Baseerat Online News Portal

یہ ہجر کی شدت مجھے تڑپاتی ہے جاناں

غزل

احمد فاخرؔ

یہ ہجر کی شدت مجھے تڑپاتی ہے جاناں
مشکل یہ حیات اور ہوئی جاتی ہے جاناں

افسانہ نہیں سچ ہے کہ یہ شاعری میری
تم جیسے پری رُخ سے جِلا پاتی ہے جاناں

اَب کیسے کہوں تم سے میں اس غم کا فسانہ
یہ دُوری تمہاری تو جگر کھاتی ہے جاناں

میں چین سے کیسے رہوں اب تم ہی بتاؤ
ہر وقت مجھے یاد تری آتی ہے جاناں

یہ یاد عجب شی ہے، مجھے خون کے آنسو
ہر لمحہ تسلسل سے یہ رُلواتی ہے جاناں

سوچا تھا کبھی، بھول میں جاؤں تمھیں؛ لیکن
یہ بات خیالوں سے کہاں جاتی ہے جاناں

یہ تم ہی بتاؤ میں جیوں کس کے سہارے
اب زندگی دشوار نظر آتی ہے جاناں

اَب لوٹ کے آجاؤ جدائی نہ سہی جائے
ٹوٹے ہوئے دل سے یہ صدا آتی ہے جاناں

کیا خوب تماشا ہے کہ فاخرؔکی ہر اک آہ
اَب عرش سے ٹکرا کے یہ لوٹ آتی ہے جاناں
٭٭٭

You might also like