Baseerat Online News Portal

امریکہ: ملک کی تاریخ میں پہلی مسلم خاتون فیڈرل جج نامزد

آن لائن نیوزڈیسک
صدر جو بائیڈن کی طرف سے نامزد کردہ نصرت جہاں مجموعی طور پر ان آٹھ امریکی ماہرین قانون میں سے ایک ہیں، جن کے نام فیڈرل ججوں کے طور پر تعیناتی سے پہلے توثیق کے لیے امریکی سینیٹ کو بھیجے گئے ہیں۔
نصرت جہاں چوہدری کے بارے میں امریکی سینیٹ کو یہ تجویز بھیجی گئی ہے کہ انہیں نیو یارک میں فیڈرل کورٹ کے ایسٹرن ڈسٹرکٹ کی عدالت کی جج تعینات کیا جائے۔

شہری حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والی وکیل
پیدائشی طور پر بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والی 44 سالہ نصرت جہاں چوہدری شہری حقوق کے تحفظ کی سب سے بڑی امریکی تنظیم امیریکن سول لبرٹیز یونین (ACLU) سے وابستہ ہیں اور الینوئے میں اس تنظیم کے قانونی امور کی ڈائریکٹر ہیں۔
الینوئے میں اے سی ایل یو کے لیے اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران دیگر امور کے علاوہ نصرت چوہدری نے قانونی ماہرین کی اس ٹیم کی سربراہی بھی کی، جس کا کام شکاگو میں پولیس کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے تجاویز تیار کرنا تھا۔

اب تک تراسی نامزدگیاں
صدر جو بائیڈن نے امریکا میں وفاقی ججوں کے طور پر نامزدگیوں کے لیے جن مزید آٹھ امیدواروں کے نام حال ہی میں امریکی سینیٹ کو بھیجے، ان کو شامل کر کے ان کی طرف سے اپنی صدارتی ذمے داریاں سنبھالنے کے بعد سے وفاقی عدلیہ میں مختلف عہدوں پر نامزد کردہ شخصیات کی مجموعی تعداد اب 83 ہو گئی ہے۔
ان بیسیوں ماہرین میں بہت سی خواتین بھی شامل ہیں اور کئی ایسے امریکی شہری بھی، جن کا تعلق تارکین وطن کے گھرانوں سے ہے یا جو پیدائشی طور پر امریکی شہری نہیں تھے۔

پہلے مسلمان فیڈرل جج پاکستانی نژاد زاہد قریشی
نصرت جہاں چوہدری صدر بائیڈن کی طرف سے کسی وفاقی عدالت کی جج کے طور پر نامزد کردہ پہلی مسلمان خاتون اور پہلی بنگلہ دیشی امریکی شہری تو ہیں مگر وہ پہلی امریکی مسلم شہری نہیں ہیں۔ نصرت جہاں چوہدری سے قبل گزشتہ برس جون میں صدر بائیڈن نے پاکستانی نژاد زاہد قریشی کو بھی فیڈرل کورٹ کا جج نامزد کیا تھا۔
زاہد قریشی کی نامزدگی کی سینیٹ کی طرف سے توثیق کے بعد وہ امریکی تاریخ میں کسی وفاقی جج کے عہدے پر تعینات ہونے والے پہلے مسلمان بن گئے تھے۔ زاہد قریشی کا تعلق پاکستانی تارکین وطن کے ایک گھرانے سے ہے اور انہیں ریاست نیو جرسی میں فیڈرل ڈسٹرکٹ کورٹ کا جج نامزد کیا گیا تھا۔
زاہد قریشی کے والد نثار قریشی ایک ڈاکٹر تھے، جو 1970 ء میں پاکستان سے ترک وطن کر کے امریکی ریاست نیو یارک میں آباد ہو گئے تھے۔ وہاں انہوں نے اپنا ایک کلینک کھول لیا تھا اور اپریل 2020ء میں اپنے انتقال تک وہ وہاں مریضوں کا علاج کرتے رہے تھے۔

You might also like