اصلاح معاشرہخواتین واطفالمضامین ومقالات

کیا ہے یہ تہذیب یہ تمدن؟

سایہ تلاش کرلو یہ دھوپ مار دے گی
مُبینہ رمضان
کسی بھی معاشرے ، ریاست یا ملک میں چند بنیادی قدریں لازماً ہوتی ہیںجو اس کے معیار ومزاج کا تعین کرتی ہیں۔انہی بنیادی اقدار میں ثقافت اور فکر کے دونوں اہم اجزاءہیں جو اس انبوہ ِ انسان کے روح کی ترجمانی کرتے ہیں۔ جب ہم کسی اجنبی جگہ جاتے ہیں تو کسی حد تک وہاں کے لوگوں کے سلوک واطوار ، ان کی روشِ حیات، چا ل چلن، گفت و شنید وغیرہ دیکھ کر اس کے بارے میںاپنی کوئی اچھی بری رائے قائم کر تے ہیںکیونکہ کسی فرد یا سماج کا اندرون ہر حال میں انہی مظاہر کی شکل اختیار کرتا ہے ۔یہ ایک حقیقت ہے کہ قومیں اپنی ثقافت اور فکر کے حوالے سے دوسری قوموں سے متاثر ہوتی ہیں مگر بسا اوقات کوئی قوم دوسری قوم کی تہذیب وثقافت سے مرعوب ہوکر اپنے تشخص سے دست کش ہو کررہ جاتی ہے۔ خصوصی طور غالب قومیں جب کسی دوسری قوم پر غلبہ پاتی ہیں تو بڑے طمطراق سے اس کے اندرون کو بدلنے کے لئے فکری وتہذیبی مداخلتیںکر گزرتی ہیں۔ یہی حال ہم سے بھی بہت دیر سے ہورہاہے۔ ہم میں ہر ذی شعور اپنی چشم بصیرت وا کر کے یہ مشاہدہ کر سکتا ہے کہ اغیار کی تقلید میںہمارا معاشرہ اجنبی ثقافت کی رو میں بہہ رہاہے اور ہم دن بہ دن نت نئے فیشن ، نامانوس رنگ وآہنگ کے ساتھ ساتھ افکار کی دنیا تک میں بھی کافی بدلاؤ دیکھ رہے ہیں ۔ا س سے عیاں ہوتا ہے کہ غیر وں کی فکری جنگ اب ہمارے گھروں میں داخل ہوچکی ہے ۔ ان فکری یلغاروں کا دفاع کرنے سے مجتنب ہم سب ہاتھ پر ہاتھ دھرے تماشہ بین بنے بیٹھے ہیں۔ اس کی ا یک کڑی یہ ہے کہ والدین کرام جانے انجانے اپنے نونہالوں کو جدید تعلیم کے نام پر بگاڑنے کا گویاذمہ لے رہے ہیں ۔ یہ طریق کار ان کے فرائض کے عین بر عکس ہے اور اس طرزعمل سے قوم کا اثاثہ بربادی کے گھڑے میں لڑھکتا جارہاہے ۔
ایک وقت تھا کہ والدین خاص کر مائیں بچوں کےلئے ایک نمونہ یا رول ماڈل ہوا کرتی تھیں۔ اسی عظیم گہوارے سے اعلیٰ شخصیات پروان چڑھ جاتیں کیونکہ ان ماؤوں کے تصورات اور ان کی فکری بنیادیں اسلامی دروس سے مزئین تھیں۔ ان کے فکر و شعور پر صرف اسلامی فکر ہی غالب تھی اور اللہ تعالیٰ سے قربت ان کا طر ہ ¿امتیاز تھا۔ والدین کی حلال روزی، ذکر اللہ سے تر زبانیں اور دُعاؤں کے سائے میں پرورش پانے والی اولادغلط افکارو خیالات سے پاک و منزہ ہوتی۔ افسوس کہ آج کل والدین اپنی اس انفرادیت اور سیرت ساز ذمہ داریوں سے دور بھاگ رہے ہیں۔ اونچے گھر انوں کا معیارِعمل یہ بناہے کہ والدین نوکری اور دنیا سازی میں پڑیںاور بچے ڈیڑھ دوسال کی عمر سے ہی Creches میں ڈال دیں ، جہاں مہینہ بھر اچھی خاصی رقم ادا کرین اور کوئی فکر وغم نہ کر نے کی قسم کھائیں ۔ ڈیوٹی سے تھک ہار کر واپس آنے والی ماں بچے کے حوالے سے یا گھر گرہستی کے حوالے سے ایک ساتھ کتنی ذمہ داریاں نبھائے؟ یہی بچے جنہیں گہواروں میں ہونا چاہیے وہ کریچ میں دایاو ¿ں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں ۔ کیااس سے بچوں کی جسمانی واخلاقی نشو و نما مثبت انداز میں ہوگی یا منفی ؟ ایسی فضا میں تو بچے کی جسمانی حالت اور صحت متاثر ہوتی ہے اور اس کی صلاحیت اور فکر پنپنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے بچوں میں دیکھا گیا کہ آگے چل کر ان میں اکثر چڑ چڑاپن، بے صبری، ترش مزاجی اورنافرمانی جیسی چیزیں نمودار ہوتی ہیں ۔یوں دیکھتے ہی دیکھتے ایک معصوم سے نونہال نازک پھول کی کی اندرونی شخصیت کا جوہر دب کر رہ جاتا ہے۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنا ئزیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق معاشی طور پر خود کفیل ، تعلیم یافتہ اور آزاد خواتین سب سے زیادہ جنسی تشدد کی شکار ہوتی ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ دراصل اس کے پیچھے قوم یا معاشرے سے اُس کی فکری واخلاقی میراث چھن کراس کی تہی دامنی دخیل ہوتی ہے۔یہ بھی ایک مقام ِ تاسف ہے کہ فلموں اور انٹرنیٹ کے ذریعہ بڑھتی ہوئی بے راہ روی، مخلوط اداروں میں فیشن کے نام پرنیم برہنہ ڈرس کوڈ، اختلاط مر دوزن ، اعلیٰ تعلیم کے لئے لڑکیوں کو ریاست سے باہر بغیر محرم بھیجنا اور بیٹوں کو گھرسے باہر دن رات گزارنا ،یہ سب ایک اندھ کا اشارہ ہے ! اکثر والدین اپنے اولادوں کے کرتوتوں اور دل چسپیوں سے بے خبر رہتے ہیں کیونکہ ان کے پاس وقت ہی نہیں ہوتا ۔یہی والدین گھر کا نظام درہم برہم کرنے کے یہی ذمہ دار ٹھہرتے ہیں ۔ ستم ظریفی یہ کہ خود ذمہ دار ہو کے بھی لمبابحث و مباحثہ کرتے ہیں کہ بچے بگڑ گئے ہیں، گھر خراب ہوگئے ہیں ۔والدین کرام کو اپنے طریقِ زندگی پر از سر نو غور کرنا ہوگا ۔ جو والدین اپنی اولادوں کو اعلیٰ تعلیم سے آراستہ کرنا چاہتے ہیں ٹھیک کر تے ہیں مگر ا نہیں گھر کے اخلاقی نظام کو بھی مستحکم کرنا چاہے تاکہ ان کے بچے گھر میں ہر وہ اچھی تربیت حاصل کرپائیںجس سے اُن کی شخصیت صحت مند بنیادوں پر اُبھرے اور وہ زندگی گزارنے کے صحیح ڈھنگ سیکھ سکیں ، بصورت دیگر والدین کی غلط تعلیم و تربیت اور غیر اسلامی افکار و نظریات خودا ن کی اولاد کےلئے زہر ہلاہل ثابت ہو سکتے ہیں۔ مقام شکر ہے کہ ہمارے معاشرے میں نسلِ نو سے وابستہ قلیل التعداد طالبات حجاب اور طلبہ اسلامی رویے بخوشی اختیار کر رہے ہیں مگر ایسے باہوش والدین آٹے میں نمک کے برابر ہیں جو اپنے بچوں کو مر وجہ تعلیم کے ساتھ ساتھ دیندار ی کی تعلیم سے بھی آراستہ کرتے ہیں۔ غور طلب بات ہے کہ مسلم معاشرہ میں رہتے ہوئے ہم حجاب کو غیر ضروری چیز سمجھتے ہیں جب کہ مغربی ملکوں میں اسی حجاب کو اپنانے کے لئے جُرمانہ ادا کرکے بھی مسلم خواتین اپنی مسلمانانہ سیرت کا حق ادا کر رہی ہیں ۔ ایک ہم ہیں کہ ہماری اعلیٰ تعلیم یافتہ ڈاکٹر س یا پروفیسر صاحبان حجاب بہت کم اختیار کرتی ہیں۔کیا یہ ذہنی پسماندگی ہے یا تربیت کا فقدان ؟ یہ آپ خود طے کریں ۔ ادھر غیر اسلامی و بد اخلاقی میں ڈوبے طریق زندگی سے اب مغربی ممالک fed up ہوچکے ہیں اور ان کی خواتین اب واپس فطرت کی گود میں آناچاہتی ہیں ۔ وہ یسی چیزوں سے بےزار ہورہی ہیں جن سے گھریلوزندگیاں برباد ہوں ، عفت و حیا کا تقدس پارہ پارہ ہو۔ اب یہ منحرف اقوام اخلاقی پستیوں اور مادر پدر آزاد تہذیبوں کے چنگل سے نکل باہر آنے کا نہ صرف مطالبہ کررہی ہیں بلکہ یہ لوگ بداخلاقی کی کڑی دھوپ میں جابجا اسلام کے شجر سایہ دار میں سستانے لگے ہیں ۔ یہ ایک اٹل سچ ہے کہ اسلامی علوم و فنون ہر زمان ومکان میں ترقی کی راہ میں معاون ثابت ہوئی ہیں کیونکہ اسلام رہبانیت وترک دنیاکا مخالف ہے لیکن ہمارے معاصرسماج کے اکثر والدین اپنی اخلاقی ترجیحات سمجھنے سے قاصر ہیں۔ ایسے میں نوخیز نسل لوگ کرے توکیا کرے؟ ہمارے بیٹے اورہماری بیٹیاں اگر اسلامی و اخلاقی تعلیمات سے بے خبر ہیں تو اس کے لئے صرف والدین ذمہ دار ہیں کیونکہ ایک گھر اور ایک اصطبل میں کافی فرق ہوتا ہے۔ افسوس کہ اس بدقسمتی پر والدین اپنی عقل کا ماتم بھی نہیں کرتے بلکہ الٹا دوسروں کو قصور وار ٹھہراتے ہیں۔ابھی بچے نے چار لفظ بھی نہیں سیکھے کہ اس کو Branded سیل فون ہاتھ میںتھمادیا اور لاڈلی بیٹی فون کو غلط طریقے سے موبائیل کو استعمال کرے تو کسی ماں باپ کے ماتھے پر کوئی شکن نہیں ۔ عام مشاہدہ تو یہ ہے کہ کانوں میں ائر فون ہے، ہیرا سٹائل، لباس ، میک اپ، وغیرہ ہر اس چیز اس بات کا اظہار ہورہا ہے کہ یہ کشمیر سے نہیں بلکہ کسی پردیس کے گڑے گڑیا ہیں۔ کیا یہ فکر وثقافت اور یہ تہذیب ہمیں زیب دیتی ہے ؟ قرآن و حدیث کے مطابق والدین گھر کے ذمہ دار ہیں ،اس بارے میں عنداللہ جواب دہ ہیں، جب کہ رب کائنات کا اعلان ہے:”اپنے اہل و عیال کو جہنم کی آگ سے بچاؤ“اللہ ہمیں اپنے گھروں کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا کرے۔(بصیرت فیچرس)

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker