Baseerat Online News Portal

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں یوم جمہوریہ تقریب کا اہتمام

علی گڑھ، 26؍ جنوری: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں ملک کے 73ویں یوم جمہوریہ کی مرکزی تقریب ا سٹریچی ہال پر منعقد ہوئی جہاں وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے قومی پرچم لہرایا ۔
ہندوستان کی متحرک جمہوریت کو سلام کرتے ہوئے وائس چانسلر نے کہا: ’ہمارا آئین محض بنیادی قوانین کا مجموعہ نہیں ہے جو حکمرانی کی بنیاد ہیں، بلکہ یہ کچھ بنیادی اقدار، فلسفے اور اعلیٰ مقاصد کی تعبیر ہے۔ ہندوستان کو اپنا آئین ملا اور 26 ؍جنوری 1950 کو ملک ایک جمہوریہ بنا۔ یہ ایک تاریخی سنگ میل ہے جسے ہم ان تمام عظیم شخصیات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے مناتے ہیں جنہوں نے آزادی کے حصول کے لئے زبردست قربانیاں دیں۔
پروفیسر منصور نے کہا ـ’’یہ دن ہمیں اس جدوجہد کی یاد دلاتا ہے جو ہمارے قائدین نے ‘مکمل سوراج’ کے حصول کے لئے کی تھی۔ ہم اپنے عظیم قائدین جیسے بابائے قوم مہاتما گاندھی، ہندوستانی آئین کی مسودہ سازی کمیٹی کے چیئرمین، اور قانون وانصاف کے پہلے وزیر ڈاکٹر بی آر امبیڈکر، پنڈت جواہر لعل نہرو، سردار پٹیل، بھگت سنگھ، سبھاش چندر بوس، خان عبدالغفار خان، مولانا ابوالکلام آزاد اور دیگر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی ملک کی آزادی کے حصول کے لئے وقف کر دی‘‘۔
پروفیسر منصور نے زور دیتے ہوئے کہا کہ آئین، جمہوریہ ہند کے شہریوں کو اپنے نمائندوں کو منتخب کرنے کا حق فراہم کرتا ہے جو ملک کی قیادت کر سکتے ہیں – ہر شہری کو حیثیت، مذہب، جنس وغیرہ سے قطع نظر مساوی حقوق حاصل ہیں۔
انھوں نے کہا ’’مساوات کے حقوق کے علاوہ، ہمارے آئین کی خصوصیات میں جمہوریت، تقریر کی آزادی اور سیکولرزم شامل ہیں- ہمارے ملک میں مختلف مذاہب، ذاتیں، ثقافتیں اور زبانیں ساتھ ساتھ پنپتی ہیں۔ تنوع میں یہ اتحاد ایک منفرد خصوصیت ہے اور ہمیں ان حقوق و مراعات کو برقرار رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے جو ہمارا آئین ہمیں دیتا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ یوم جمہوریہ کے موقع پر راج پتھ پر ہونے والی رسمی پریڈ ہمارے ملک کی ریاستوں کی نمائندگی کرتی ہے جو تنوع میں اتحاد اور بھرپور ثقافتی ورثہ کا عکس پیش کرتی ہے۔
پروفیسر منصور نے کہا، ’’سماجی انصاف اور سماج کے کمزور طبقات کو بااختیار بنانا آئین کا ایک اہم رہنما اصول ہے اور سو سالہ تاریخ میں اے ایم یو نے ہمارے لاکھوں باصلاحیت نوجوانوں کو مذہب، ذات اور جنس سے قطع نظر کفایتی اور معیاری تعلیم فراہم کرنے کی کوشش کی ہے اور انھیں بااختیار بنایا ہے‘‘۔
وائس چانسلر نے کہا کہ یہ بڑے اعزاز اور فخر کی بات ہے کہ اے ایم یو کے سابق طلباء نے بھی مہاتما گاندھی کی قیادت میں جدوجہد آزادی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور یونیورسٹی کے کئی سابق طلباء نے بھی ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کی رہنمائی میں آئین ہند کی تیاری کے عمل میں اپنا کردار ادا کیا۔
وائس چانسلر نے کہا: ’’کووڈ وبا نے زندگی کے تمام شعبوں کو بری طرح متاثر کیا ہے اور اس نے پرائمری اسکولوں سے لے کر اعلیٰ تعلیمی اداروں تک تعلیم کے شعبے کو بھی بری طرح متاثر کیا ، لیکن اس نے یونیورسٹی انتظامیہ کو بی ٹیک آرٹیفیشیئل انٹلی جنس، ایم سی ایچ نیوروسرجری، بی ایس سی نرسنگ، بی ایس سی پیرا میڈیکل سائنسز، ایم ایس سی ڈاٹا سائنسز، ایم ایس سی فارینسک اینڈ ڈجیٹل سائنسز، ایم ایس سی فلوریکلچر، اور ایم ایس سی ایگرینومی جیسے روزگار پر مبنی جدید کورسز کو شروع کرنے اور روزگار پر مبنی مواقع فراہم کرنے سے نہیں روکا۔ انھوں نے بتایا کہ ایم بی بی ایس کی سیٹیں 150 سے بڑھا کر 200 کرنے کی تجویز نیشنل میڈیکل کمیشن کو پیش کر دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہم اپنی یونیورسٹی میں انسٹی ٹیوٹ آف فارمیسی شروع کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں‘‘۔
