Baseerat Online News Portal

مولانا عتیق الرحمن سنبھلی کے انتقال پر مولانا عبد اللہ قاسمی کا اظہار تعزیت

کانپور(پریس ریلیز) خانوادہ نعمانی کی بزرگ شخصیت حضرت مولانا عتیق الرحمن سنبھلی کی طویل علالت کے بعد انتقال پر جمعیۃ علماء اتر پردیش کے نائب صدر مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی نے موت العالم موت العالم کا مصداق قرار دے کر تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا مرحوم ایک ممتاز علمی شخصیت اور کئی اہم اور فکر انگیز کتابوں کے مصنف تھے۔ جن میں 6 جلدوں میں محفل قرآن نام سے ایک شاہکار تفسیر اور واقعہ کربلا اور اس کا پس منظر مشہور ہے۔ مرحوم مولانا عتیق الرحمن صاحب ؒحضرت مولانا منظور نعمانیؒ کے سب سے بڑے فرزند تھے۔
مولانا مرحوم کی تعلیم دار العلوم دیوبند میں ہوئی جہاں انہوں نے شیخ الاسلام حضرت مدنیؒ سے استفادہ کیا۔ مولانا اسعد مدنیؒ، اور مولانا محمد سالم قاسمیؒ ان کے ہم درس تھے۔1947ء؁میں رسمی فراغت کے بعد کے بعد رسالہ الفرقان کے طویل عرصے تک ایڈیٹر رہے۔سن ساٹھ کی دہائی میں انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی حفیظ نعمانی کے ساتھ ہفت روزہ ندائے ملت نکالا۔ جس کے سرپرست مولانا علی میاں ؒ اور مولانا نعمانیؒ ہوا کرتے تھے۔ اسی دور میں مسلم مجلس مشاورت کے قیام میں فعال کردار ادا کیا۔ ان کے مضامین اپنے عہد میں نہایت فکر انگیز ہوا کرتے تھے۔وہ آزادی کے بعد ہندوستان کے اہم اصحاب قلم میں شمار ہوتے تھے۔ اور مسلمانوں کے مسائل کے حل کے لیے ان کی تحریریں رہنما سمجھی جاتی تھیں۔
مولانا اپنی صحت کی خرابی کی بنا پر1976عیسوی میں برطانیہ منتقل ہوگئے۔ جہاں ان کی علمی خدمات اور مسلمانوں کے مسائل میں متحرک کردار کا سلسلہ جاری رہا۔ مولانا اپنے خلوص وسادہ معیار زندگی اور شرافت ووضع داری میں پچھلے زمانوں کی یادگار معلوم ہوتے تھے۔ علالت اور کبر سنی کے عوارض کی وجہ سے وہ کئی سال سے دہلی اپنے صاحب زادے مولانا عبید الرحمان سنبھلی کے ساتھ مقیم تھے۔کل عشاء سے قبل مولائے حقیقی سے جاملے۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور درجات بلند کرے۔مولاناعبداللہ نے حضرت والا کے لواحقین خاص طور سے آپ کے برادران و صاحبزادگان سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے تمام جماعتی احباب، ذمہ داران مدارس، متعلقین واحباب کو تلقین کی ہے کہ حضرت والا کیلئے دعائے مغفرت اور ایصال ثواب کا خصوصی اہتمام کریں۔

You might also like