Baseerat Online News Portal

اگر عام مسلمان یہ طے کرلیں کہ…

٭ شکیل رشید(فیچرایڈیٹر روزنامہ اردوٹائمز، ممبئی) 
’پیٹ پالتو علماء‘!
آج یہ اصطلاح واٹس اپ پردیکھی تو چونک پڑا۔ کسی صاحب نے یہ اصطلاح اُن علمائے کرام کو دی ہے جو بہار کے اسمبلی الیکشن میںبی جے پی کے خیمے میں نظر آرہے ہیں۔ دعویٰ ہے کہ یہ وہ علمائے کرام ہیں جنہوں نے گجرات اور کشمیر میں بی جے پی کو کامیابی دلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اب بہار میں یہی علماء بی جے پی کو کامیاب بنانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگائے ہوئے ہیں۔ ایسے علمائے کرام کی تعداد کئی سو بتائی جارہی ہے۔ آج ہی واٹس اپ پر تین ایسی تصویر یں بھی نظر آئیں جن میں وزیراعظم نریندر مودی چند علمائے دین سے مسکرا مسکرا کر باتیں کررہے ہیں۔ انداز سے یوں لگتا ہے جیسے کہ ان میں اور ان سے ہم کلام علمائے کرام میں برسہا برس کی شناسائی ہے۔
یہ سچ ہے کہ کچھ علمائے کرام ہیں جو بی جے پی کے خیمے میں نظر آرہے ہیں اور یہ بھی سچ ہے کہ ان کی وزیراعظم مودی سے بھی اور بی جے پی کے دوسرے چوٹی کے لیڈروں سے بھی اچھی خاصی راہ ورسم ہے۔ اور یہ ممکن ہے کہ بی جے پی کے لیڈروں سے یہ اپنے تعلقات کافائدہ بھی اٹھاتے ہوں۔ کچھ کھاتے اور کچھ کھلاتے ہوں۔ مگر یہ بات ماننے جیسی نہیں ہے کہ یہ علمائے کرام بی جے پی کے حق میں مسلم رائے دہندگان کے ذہنوں کو ہموار کرنے میں کامیاب رہتے ہیں یا رہے ہیں۔ یہ بات بھی نہیں مانی جاسکتی کہ کشمیر پر بی جے پی کا قبضہ ان ہی علمائے کرام کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ سچائی یہ ہے کہ بی جے پی کو کشمیر میں کامیابی مفتی محمد سعید کی وجہ سے ملی ہے۔ مفتی محمد سعید اور بی جے پی کے گٹھ جوڑ کی کامیابی بھی اسی لیے ممکن ہوسکی تھی کہ عام لوگ عمر عبداللہ کی حکومت کی ’کارکردگی‘ سے مطمئن نہیں تھے۔ ایک سچ یہ بھی ہے کہ علمائے کرام کی ایک بڑی تعداد نے مفتی محمد سعید اور بی جے پی کے خلاف ووٹ دینے کی اپیل کی تھی، مگر اس اپیل کے باوجود یہ گٹھ جوڑ کامیاب رہا۔ شاید اس کی وجہ یہ رہی ہو کہ کشمیریوں کو اس گٹھ جوڑ میں امید کی کوئی روشنی نظر آئی ہو۔ یا یہ بھی ممکن ہے کہ اس گٹھ جوڑ کی کامیابی کے لیے بڑے پیمانے پر دھاندلی کی گئی ہو۔ وجہ جو بھی ہو کشمیر میں بی جے پی کی کامیابی کو اُن علمائے کرام کے کھاتے میں نہیں ڈالا جاسکتا واٹس اپ پر جن کے لیے ’پیٹ پالتو‘ کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔ گجرات کی کامیابی میں بھی ایسے علماء کا نہیں مودی کی لہر کا ہاتھ تھا اور پارلیمانی الیکشن میں بھی بی جے پی کی کامیابی میں ایسے علماء کا نہیں ’ہندوئوں کے متحد ‘ہونے کا ہاتھ تھا۔
یہ ممکن ہے کہ ’پیٹ پالتو علماء‘ کہلانے والوں کی سرگرمیاں چند سیٹو ںپر اثر انداز ہوئی ہوں مگر یہ بہت زیادہ سیٹوں پر نہ پہلے اثر انداز ہوئے ہیں اور نہ اب ہوں گے۔ بہار میں بھی ایسے ’پیٹ پالتو علما‘ کی دال نہیں گلنے والی۔ عام مسلمان انہیں خوب جانتے اور پہچانتے ہیں۔ اور اگر جان کر اور پہچان کر بھی عام مسلمان ایسے ’بھاجپائی علمائے کرام‘ کی باتوں میں آتے اور اپنے ووٹوں کو منتشر کرتے ہیں تو یہ ان ’بھاجپائی علمائے کرام ‘ کی کامیابی نہیں عام مسلمانوں کی حماقت کہلائے گی۔ مسلمان افسوس کہ ایسی حماقت کرتے چلے آئے ہیں۔ ایک ہی سوراخ سے بار بار ڈسے جانا، ان کی سرشت میں جیسے کہ شامل ہوچکا ہے۔ اگر عام مسلمانوں نے ایک دفعہ مَن بنالیا کہ ’پیٹ پالتو‘ علماء کی ،بھاجپائی علمائے کرام یا علمائے سو کی ایک نہیں سنیں گے، نہ اپنے ووٹ بٹنے دیں گے اور نہ دوسروں کے ووٹ بانٹیں گے، تودیکھئے کہ کیسے اس ملک کی سیاست میں مسلمانوں کا ایک مقام بنتا ہے۔ مسلمان ’کنگ میکر‘ ہوسکتے ہیں۔ اور یہ ’بھاجپائی علمائے کرام‘ جو ہیں ان کی حیثیت بالکل ’نہ گھر کے نہ گھاٹ کے‘ والی ہوسکتی ہے۔ یہ اسی قابل ہیں کیوں کہ یہ ’امت واحدہ‘ کے اسلامی تصور کو ’زمینی آقائوں‘ کے سامنے سجدہ ریز ہوکر پاش پاش کرتے چلے آرہے ہیں۔ ایک دن ان کی ساری تمنائوں اور ساری خواہشوں کوپاش پاش ہونا ہی ہے کہ یہی سنت اللہ ہے۔
(بصیرت فیچرس)

You might also like