پروفیسر منصور نے مزید کہا: ’’ ہم نے کووِڈ لہر سے نپٹنے کے لئے جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج و اسپتال میں طبی سہولیات کو اپ گریڈ کرکے خود کو تیار کرنے کی پوری کوشش کی ہے۔ یہاں کووڈ کے مریضوں کے لئے 25 آئی سی یو بستروں کے ساتھ 100 بستروں پر مشتمل کووڈ وارڈ کام کر رہا ہے، آئی سی یو کے ساتھ 50 بستروں کا ایک نیا کووڈ پیڈیاٹرک وارڈ قائم کیا گیا ہے، نئے وینٹی لیٹرز اور دیگر جدید ترین آلات منگوائے گئے ہیں، تین آکسیجن جنریشن پلانٹس اور ایک اضافی مائع طبی آکسیجن پلانٹ ہنگامی حالات میں آکسیجن کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے نصب کئے گئے ہیں۔
وائس چانسلر نے کہاکہ دنیا کا سب سے بڑا ٹیکہ کاری پروگرام ہمارے ملک میں جاری ہے اور یہ ہم سب کا فرض ہے کہ ہم اپنے کنبوں کے افراد کے ساتھ خود ٹیکہ لگائیں اور حفاظتی/بوسٹر ڈوز کے اہل افراد سمیت زندگی کے تمام شعبوں اور معاشرے کے مختلف طبقوں کے لوگوں کو اس میں حصہ لینے کی ترغیب دیں۔ ویکسینیشن سنگین بیماری، اسپتال میں بھرتی ہونے اور موت سے بچنے کے لئے بہترین تحفظ ہے۔ ہم امید اور دعا کرتے ہیں کہ یہ وبائی مرض جلد ختم ہو جائے اور انشاء اللہ ہم معمول کی زندگی کی طرف لوٹ آئیں گے۔
پروفیسر منصور نے کہا ’’میں وبائی مرض کے اس مشکل وقت میں تعاون کے لئے اے ایم یو برادری کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ٹیم ورک، مشاورت، باہمی رابطہ اور منصوبہ بندی ہماری انتظامیہ کی پہچان رہی ہے۔ یونیورسٹی کو خوش اسلوبی سے چلانے میں مجھے اساتذہ، معاون عملہ، موجودہ و سابق طلباء اور خیرخواہوں کی طرف سے جو تعاون ملا اس نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ میں آپ سب کا مقروض اور بے حد ممنون ہوں‘‘۔
وائس چانسلر نے اپنی تقریر مکمل کرتے ہوئے کہا ’’میں سبھی کو متحد، جرأت مند اور مثبت رہ کر اپنی جمہوریت کو مضبوط کرنے کی تلقین کرتا ہوں- آئیے ہم اعتماد کے ساتھ ایک صحت مند، مضبوط اور خود کفیل ہندوستان کی طرف بڑھیں‘‘۔
پروفیسر منصور نے اس موقع پر اپنی اہلیہ ڈاکٹر حمیدہ طارق کے ہمراہ پودے لگائے اور رہائشی ہاسٹل، ایس ایس ہال (جنوبی) کے تزئین شدہ کامن روم کا افتتاح کیا۔
تقریب میں اے ایم یو رجسٹرار مسٹر عبدالحمید (آئی پی ایس) ، پروفیسر ایم محسن خاں (فنانس آفیسر)، پروفیسر مجاہد بیگ (ڈین اسٹوڈنٹس ویلفیئر) ، مسٹر مجیب اللہ زبیری (کنٹرولر امتحانات)، پروفیسر محمد وسیم علی (پراکٹر) ، مختلف فیکلٹیوں کے ڈین، تمام کالجوں کے پرنسپل، مختلف شعبہ جات کے سربراہان، اداروں کے ڈائرکٹرس ، مختلف اقامتی ہالوں کے پرووسٹ ، اور یونیورسٹی کے دیگر حکام موجود تھے۔
پرچم کشائی تقریب کی نظامت کے فرائض رجسٹرار مسٹر عبدالحمید نے انجام دئے جنہوں نے آئین کا تمہید بھی پڑھا اور دیانتداری کا حلف دلایا۔
یونیورسٹی کے طلبہ میں سے غزالہ ضمیر (بی ایس سی) اور رضا حیدر زیدی (بی اے ایل ایل بی) نے بھی تقریریں کیں۔
یونیورسٹی کے تمام دفاتر، فیکلٹیوں، کالجوں، شعبہ جات اور اسکولوں میں بھی یوم جمہوریہ تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔ ایڈمنسٹریٹو بلاک کی عمارت، وائس چانسلر لاج، مولانا آزاد لائبریری، فیکلٹی آف آرٹس، یونیورسٹی کے تمام اسکولوں اور کالجوں، ڈین اور ڈی ایس ڈبلیو کے دفاتر، تمام پرووسٹ دفاتر اور پراکٹر دفتر میں قومی پرچم لہرایا گیا۔

 

You might also like