Baseerat Online News Portal

ادب کو اعلیٰ اخلاقی اقدارکے فروغ کا ذریعہ ہونا چاہیے: مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

پٹنہ (عبد الرحیم برہولیاوی)

 

کون سی بات کس طرح، کس فورم او رکس ہیئت میں کہی جا رہی ہے ، اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ کیا کہا جا رہا ہے ؟ ادب میں کیا کہا جا رہا ہے اس پر اگر دھیان دیا جائے تو وہ اعلیٰ اخلاقی اقدار کے فروغ کا ذریعہ بن سکتا ہے، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ادب کے مختلف اصناف کو بنیے کا روزنامچہ یا واعظ کی تقریر کے طور پر پیش کیاجائے۔ یقینا یہ بھی ایک کام ہے، لیکن بات ادب کی جس صنف میں کہی جائے اس کے اصول ، اسلوب اور طریقوں کو بھی ملحوظ رکھنا ضروری ہے ، تاکہ ادب، ادب باقی رہ سکے، ان خیالات کا اظہار کاروان ادب، اردو میڈیا فوم کے صدر او راردو کارواں کے نائب صدر مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نے ڈاکٹر ممتاز احمد خان کی کتاب ’’دُر دِ تہہ جام‘‘ اور ڈاکٹر لطیف احمد خان کی کتاب ’’عزیز بگھروی ایک انقلابی شاعر‘‘ کے اجراء کے موقع سے ساجدہ منزل باغ ملی حاجی پور کے ہال میں صدارتی خطاب کے دوران کیا، انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر ممتاز احمد خان ایک اچھے انسان ، بہترین استاذ، نامور محقق اور مشہور نقاد تھے، ان کی زندگی تمام جہتوں سے قابل تعریف، لائق تحسین وتقلید رہی ہے، اس موقع سے ’’درُد تہہ جام‘‘ پر اپنا طویل تبصرہ نوجوان قلم کار ڈاکٹر عارف حسن وسطوی اور’’ عزیز بگھروی ایک انقلابی شاعر‘‘ پر تبصرہ مشہور ادیب وناقد جناب انوار الحسن وسطوی نے پیش کیا، جنہوں نے تقریب کی نظامت کے فرائض بھی ا نجام دیے، مہمان خصوصی کی حیثیت سے شریک جناب امتیاز احمد کریمی نے ڈاکٹر ممتاز احمد خان کو نا قابل فراموش شخصیت قرار دیا، انہوںنے اپنے جائزہ میں بتایا کہ اردو اساتذہ کی نوے فی صد جگہیں ویشالی میں آج بھی خالی ہیں، مہمان اعزازی کے طور پر جناب اسلم جاوداں، ڈاکٹر کامران غنی صبا اور ڈاکٹر ابو الحیات سیوان نے بھی اپنے خطاب سے نوازا، جس میں ’’ڈاکٹر ممتاز احمد خان کی شخصیت اور ان کے فکر وفن‘‘ پر روشنی ڈالی گئی، پروگرام کا آغاز امام مدینہ مسجد باغ ملی کی تلاوت کلام پاک اور اختتام مفتی صاحب کی دعا پر ہوا، ویشالی ضلع کے مختلف علاقوں سے علم دوست حضرات کی بڑی تعداد نے اس میں شرکت کی، جن میں ظہیر نوری ، نذر الاسلام نظمی ، ماسٹر مظہر، عظیم الدین انصاری، ڈاکٹر ذاکر حسین ، مولانا نظر الہدیٰ قاسمی، عبد الرحیم صاحب ریٹائرڈ جج، ماسٹرعبد الرحیم، مظہر وسطوی، قمر اعظم صدیقی ، ماسٹر محمد فداء الہدیٰ وغیرہ نے شرکت کی۔

You might also like