مضامین ومقالات

بینکوں کی ڈوبتی ہوئی نیا

ایس اے ساگر
کسی بھی معیشت کا سب سے زیادہ نمایاں حصہ مضبوط بینکنگ نظام تسلیم کیا جاتا ہے۔سیدھی سی بات ہے کہ جدیدمعاشی نظام کی نیک نامی اور ساکھ اسی پرمنحصر ہوتی ہیں۔غالبایہی وجہ ہے کہ سرکاری بینکوں کو خطرے سے نکالنے کیلئے حکومت نے ایک بار پھر اپنے خزانہ کا منہ کھول دیا ہے۔ آئندہ4 سال میں وہ ان بینکوں کو 70 ہزار کروڑ روپے دے گی جبکہ رواں برس کے دوران ان بینکوں کو پچیس ہزار کروڑ روپے کی مدد ملے گی۔ گزشتہ پانچ سال میں حکومت بینکوں کو 64ہزار کروڑ روپے پہلے ہی دے چکی ہے۔این پی اے یا نان پرفارمنگ ایسیٹس یعنی پھنسے ہوئے قرضوں میں اضافہ اور منافع میں مسلسل کمی کی وجہ سے سرکاری بینک خطرے میں چل رہے ہیں۔ وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے 2015-16 کا عام بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ سرکاری بینکوں کو 2لاکھ40 ہزار کروڑ روپے کی ضرورت ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ان بینکوں کی ایسی خستہ حالت کیسے ہوئی اور اس کیلئے کون ذمہ دار ہیں۔ ہمارے بینک خود قرض کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں، پھر ان پھنسے ہوئے قرضوں میں 86 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ماضی میں مالیاتی مارکیٹ کو اپنے اشاروں پر نچانے والے بینک آج سرمایہ کیلئے انشورنس اورمیچول فنڈ کمپنیوں سے قرض لینے کے محتاج ہیں۔ یہ ایک نئی قسم کا لیکویڈیٹی خسارہ کا بحران ہے۔ اس بحران سے بینکوں کو باہر نکالنے کیلئے ریزرو بینک کو فی الحال کوئی راستہ نہیںسوجھ رہاہے۔
رینبو حکمت عملی :
بینکوں کو بحران سے نکالنے کیلئے حکومت نے سات سطحی رینبوRainbow حکمت عملی تیارکی ہے۔ اس کے تحت بینکوں کی پونجی سے متعلق ضروریات کو پورا کرنے کیلئے مالی مدد فرہم کروانے کیساتھ ساتھ ان کے کام کاج پر نگرانی کیلئے بینک کے بورڈ بیورو کی تشکیل کی تجویز بھی شامل ہے۔ اپریل 2016 سے بینک بورڈ بیورو اپنا کام کاج شروع کرے گا۔ اس کا مقصد سرکاری بینکوں کو فعال اور انہیں نجی بینکوں کے برابر یا ان سے بہتر بنانا ہے۔زراعت اور چھوٹی اور درمیانہ درجے کی صنعتوں میں اچھا کام کرنے والے کچھ بینک مقامی علاقے کے اچھے کھلاڑی ثابت ہو سکتے ہیں۔ سرکاری بینکوں میں’ایمپلائی اسٹاف آپشن‘مہیا کروانے پربھی غوروفکر ہو سکتا ہے۔ مالیاتی خدمات کے سیکرٹری ہنس مکھ ادھیا کے مطابق سرکاری بینکوں کے انضمام وقت کی ضرورت ہے اور اگر مجوزہ بینک بورڈ بیورو ان بینکوں کو آپ کی سطح سے اقدامات کو راضی نہیں کر سکا تو حکومت کو دخل دینا پڑ سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کچھ سرکاری بینکوں کا الحاق بھی کیا جا سکتا ہے۔
خدشات کی یلغار:
’فنانشل اسٹے بلٹی رپورٹ‘کے مطابق بینکوں کی جانب سے فراہم کردہ قرضوں اور این پی اے کا تناسب خطرناک سطح پر پہنچ گیا ہے۔ سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ آنے والی کچھ سہ ماہیوںمیں این پی اے کی حالت مزید بگڑ سکتی ہے۔ اس وجہ سے بینکوں کو اپنے منافع سے زیادہ رقم کی فراہمی پھنسے ہوئے قرض کے نقصان کی تلافی کیلئے برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔ یوں تمام بینکوں کے این پی اے کی سطح ٹھیک نہیں ہے، لیکن سرکاری بینکوں کی حالت زیادہ خراب ہوئی ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران تمام سرکاری بینکوں کا مجموعی این پی اے2لاکھ 55 ہزار ایک سو80 کروڑ روپے تھا۔ یہ کل پیشگی 5.20 فیصد ہے۔ اس کے علاوہ بڑے پیمانے پر قرض کے این پی اے میں تبدیل ہونے کا خدشہ ہے۔
مرض بڑھتا گیا:
گزشتہ ہفتہ نصف درجن سرکاری بینکوں نے اپریل جون، 2015 کی سہ ماہی کے مالیاتی نتائج کا اعلان کیا۔ ملک کے دوسرے سب سے بڑے سرکاری بینک پی این بی کا خالص منافع 49 فیصدسے گھٹ کر سات سو اکیس کروڑ روپے رہ گیا ہے۔ بینک کا کہنا ہے کہ پھنسے ہوئے قرضے یااین پی اے کی رقم کو ایڈجسٹ کرنے کیلئے اس آمدنی کے ایک حصہ کو استعمال کرنا پڑتا ہے۔ اس سہ ماہی میں پی این بی کا مجموعی این پی اے 25397 کروڑ روپے رہا۔ گزشتہ سال کی سہ ماہی میں یہ رقم 19603 کروڑ روپے تھی جبکہ یہی حال بینک آف انڈیا کا رہا ہے۔گزشتہ سہ ماہی میں اس کا منافع 84فیصدسے گھٹ کر 129.72 کروڑ روپے رہ گیا۔ اسی طرح سنڈیکیٹ بینک کا خالص منافع 32فیصدسے کم ہو کر تین سو دو کروڑ روپے رہا۔ یونین بینک آف انڈیا کا منافع بھی 22 فیصد گھٹ کر پانچ سو انیس کروڑ روپے رہ گیا۔ ان خراب کارکردگیوں کیلئے پھنسے ہوئے قرضـوں کے مسائل ذمہ دار ہیں۔ ان تمام بینکوں کی این پی اے سطح گزشتہ سہ ماہی میں اضافہ ہوا ہے۔
پورے نظام میں دراریں:
وہ زمانے لد گئے جب ہندوستان کا بینکنگ صنعت جماکرتاوں کے بھروسے کی کہانی سناتے تھکتا نہیں تھا، لیکن 2011-12 میں بینکوں کی جمع ترقی کی شرح دس سال کے سب سے نچلی سطح (17.7 سے 13.7 فیصد) پر گرگئی۔ ڈیپوزیٹرس کے اس بدلے ہوئے رویہ کے سبب ہندوستانی بینکاری میں خطرے کے پیمانے ہی بدل گئے ہیں۔ بینکوں نے اپنی روز مرہ سرمایہ ضروریات کیلئے مارچ 2012 کے دوران پورے مالی نظام سے جو ادھار، اس انشورنس کمپنیوں کا حصہ ستائیس اورمیچول فنڈز کا37 فیصد تھا۔ ان میں بھی باہمی فنڈ سے لئے گئے قرضے مختصر مدت کے ہیں۔ یعنی اچانک پیسہ نکالنے سے بینک لڑکھڑا سکتے ہیں۔ہندوستان کا مالی نظام بشمول بینک، انشورنس ،میچول فنڈ، اسٹاک مارکیٹ آپس میں گہرائی تک پیوست ہیں۔ بظاہریہ مثبت تبدیلی ہے، لیکن اس کا کیا کیجئے کہ جب بینکوں میں روزمرہ کی سرمایہ کی کمی ہو توایسی وابستگی خطرات سے عبارت ہو جاتی ہے۔ فنانشل ا سٹے بلٹی رپورٹ مانتی ہے کہ ہندوستان میں سب سے زیادہ وابستہ بینک اگر کسی مشکل میں پھنستے ہیں تو پورا نظام لڑکھڑا جائے گا اور اگر بینکوں کو قرض دینے والی انشورنس اور میچول فنڈ کمپنیاں ٹوٹ گئیں تو بھی پورے نظام میں دراریں آجائیں گی۔
گرتے کے دولات:
