Baseerat Online News Portal

بحرالکاہل کے جزیرےٹونگامیں پھٹنے والاآتش فشاں ہیروشیماپرگرائے گئے بم سے سوگنازیادہ :ناسا

آن لائن نیوزڈیسک
امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کے سائنسدانوں نے کہا ہے کہ بحرالکاہل کے جزیرے ٹونگا میں پھٹنے والے آتش فشاں سے ہونے والے دھماکے نے ہیرو شیما کے ایٹمی دھماکے کو بہت پیچھے چھوڑ دیا تھا۔
خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ٹونگا کے رہائشیوں نے دھماکے کے بارے میں بتایا تھا کہ ’اس نے ہمارے دماغ ہلا کر رکھ دیے تھے۔‘
زمین کا مشاہدے کرنے والے ناسا کے سائنسدانوں کے مطابق رواں ماہ 15 جنوری کو پھٹنے والے ٹونگا آتش فشاں کا ملبہ فضا میں 40 کلومیٹر تک اوپر گیا جبکہ اس دوران سمندر میں سونامی کی لہریں اٹھیں۔
ناسا کے سائنسدان جم گارون نے ایک بیان میں کہا کہ ’اس دھماکے سے جتنی توانائی کا اخراج ہوا وہ ایک اندازے کے مطابق پانچ سے 30 میگا ٹن دھماکہ خیز مواد کے پھٹنے جتنا تھا۔‘
ناسا کے مطابق آتش فشاں کے پھٹنے سے جتنا دھماکہ ہوا وہ جاپان کے شہر ہیروشیما پر گرائے گئے امریکی ایٹم بم سے سو گُنا زیادہ تھا۔
خیال رہے کہ اگست 1945 کو گرائے گئے ایٹم بم میں ایک اندازے کے مطابق 15 کلو ٹن دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا تھا۔
ناسا کے مطابق آتش فشاں کے پھٹنے سے بحرالکاہل کے اس جزیرے کا 65 کلومیٹر رقبہ ‘ختم’ کر دیا ہے۔
خیال رہے کہ بحرالکاہل کے جزیرے پر پھٹنے والے آتش فشاں کے بعد اٹھنے والی سونامی لہریں کئی ملکوں کے ساحلوں سے ٹکرائیں۔
سائنسدانوں کے مطابق اس دھماکے کی آواز دس ہزار کلومیٹر دور تک سنی گئی تھی۔

You might also like