Baseerat Online News Portal

نظم: علم کی فضیلت

تخلیق:ڈاکٹر آصف لئیق ندوی
عربی لیکچرر،مولاناآزاد نیشنل اردو یونیورسٹی،حیدرآباد

یقیناً علم ہے اک نور، اور یہ نور رہبر بھی
ترقی کے مدارج کا ہنر بھی اور گوہر بھی

یہ طاقت بھی ہے دولت بھی یہ ملت کا ہے سرمایہ
یہ رفعت بھی یہ عظمت بھی یہ ماں بہنوں کا زیور بھی

بنا تعلیم دنیا میں، جینا بھی تو مشکل ہے
یقیناً علم سے بنتے ہیں سب بگڑے مقدّر بھی

یہ مؤمن کے لیے ہتھیار ہےاس دورِ حاضر میں
ہے علمِ دین ودنیا بھی، یہ عقبیٰ بھی یہ محشر بھی

عروجِ ملک وملت میں ضرورت ہے بہت اس کی
نہیں ہے علم تو پھر ہار سکتا ہے یہ لشکر بھی

عبادت اور دعوت کے لیے بھی علم لازم ہے
اگر ہو علم تو دیتے ہیں یہ رستے سمندر بھی

ہمارا علم ساتھی ہے، یہ مونس بھی ضرورت بھی
ہے تنہائی کے عالم میں، ہر اک انساں کا ہمسر بھی

یہ ہے کردار کا غازی، یہ ہے گفتار کا شاھیں
چمکتا ہے یہ اندر بھی، جھلکتا ہے یہ باہر بھی

ہے قوموں کی بلندی، اور پستی میں دخل اس کا
تجارت، علم سے روشن ہے، گھر آفس بھی دفتر بھی

شتر بانوں کو بھی، یہ بادشاہی ہے عطا کرتا
بناتا علم ہے سب کو مقدّر کا سکندر بھی

تعلیم سے آصف، سنور جاتی ہے تقدیر!

You might also like