جہان بصیرتنوائے خلق

بھارت ماتاکی جئے کہناقرآن کی نظرمیں حرام

مکرمی!
’’بھارت ماتا کی جئے‘‘قرآن کریم کی ایک آیت (لاتقولوا راعناوقولوا انظرنا آیت نمر ١٠٤) کی دلیل سے ناجائزوحرام ہے ؛کیوں کہ جس طرح راعنا کا استعمال دو معنوں میں ہوتا تھا: ایک اچھے اور دوسرے برے ،صحابہ کرام اسے اچھے معنیٰ میں جب کہ یھود برے معنیٰ میں استعمال کرتے تھے ،اللہ تعالیٰ نےصحابہ کرام کو برے معنیٰ کے اشتباہ سے بچانے کے لئے راعنا کہنے سے منع کر دیا اور اسکے ہم معنیٰ دوسرا لفظ انظرنا کہنے کا حکم دیا ،ٹھیک اسی طرح’’بھارت ماتا کی جئے‘‘ کے دو معنیٰ ہیں: ایک مادر وطن زندہ باد اور دوسرا مشرکانہ؛ اس لئے مشرکانہ معنیٰ کے اشتباہ سے بچنے کے لئے مسلمانوں کے لئے بھارت ماتا کی جئے کہنا جائز نہیں. اس کی جگہ مادر وطن زندہ باد یا کوئی اور شرعی نعرہ لگایا جائے گا ۔
ماتا سے ہو کیوں نفرت ہم کو بھارت سے بھلا کیوں بیر رہے
ہاں شرک سے ہم کو نفرت ہے توحید ہمارا شیوہ ہے
مفتی محمد زاہد ناصری القاسمی

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker