Baseerat Online News Portal

غزل کے روپ میں ہم آج زخم دِل دکھاتے ہیں

غزل

احمد فاخرؔ، نئی دہلی

غزل کے روپ میں ہم آج زخم دِل دکھاتے ہیں
نہ سمجھو آپ بیتی تم کو جگ بیتی سناتے ہیں

نہیں ہو تم تو سونی سونی سی لگتی ہے یہ دنیا
چلے آؤ تمہاری راہ میں پلکیں بچھاتے ہیں

تمہیں اس کا پتہ شاید نہیں ہوگا کہ ہم اکثر
تمہاری یاد کو اپنے جگر کا خوں پلاتے ہیں

ہماری بیخودی دیکھو کہ جب بھی شام ڈھلتی ہے
تمہارے نام کا روزانہ ہم دیپک جلاتے ہیں

تمہارے پاؤں نے کچلا تھا جن خاشاک کو یکسر
اُنہیں خاشاک کو ہم آنکھ کاسرمہ بناتے ہیں

ہمارے دل پہ جو گزری،جو ٹوٹا کوہِ غم ہم پر
بہ اسلوبِ غزل رُوداد وہ تم کو سناتے ہیں

نسیمِ صبح یہ رنگیں فضا، پر کیف یہ منظر
مبارک ہو تمہیں سب، ہم توشامِ غم مناتے ہیں

قیامت تک ہمارے شعرتم کو زندہ رکھیں گے !
تمہارے ساتھ ہم رشتہ کچھ اس صورت نبھاتے ہیں

You might also like