Baseerat Online News Portal

نمناک تھیں ، کھنڈر تھیں ، ترے انتظار میں ( غزل)

طارق مسعود

نمناک تھیں ، کھنڈر تھیں ، ترے انتظار میں
آنکھیں لہو کا گھر تھیں ترے انتظار میں

وحشت ، جنوں ، شکستہ در و در مرے قریب
یہ چیزیں خاص کر تھیں ترے انتظار میں

خوابِ وصال غم کے لفافے میں بند تھے
تعبیریں در بدر تھیں ترے انتظار میں

آوازیں دے رہا تھا مجھے ہر کوئی مگر
آوازیں بے اثر تھیں ترے انتظار میں

بے سمت ایک پل بھی نہ ہونے دیا مجھے
کچھ یادیں راہبر تھیں ترے انتظار میں

مصرعوں کو لمسِ وصل میسر نہیں تھا اور
غزلیں بھی چشمِ تر تھیں ترے انتظار میں

طارق مسعود

You might also like