Baseerat Online News Portal

"غزل” ہم ان کو فقط اپنا بنانے میں لگے ہیں

"غزل”

ہم ان کو فقط اپنا بنانے میں لگے ہیں

اور وہ ہیں کہ دنیا میں زمانے میں لگے ہیں

 

ُاُتنا ہی ہُوا جاتا ہے وہ آپے سے باہر

جتنا ہی اسے ہم کہ منانے میں لگے ہیں

 

ویسے ہی وہ خاطر میں مجھے لاتا نہیں ہے

اوپر سے سبھی اس کو سِکھانے میں لگے ہیں

 

تب ان سے بھلا صلح کی امید ہو کیسے

جب رائی کا پربت وہ بنانے میں لگے ہیں

 

جب سب ہی اندھیروں کے پجاری ہیں یہاں پر

کیوں آپ چراغوں کو جلانے میں لگے ہیں

 

میں ان کے لئے ایک غزل لکھنے کا خواہاں

وہ ہیں کہ مرے ہوش اڑانے میں لگے ہیں

 

اس ہوش ربا حسن کو آپ اتنا سجا کر

دل والوں میں کیوں حشر اٹھانے میں لگے ہیں

 

جب سے ہے سنا آنے کو ہیں وہ "ذکی طارق”

ہم تب سے ہی گھر اپنا سجانے میں لگے ہیں

 

ذکی طارق بارہ بنکوی

ایڈیٹر۔ہفت روزہ "صداۓ بسمل” بارہ بنکی

سعادت گنج،بارہ بنکی،یوپی

You might also like