Baseerat Online News Portal

کیا تنہا اویسی ہی ووٹوں کی تقسیم کے ذمہ دار ہیں ….؟

کیا تنہا اویسی ہی ووٹوں کی تقسیم کے ذمہ دار ہیں ….؟

🖋️از : محمد عظیم فیض آبادی دارالعلوم النصرہ دیوبند
9358163428
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
مولانا نعمانی کے خط کے تناظر میں
ـــــــ ـــــــ ـــــــ ـــــــ ـــــــ ـــــــ
یہ خط اور مخلصانہ مشورہ
سوشل میڈیاکی نظر کرنے کے بجائےاگر براہ راست اویسی صاحب کو بھیجا جاتا تو امید تھی کہ اس کے دور رس نتائج ہوتےسوشل میڈیا پرآنے کی وجہ شدید خطرہ ہے کہ اویسی کمزور ہو کرفرقہ پرست طاقتوں کو مضبوطی ملے گی
کیونکہ اس کی وجہ سے اس وقت اویسی کے لئے قوم کے جو جزبات ہیں اور تیزی سے اویسی کی بڑھی ہوئی مقبولیت کی وجہ سے فرقہ پرست طاقتوں کے ساتھ ساتھ نام نہاد سیکولرطاقتیں ابھرتی ہوئی مسلم قیادت کو فناکے گھاٹ اتارنے کے فراق میں ہیں کیونکہ مسلم قیادت کی مضبوطی سے ان کاجو سیاسی نقصان ہونے والا ہے اس کی تلافی کی پھر کوئی سبیل ان کے پاس نہیں ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ اویسی نے نہ صرف اترپردیش میں بلکہ ملک کے مختلف صوبوں میں متبادل کے طور پر مسلم قیادت کا ایک مضبوط پلیٹ فارم مسلم امہ کو دیا ہے اورملک کی تمام بڑی پارٹیوں کے ساتھ اویسی اور ان کی پارٹی کا نام اب ہر مور پر ضرور لیا جاتاہے
ستر سالوں سے مسلم امہ کو صرف ووٹ بنک کے طور پر استعمال کرکےان کا سیاسی استحصال کیا گیا، یہ بات بھی طے ہے کہ دیگرسیکولر کہی جانے والی پارٹیاں اتر پردیش میں مسلمانوں کے ووٹ کے بغیر اکثریت کے آنکڑا نہیں چھو سکتیں، اور اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ سیاسی قوت کے بغیر نہ یہ استحصال ختم ہوگا اور نہ ہی مسلمانوں کے ساتھ ہونے والا ناروا سلوک بند ہوگا، نہ مسلمانوں کو سیاست میں حصے داری ملے گی نہ ہی کوئی قابل قدر سیاسی مقام، نہ ہی اس کے بغیر معاشی بدحالی دور ہوگی، اور نہ ہی نوکریوں اور مختلف شعبہ جات میں کوئی مناسب نمائیندگی ملنے والی ہے، اور سیاسی قوت اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتی جب تک کہ ہمت وحوصلہ کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرکے سیاست کی دشوار گزار وادیوں کو عبور نہیں کیا جاتا، اور یہ نہ دوچار لوگوں کا کام ہے اور نہ ہی دوچار دن میں اس کا حصول ممکن ہے بلکہ اجتماعی طور پر اتحاد واتفاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے برسوں محنت کے بعد ہی حاصل ہوسکتا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اویسی نے ہر خطرے کا مقابلہ کرنے کا عزم کیا ہے اور پوری تن دہی کے ساتھ ان کا قدم آگے بڑھ رہاہے اور سیاست کے راستے سے ہونے والے استحصال اور ظلم وستم کے دروازے کو بند کرنے کا یہی ایک مضبوط راستہ ہے اور ابھی تک کے سیاسی حالات کا جائزہ لینے کے بعد یہ کہا جاسکتا ہے کہ اویسی اس سلسلے میں تیزی کے ساتھ کامیابی کی منزلوں کو عبور کررہے ہیں، اور اسی لئے ایوانِ سیاست میں زلزلہ برپا ہے ، اسی وجہ سے نام نہاد سیکولر پارٹیوں کی کھلی ہوئی فرقہ پرست طاقتوں کو شکست دینے کے ساتھ ساتھ اویسی کو زیر کرنے کی فکر کچھ کم نہیں ہے وہ جتنا فرقہ پرستوں کو ہرانے کی محنت کرتی ہیں اس سے زیادہ اویسی کے پیر اکھاڑنے کی تدابیر کرتی ہیں، اسی لئے اویسی کی آمد سے فرقہ پرستوں کی فتح کا خوف دلایا جاتاہے،کبھی سیکولر ووٹوں کی تقسیم کا ہوّا کھڑا کیا جاتاہے،
یہی وجہ ہے کہ مسلم اکثریتی علاقوں سے جہاں اویسی کافی مضبوط سمجھے جاتے ہیں یہی سیکولر پارٹیاں اپنا مسلم امیدوار فرقہ پرستوں کو ہرانے کے لئے نہیں بلکہ اویسی کوکمزور کرنے کےلئے میدان میں اتار رہی ہیں
اور جہاں تک بات کم سے کم ووٹ کو تقسیم سے بچانے کی حضرت محترم نے اپنے خط میں کی ہے غالبا اسی کے پیش نظر اترپردیش میں کم وبیش ڈیڑھ سو سیٹوں کے مسلم اکثریت ہونےکے باوجود اویسی نے صرف سو سیٹوں پر اپنے امید وار کھڑا کرنے کا اعلان کیا ہے اگر ووٹ کی تقسیم ہی مقصود ہوتی تو کم از کم ڈیڑھ سو یا اس سے زیادہ پر بھی قسمت آزمائی کی جا سکتی تھی اس کے علاوہ 303 سٹیں ہیں اگردیگر تمام سیکولر پارٹیاں ان سیٹوں پر فرقہ پرستوں کو شکست دی لیں تب بھی فرقہ پرستوں کے لئے ودھان سبھا کی راہ آسان نہ ہوگی
ایک سوال ذہن میں بار بار گردش کرتا ہے کہ کیا سیکولر ووٹوں کو تقسیم سے بچانے کی ذمی دار اویسی کی ہے یہ اپیل اگر دیگر پارٹیوں سے بھی کی جائے تو شاید کوئی امید افزا نتیجہ برامد ہو اور یہ کام مولانا نعمانی کے لئے بہت آسان ہے جس طرح وہ اویسی سے قربت رکھتے ہیں اسی طرح اکھلیش یادو سے بھی ان کے یارانہ ہیں یہ اپیل وہ دونوں سے کر سکتے ہیں یا اویسی کی اکھلیش کے ساتھ اتحاد میں شمولیت کی سمت بھی کچھ سعی بلیغ کر سکتے ہیں مجھے معلوم نہیں کہ مولانا نعمانی نے اس سے پہلے اس سمت میں کبھی کوئی ضرورت کیوں محسوس نہیں کی
آخر میں عرض ہے کہ
حضرت مولانا سجاد نعمانی دامت برکاتہم ملک کے ان چنندہ لوگوں میں سے ہیں جن کی دور رس نگاہیں اور ان کے مشورے بسا اوقات حالات کا مقابلہ کرنے میں بڑے معین ثابت ہوتے ہیں مایوسیوں کے دلدل سے نکال کر
شاہراہ زندگی پر گامزن کرنے کا ملکہ رکھتے ہیں نہ انکی عظمت سے کسی کو انکار ہے نہ ہی ان کی
لیکن ایسے نازک وقت میں اک طرفہ یہ خط خود ابھرتی ہوئی مسلم قیادت کو سخت نقصان پہچا سکتا ہے ہاں جانبین سے اتحاد کی کوئی کوشش یا ووٹ کو تقسیم سے بچانے کا کوئی اور فارمولا اگر تمام سیکولر کہی جانے والی پارٹیوں کے سامنے رکھا جائے تو شاید کی مفید ثابت ہو

You might also like