Baseerat Online News Portal

اسلام میں وطن پرستی کا مفہوم ( قسط17)

بقلم:مفتی محمد اشرف قاسمی

دارالافتاء:مہدپور،اجین ایم پی

وطنی ضلالت کے استیصال اوراخوہِ اسلامی کےاستحکام کے لیےشہرِ علم بھوپال سے تحریک شروع کرنے کی ضرورت

سردار دوست محمد خاں ؒ(انتقال1740ء) تلاش معاش کے سلسلے میں افغانستان کے ایک گاؤں ”تراہ“ سے ہجرت کرکے1708 ء میں بھارت آ ئے،اپنی سپاہیانہ صلا حیتوں کی وجہ سے آ گے بڑھتے ہو ئے انھوں نے ریاست بھوپال کی بنیادرکھی۔سرداردوست محمدخاں ؒ نے 1140ھ مطابق1727ء بھوپال گاؤں کو اپنا مرکز بنایا اور اسی گاؤں کے ایک تالاب”بھوجپال“ کے کنارے اپنی بیوی فتح بی بیؒ کی نام سے موسوم قلعہ فتح گڑ ھ کی پہلی اینٹ ’تفسیر ہندی“(اُردو) کے مصنف، قاضی محمدمعظم سنبھلی (فرخ سیر کے عہد میں رائسین کے قاضی تھے) کے ہاتھوں سے رکھوائی۔“
(نواب سلطان جہاں بیگم ص22/ ڈا کٹررضیہ حامد، مکتبہ:باب العلم احمد آباد روڈ، بھوپال،2011ء)
تالابوں اورجھیلوں سے گھرے ہوئے اس خوبصورت شہر”بھوپال“ کے بانی یہی نہیں کہ دوسرے علاقے سے تعلق رکھتے تھے اور اس کے قلعہ کی پہلی اینٹ رکھنے والے قاضی محمد معظم سنبھلیؒ کا تعلق دوسری ریاست سے تھا۔بلکہ دنیاکے مختلف ممالک کے واردین کا یہاں برابر استقبال ہوتا رہا، خاص طور پر1857ء کی غدر کے بعدشمالی ہند سے انگریزوں کے عتاب کا شکار ہو کر جائے پناہ کی تلاش میں مسلمانوں کی خاصی تعدادنے مالوہ کا بھی رُخ کیا،توخطۂ مالوہ میں آباد مسلمانوں نے عموماً
اوربھوپال ریاست کے فرمانرواؤں نے خصوصاً(انگریزوں کاماتحت ہونے کے باوجود)اخوۃِ اسلامی کے جذبے سے پوری خندہ پیشانی کے ساتھ اپنے یہاں ان پریشان حال مسلمانوں کو پناہ دی۔علاقائی تعصبات سے پاک یہاں کے حکمرانوں کی اخلاقی بلندی کا نتیجہ تھا کہ حیدر آباد، اودھ، دلی، اوردیگر ترقی یا فتہ ریاستوں وممالک سے پُرامید ہو کرکثیر تعداد میں اصحاب علم وفضل نے بھی اس سرزمین کوا پنے قدوم میمنت سے سرفراز فرمایا۔ انجام کار یہ ایک خوبصورت وپرسکون شہر وبلدیہ کے ساتھ شہرعلم، شہرغزل اور تہذیب وتمدن کا مرکزبن بھی گیا۔ جس کے اثرات آج بھی یہاں پائے جاتے ہیں،اور دیگر مرکزی وتاریخی مقامات(سرنگا پٹم،حیدر آباد،مانڈو، دلی، اودھ، جونپور، لکھنؤ، فیض آباد،بنگال) کی بہ نسبت اسلامی تہذیب وتمدن، دینی فکر، اخوۃ اسلامی کا جذبہ کہیں زیادہ گہرائی وقوت کے ساتھ ہنوز شہربھوپال میں موجود ہے۔
صوبہ مدھیہ پردیش خا ص کر بھوپال شہر ملک کے مشرق ومغرب،شمال وجنوب میں آمد ورفت کرنے والوں کے لیے رہگذر اور دروازے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے مواخاۃ اسلامی کے احیاء اور علاقائی کفرونفاق خاتمہ کے لیے کوئی منصوبہ وپلان تیار کرکے یہاں سے اگرایک تحریک شروع کی جائےاور عملی طورپر اس منصوبے کو بروئے کار لایا جائے،تو پورے بھارت بلکہ دیگر ممالک میں بھی اس کی باز گشت سنی جا سکتی ہے (سجاد ظہیر نے اولاً1934ء لندن اور پھر بطورمرکزبھوپال میں ترقی پسند ادبی تحریک [تحریکِ الحاد ]شروع کی تھی۔ جس کی بازگشت پوری دنیا میں سنی گئی،اور آج بھی ہمارے ملک کے علاوہ ایشاء ویورپ کے متعدد ممالک میں اس کے گہرے اثرات پائے جاتے ہیں)۔

*علاقائی کفرو نفاق کے خلاف حکمت عملی*

اس لیے بندہ کی ناقص رائے میں ”دین کی تبلیغ وتعلیم“ عنوان کے تحت مختلف علاقوں میں آباد مسلمانوں کے درمیان ہجرت کو فروغ دے کراسلامی برداری کی تشکیل و استحکام کے لیے اس شہر سے ایک تحریک شروع کی جائے۔ اس سلسلے میں مندرجہ ذیل باتیں شایدمفید ثابت ہو سکتی ہیں:
1۔اپنے یہاں دینی درسگاہوں میں زیر تعلیم طلباء کو اسقدربااستعداد اور قابل بنانے کی کوشش کی جائے وہ مختلف براعظموں میں جا کر دین کی تبلیغ وتعلیم کے لیے پوری طرح آ مادہ وتیار رہیں۔ ؎
وہ پھو ل سرچڑھا جوچمن سے نکل گیا
عزت اُسے ملی جووطن سے نکل کیا
مدرسہ میں داخل ہو تے ہی پہلے دن جب ہم انھیں اس قسم کا اونچا خواب دکھانے کے بجائے اپنی گلی ومحلہ کی مسجد میں آئندہ امام ،موذن یا خاک روب نام سے موسوم مزدوربننے کا خواب دِکھادیتے ہیں تو یہی نہیں کہ ہم انھیں قوتِ پرواز سے محروم کردیتے ہیں بلکہ علاقائی کفر ونفاق کی تخم ریزی وآبیاری میں غیر شعوری طور پر معاون ومدگار بھی بن جاتے ہیں۔یہ بچے اگر دوسرے ممالک میں پہنچ بھی جائیں تو وہاں بھی علاقائی ٹکراؤ وتصادم میں اپنی صلاحیتیں ضائع کریں گے:
”یورپ کی راجدھانیوں میں کسی امامِ مسجد کے تقرریا انتخاب کے وقت جو علاقائی مقابلہ آرائی اور بغض وحسد دیکھنے میں آ تا ہے۔ اس کو سب جانتے ہیں، مراکشی، مراکشی امام چاہتے ہیں تو مصری،مصری امام اور سیریائی شامی امام…… اور اس معاملے کے جھگڑے کبھی کبھی غیر مسلم مقامی عدالتوں تک بھی فیصلے کے لیے پہونچ جاتے ہیں۔“
(تعمیر مساجداورانسانیت کی رہنمائی ص262، بندہ (مفتی) محمد اشرف قاسمی، مہد پور،مجدد الف ثانی اکیڈمی مہد پور،اجین،2017ء، تحریر: عبد الکریم الاسد، ترجمہ:مسعودخاں ندوی، سہ روزہ دعوت دہلی، یکم جولا ئی2011ء)
ہوقید مقامی تو نتیجہ ہے تباہی
رہ بحر میں آزادِ وطن صورتِ ماہی
ہے ترکِ وطن سنتِ محبوبِ الٰہی
دے توبھی نبوت کی صداقت پہ گواہی
2۔جن مساجد میں ائمہ کوعام مسلمانوں کے چندوں سے یا اوقاف ماہانہ وظائف دیے جاتے ہیں، اُن مساجد میں مقامی ائمہ کے بجائے غیر مقامی ائمہ کا تقرر کیاجا ئے۔کیوں کہ عموماًمسجد انتظامیہ کا مقامی ائمہ پردباؤ نہیں رہتا ہے اورمقامی ائمہ کی طرف سے ذمہ داری کی ادائیگی میں کوتاہی کی صورت میں انھیں معطل کرنے پر نہ ختم ہونے والے اختلافات پیدا ہوجاتے ہیں۔ جب کہ غیر مقامی ائمہ کے تقررمیں بہت سے فائدے میں،جن میں سے ایک یہ ہے کہ امور مفوضہ کو بہ حسن و خوبی نہ اداکرنے کی صورت میں انھیں بآسانی معطل کرکے دوسرے ائمہ کا تقررکیا جاسکتا ہے۔
3۔ اقامتی مدارس میں خاص طورپرجہاں دورۂ حدیث تک کی تعلیم ہوتی ہے اُن میں دوسری ریاستوں کے طلباء کے لیے نششتیں (Seats)مختص(Reseverd) کی جائیں۔تاکہ ہمارے دینی اقامتی مدارس درسگاہِ نبوت صفہ کی مکمل نقل بن سکیں،جہاں غیرمقامی طلباء تعلیم حاصل کرتے تھے۔ اور کسی علاقے کے طلباء کے د اخلے پر وہاں پابندی نہیں تھی۔
4۔ دینی مدارس میں دوسرے علاقوں کے مدرسین کا تقررکیا جائے۔ حضرت تھانوی ؒ نے ارشاد فرمایا کہ:
”میری تو رائے ہے کہ مدرس بستی کے نہ رکھے جائیں بلکہ باہری رکھے جا ئیں“
(فتنۂ اِرتدادسے حفاظت کی تدبیریں، ص7، بندہ (مفتی) محمداشرف قاسمی، اشاعت:جامعہ اصحاب صفہ مکسی،شاجاپور،ایم پی،۱2011ء، از:ماہنامہ ترجمان دیوبند، ص13/ ماہ اکتوبر ونومبر 2002ء)
5۔ مختلف صوبوں کے طلباء کی اقامت کے لیے الگ الگ رواق(Hostels) اور الگ الگ لائبریریوں اور علاقوں کے لحاظ سے بننے والی طلباء کی ٹیموں کے بجائے مخلوط رہائش، مشترکہ لائبریری، ہر علاقہ کے طلباء پر مشتمل کھیل وکودکی ٹیموں کا قیام عمل میں لایا جائے۔دارالا قامہ میں مقیم طلباء کااپنے علاقہ والوں کے ساتھ رہائش،علاقوں کی طرف منسوب لائبریریاں اور کھیلوں کے لیے علاقوں کی بنیاد پر گروپ بندی؛ علاقائی کفر ونفاق کو جنم دیتی ہیں۔

ترتیب:محمد فاروق قاسمی،
مدرس:جامعہ اصحاب صفہ، مکسی، ضلع:شاجاپور،ایم
پی۔
9جمادی الاخری1443ء
13جنوری2022ء

You might also like