقامی عدالت نے نارتھ کیرولائینا کے پولیس سربراہ کی اس درخواست کو منظور کرلیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ فائرنگ کے اس واقعے کی باڈی کیمرا ویڈیو ریکارڈ کو جاری کرنے کی اجازت دی جائے۔
انسانی حقوق کے وکیل بنجامن کرمپ نے کہا کہ متاثرہ کا خاندان اور فائٹے ویلے کی وسیع تر برادری اس سوال کے جواب کا مطالبہ کررہی ہے آخر واکر کو ایک پولیس افسر نے "اتنی بے رحمی سے گولی مار کر کیوں ہلاک کردیا”جبکہ وہ ڈیوٹی پر بھی نہیں تھے۔
انہوں نے ایک بیان میں کہا،”ہمارے پاس اس بات پر یقین کرنے کے خاطرخواہ اسباب موجود ہیں کہ یہ ‘پہلے گولی مارو پھر پوچھو’ کا کیس ہے۔
بنجامن کرمپ نے ہی جارج فلائیڈ کیس میں ان کے کنبے کی عدالت میں نمائندگی کی تھی۔اب وہ واکر کا کیس بھی لڑیں گے۔ واکر ایک 14سالہ بیٹے کے باپ تھے۔
کرمپ کا کہنا تھا، "امریکا میں سیاہ فام بچوں کے بغیر باپ کے پرورش و پرداخت کے بہت سارے اسباب ہیں۔ لیکن یہ (گولی مارنے کا) سبب قابل قبول نہیں۔ یہ ناقابل قبول ہے کہ ہم ان نوعمر بچوں کو یہ بتائیں کہ ان کے والد کو بلا ضرورت، غیر منصفانہ اور غیر آئینی طورپر کسی ایسے شخص نے گولی مار کر ہلاک کردیا تھا جس پر ان کی حفاظت اور خدمت کرنے کی ذمہ داری تھی۔”
امریکی پولیس افسران کے ہاتھوں امریکا میں ہر سال اوسطاً ایک ہزار افراد مارے جاتے ہیں۔ ان میں اکثریت سیاہ فاموں کی ہوتی ہے۔
ایسے معاملات میں پولیس کو شاذ و نادر ہی سزا ہوتی ہے۔ حالانکہ سن 2020میں جارج فلائیڈ کیس کے بعد بڑے پیمانے پر نسل پرستی مخالف مظاہروں کے بعد عدالتوں میں کچھ تبدیلیاں نظر آ رہی ہیں۔ اور بعض کیسز میں خطا کار پولیس اہلکاروں کوسزا بھی ملی ہے۔

You might also like