رواںمالی سال کی پہلی ششماہی میں گھریلو بینکوں کے پھنسے ہوئے قرضوں میں چھیاسی فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ کمپنیوں کی بگڑتی ہوئی مالی حالت کی وجہ سے بینکوں کی اقتصادی صحت میں یہ گراوٹ درج کی جا رہی ہے۔ پھنسے ہوئے قرض میں یہ اضافہ ایسے وقت میں درج کیا جا رہا ہے، جب کمپنیوں کے قرض کی تشکیل نو کے معاملے ریکارڈ سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ موجودہ سال کی پہلی2 سہ ماہیوں میں اب تک74 کمپنیوں کا قرض دوبارہ سے منظم کیا جا چکا ہے۔ اس کے تحت کل چالیس ہزار کروڑ روپے کے قرض کی تشکیل نو ہے۔اس دوران کل 35 بینکوں نے اپنے کل پھنسے ہوئے قرض (این پی اے) میں اضافہ کی اطلاعات فراہم کروائی ہیں۔ کل 35بینکوں کے این پی اے گذشتہ شش ماہی میں اٹھائیس فیصد بڑھے ہیں، اس سے ان کے خراب معیار کے قرض بڑھ کر 1.47 لاکھ کروڑ روپے کے ہو گئے۔ اس مطالعہ میں غیر ملکی بینکوں اور غیر شیڈولڈ گھریلو بینکوں کو شامل نہیں کیا گیا۔ ان تمام 35 بینکوں کے مجموعی این پی اے گزشتہ سال کی اسی ششماہی میں ملک کے پورے بینکاری نظام کے مجموعی این پی اے سے زیادہ رہے ہیں۔
ضمنی اثرات کا قہر:
اگر بجلی کے شعبہ کی حالت بہتر بنانے کیلئے فوری طور متاثر کن قدم نہیں اٹھائے گئے، تو اس کا سب سے بڑا ضمنی اثرات سرکاری بینکوں پر ہی پڑے گا۔ یو پی اے حکومت کے دباومیں گزشتہ چند برسوں کے دوران سرکاری بینکوں نے بجلی کمپنیوں کو دل کھول کر قرض دیا ہے، لیکن اب ان سے قرض وصول کرنامشکل ہو گیا ہے۔ اس وقت ملک کی مختلف بجلی منصوبوں میں بینکوں کے تقریبا تین لاکھ کروڑ روپے پھنسے ہوئے ہیں۔ گزشتہ دنوں سرکاری بینکوں نے وزارت خزانہ کو پیغام بھیج کر حالات کی سنگینی سمجھانے کی کوشش کی۔ بینکوں نے کہا ہے کہ بجلی کے شعبے کی حالت نہیں ایسی اصلاح شدہ تو ان کیلئے آگے زیادہ قرض دینا مشکل ہوگا۔30 ستمبر، 2011 تک کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ بجلی کمپنیوں پر بینکوں کے کل 297762.53 کروڑ روپے بقایا ہیں۔ بینکوں کے اس موقف سے حکومت بھی پس و پیش میں ہے کیونکہ اپریل 2012 سے شروع بارہویں منصوبہ بندی کے دوران ملک میں ایک لاکھ میگاواٹ اضافی بجلی کی پیداوار کا ہدف مقررکیا گیا تھا۔ یہ ہدف اسی صورت میں حاصل کیا جا سکے گا، جب بجلی منصوبوں کو بینکوں سے قرض ملے گا، لیکن اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2010-11 کے دوران محض تین بینکوں کو بجلی منصوبوں سے وقت پر قرض کی واپسی ہوئی ہے۔ بینک آف بڑودہ، دینا بینک اور یوکو بینک کو چھوڑ کر دیگر تمام بینکوں کیلئے بجلی منصوبوں سے قرض وصول کرناٹیڑھی کھیر ثابت ہو رہا ہے۔ ایسے بہت سے بینکوں کے پھنسے ہوئے قرضے یا این پی اے میں شدیداضافہ کا خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ ریزرو بینک نے بھی گزشتہ ہفتہ سالانہ استحکامی رپورٹ میں اس خطرہ کے سلسلہ میں خبردار کیا۔
مزید سنگینی کی آہٹ:
وزیر خزانہ ارون جیٹلی کے سامنے آج سب سے بڑا چیلنج گھریلو بینکوں کو مضبوط بنانے کا ہے۔ غیر ملکی تجارت کے معاملہ میں ہمارا نقصان مسلسل بڑھ رہا ہے۔ لہذا ہمارے سامنے خطرہ زیادہ ہے۔ اگر ہمارا بینکنگ نظام لڑکھڑایا تو معیشت کوڈوبنے میں دیر نہیں لگے گی۔ امریکہ میں بینکاری نظام کے لڑکھڑانے سے اسے شدید کساد بازاری سے گزرنا پڑا، جس کا اثر پوری دنیا پر پڑا۔ ہندوستان میں بھی 1947 سے لے کر 1955 تک ہر سال چالیس بینک دیوالیہ ہوئے اور 1967 تک محض91 بینک سلامت رہے۔ ہندوستان کی حکومت نے ان بینکوں کو قومیا کر انہیں سرکاری بینک میں تبدیل کر دیا۔ 1991 سے 2001 کے درمیان 22 نجی بینکوں کو لائسنس بانٹے گئے، لیکن اس کا کیا کیجئے کہ ان میں سے محض4 بینک مضبوطی سے ٹک پائے۔وزیر خزانہ نے گزشتہ ماہ بینکوں کیساتھ ملاقات کے بعد امید ظاہر کی تھی کہ این پی اے کے مسئلہ آہستہ آہستہ ختم ہو جائے گا۔ لیکن بینکوں کے اعداد و شمارشاہدہیں کہ یہ مسئلہ اب مزید سنگین ہوگیا ہے۔ ریٹنگ ایجنسی موڈیز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان بینکوں کا مسئلہ اگلے مالی سال میں بھی جاری رہے گا!

‘To Bring Down PSU Banks’ NPA’
By: S. A. Sagar
Hoping that the NPA situation will improve in the coming quarters, finance minister Arun Jaitley on Friday said an all-out effort has been launched to correct the current “unacceptable” level of bad loans in the PSU banks. According to reports, August 21, 2015, “NPAs, which have reached to the present level are unacceptable. They reached this level partly because of indiscretion, partly because of inaction, partly because of challenges in some sectors of the economy, which were evident through the high NPA in these sectors,” he said. Jaitley was inaugurating 109 new branches and 109 Bunch Note Acceptors (BNA) on the Indian Bank Foundation Day. Gross Non Performing Assets (NPAs) of public sector unit (PSU) banks at the end of March quarter stood at 5.20 per cent compared with 5.63 per cent in December. “An all-out effort have been launched to correct the health and bring NPAs down. The effort by the bank administration, the effort by the government to infuse more capital, the effort to get more finance by divesting (government holding), and then greater discretion and more importantly addressing the concerns of each of (stressed) sectors. “And I don’t have a doubt that over the next few quarters, the banks will be able to address these challenges,” he said. The Finance Minister said the government’s plan to infuse capital into the PSU banks over the next four years will “infuse lot of financial strength” in these banks to deal with the bad loan problems.

بصیرت فیچرس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker