مضامین ومقالات

کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے

حفیظ نعمانی
2014ء میں مشہور ٹی وی چینل میں سے کوئی ایک نہیں تھا جو مودی کے لئے راستہ صاف نہ کررہا ہو اور جھاڑو نہ لگا رہا ہو۔ پھر جیسے جیسے وقت گذرا اُن کی کارگذاری سے محسوس ہونے لگا کہ اب وہ آزاد صحافی ہیں اور اگر اُنہیں تنقید کرنا ہو تو اس میں ڈنڈی نہیں مارتے۔ پھر جب ایک سال گذر گیا اور وزیر خارجہ سُشما سوراج، وزیر فروغ انسانی وسائل اسمرتی ایرانی اور وزیر اعلیٰ مدھیہ پردیش شیوراج سنگھ کے معاملات سامنے آئے تو انہوں نے وہی کہا جو ایک ذمہ دار صحافی کو کہنا چاہئے۔ لیکن یہ خبر کہ اروند کجریوال بہار کے الیکشن میں نتیش کی مدد کرنے کے لئے جانے والے ہیں اور یہ کہ وہ اپنے اُمیدوار نہیں کھڑے کریں گے بلکہ صرف نتیش کمار کی مدد کریں گے بجلی بن کر اُن سب پر گری ہے جو اب مودی صاحب پر تنقید بھی کرنے لگے تھے اور ان میں نیوز پوائنٹ کے اے، جی، پرکاش بھی ہیں جو انتہائی محنتی اور صاف گو صحافی سمجھے جاتے ہیں۔
ایک دن تو وہ عاپ پارٹی کے ایک ترجمان سے ایسے لڑرہے تھے کہ ان کا چہرہ سرخ ہو ہو جارہا تھا اور آواز سے جانبداری برس رہی تھی انتہا یہ کہ بالکل یہ محسوس ہونے لگا تھا کہ جیسے 2014 ء واپس آگیا اور بہار کے الیکشن کے لئے انہیں دوبارہ امت شاہ نے خرید لیا ہے۔ وہ نہ صرف نتیش پر گولیاں برسا رہے تھے بلکہ بار بار کجریوال کی ان باتوں کو دہرا رہے تھے کہ وہ عام روش سے ہٹ کر حکومت چلاکر دکھائیں گے اور بھرشٹاچار سے کوئی سمجھوتہ کسی قیمت پر نہیں کریں گے اور انہیں سب سے بڑا اعتراض یہ تھا کہ جس نتیش نے لالو یادو کے ساتھ مل کر اور کانگریس کو ساتھ لے کر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے اس کی مدد کرنے کے لئے کجریوال کیسے تیار ہوگئے؟ جبکہ لالو چارہ گھٹالے کے الزام میں جیل جاکر ضمانت پر آئے ہیں۔
دہلی ملک کی شاید ایسی اکیلی ریاست ہے جس کی حکومت ہے بھی اور نہیں بھی ہے۔ یہ ایسی حکومت ہے کہ مرکزی حکومت کی اسے سرپرستی حاصل ہو تو وہ پوری حکومت ہے۔ اگر سرپرستی نہ ہو اور دشمنی بھی نہ ہو تو وہ کام چلائو حکومت ہے اور اگر آج جیسی صورت حال ہو کہ دشمنی ہی نہیں جانی دشمنی ہو تو وہ ایک تفریح کا کلب ہے جہاں حکومت چلانے کا کام ڈرامہ کی طرح ہوتا ہے اور جس سے نہ کسی کا کچھ بنتا ہے اور نہ بگڑتا ہے۔
کجریوال اگر چاہیں تو خود کام تلاش کریں اور اسے پورا کریں اور جب مودی صاحب یہ دیکھیں کہ کجریوال سے لوگ خوش ہورہے ہیں تو وہ اپنے ایل جی کو حکم دے دیں کہ اس کام پر بھی قبضہ کرلو اور اعلان کردو کہ یہ بھی مرکزی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ایسا بے روزگار حکمراں اور ایسی بے مصرف کی حکومت اگر اپنے دہلی کے تجربہ کو صوبہ صوبہ فروخت کرکے اپنے جانی دشمن کو کمزور کرے تو کسی کو اعتراض نہ کرنا چاہئے۔ پوری دنیا کو معلوم ہے کہ کجریوال نے امت شاہ کو ہی نہیں دہلی میں وزیر اعظم کو بھی دھول چٹائی ہے۔ وہ تقریر نہیں کرتے جادو کرتے ہیں اور عوام کے دلوں میں اُترکر انہیں اپنے ساتھ لے آتے ہیں۔ وہ نہ مودی کی طرح دہاڑتے ہیں نہ چنگھاڑتے ہیں بلکہ دلوں میں ایسے اترتے ہیں جیسے لفٹ سے دسویں منزل سے زمین پر آتے ہیں اور پتہ بھی نہیں چلتا کہ کب آگئے؟
نیوز ریڈر مسٹر پرکاش دیکھ رہے ہیں کہ اور دنیا کو دکھا رہے ہیں کہ تمل ناڈو کی امّاں جیہ للتا جب دس ہزار ساڑیوں، پانچ ہزار جوتوں اور سیکڑوں کروڑ روپئے کی بربادی کے الزام میں جیل گئیں تو کتنے اُن کے منھ بولے بیٹوں نے خودکشی کرلی، سیکڑوں نے سر منڈوادیئے لڑکوں نے انگلی کاٹ لی اور لاکھوں سینہ پیٹنے لگے۔ آخری حد یہ ہے کہ جب ان کی جگہ وزیر اعلیٰ اور دوسرے وزیروں نے حلف لیا تو وہ اس طرح رو رہے تھے جیسے اپنی موت کا فیصلہ پڑھ رہے ہیں اور جب امّاں کی ضمانت کی درخواست نامنظور ہوئی ہے تو وہ پورے کرناٹک کو تباہ کرنے پر آمادہ تھے۔ یہ امّاں لالو سے 100 گنا زیادہ گندے الزامات میں جیل بھیجی گئی تھیں اور برسوں سے ان کے خلاف مقدمہ چل رہا تھا لیکن عوام کے نزدیک وہ پاک صاف تھیں۔ یہی حال لالو کا ہے کہ آدھا بہار یہ مانتا ہے کہ لالو بے قصور ہیں انہیں جھوٹے الزام میں پھنسایا گیا ہے اور ابھی عدالت کے فیصلے باقی ہیں۔
اور یہ بات تو سب نے تسلیم کرلی ہے کہ جب تک سپریم کورٹ بھی رات کو دو بجے کمرہ نمبر چار کھلواکر فیصلہ نہ کرلے اس وقت تک کوئی فیصلہ آخری نہیں ہوتا۔ اسی اعتبار سے لالو یادو تو امت شاہ سے کہیں زیادہ پاک صاف ہیں نہ ان پر کسی کو قتل کرانے کا الزام ہے اور نہ ایک جوان اور خوبصورت مسلمان لڑکی کے غائب کرانے کا جس کی لاش بھی نہیں ملی اور جو للت مودی کی بیوی سے کہیں زیادہ انسانی ہمدری کے قابل تھی۔
ہم رات کو آٹھ بجے اکثر اے جی پرکاش کو سنتے ہیں لیکن جس دن وہ کجریوال پر برس رہے تھے اور تفصیل بتا رہے تھے کہ انہوں نے کیا کیا کرنے کے لئے کہا تھا اور ان میں سے کیا نہیں کیا۔ اس وقت انہوں نے کیوں ضروری نہیں سمجھا کہ یہ بھی بتادیں کہ مودی صاحب نے جو درجنوں وعدے کئے تھے جن میں سب سے اوپر پندرہ لاکھ روپئے کی برسات اور اس مہنگائی کو ختم کرنے کا یقین دلایا تھا جس کی حالت یہ ہے کہ 150 روپئے کلو ارہر کی دال، 100 روپئے کلو پیاز اور 500 روپئے کلو گوشت بکنے لگے کیا اس کے بعد بھی اس وزیر اعظم کو عوام سے معافی نہیں مانگنا چاہئے؟ اور اس سے مہنگائی ختم نہ ہوتو حکومت فوج کے حوالے کرنے کی ضرورت نہیں ہے؟ اس لئے کہ یہ تو دیکھ لیا کہ جمہوریت کے بس میں یہ نہیں ہے کہ اس بگڑے ہوئے ملک کو سنبھال سکے۔ اب اسے فوج کی گولی ہی سدھار سکتی ہے۔
کجریوال کا مسئلہ ذاتی مسئلہ ہے وہ ہر جگہ جائیں گے جہاں وہ مودی کو کمزور کرسکیں اگر وہ اپنے امیدوار کھڑے کرکے الیکشن لڑتے تو امت شاہ انہیں دو چار کروڑ روپئے بھی دے دیتے جیسے وہ چھوٹی چھوٹی مسلم پارٹیوں کو دے رہے ہیں یا نئی مسلم پارٹی بنوارہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے دیکھ لیا کہ دہلی میں بی جے پی کا جتنا ووٹ تھا وہ اسے پورا مل گیا لیکن وہ جو مخالف تھا اور کئی جگہ بٹا ہوا تھا وہ ایک ہوگیا اس لئے کجریوال 67 سیٹوں پر جیت گئے۔ بہار میں بھی امت شاہ بس یہ چاہتے ہیں کہ جو مخالف ووٹ چار جگہ تقسیم ہوتا تھا وہ پانچ جگہ تقسیم ہوجائے اس کے لئے وہ پانچ ہزار کروڑ روپئے بھی خرچ کردیں گے اور کجریوال بہار کے سیاسی شعور رکھنے والوں کو صرف یہ بتائیں گے کہ تقسیم ہونے سے بی جے پی لوک سبھا میں 280 سیٹیں لاتی ہے اور دہلی میں تقسیم نہ ہونے سے اسے صرف دو سیٹیں ملتی ہیں۔
امت شاہ مسلم پارٹی اور مولویوں کو بھی اسلام کے نام اور پیسے کے بل پر میدان میں اُتاریں گے وہ سازشوں کے لئے بہت بدنام ہیں صرف سہراب الدین اور اس کی بیوی کوثر کے قتل کی ہی نہیں الیکشن میں آزاد امیدوار اور چھوٹی پارٹیوں کو خریدکر اُتارنے کے لئے بہت وہ بدنام ہیں۔ صرف بہار ایک ایسی ریاست ہے جو امت شاہ کے دماغ سے سازش کے کیڑوں کو نکال سکتی ہے۔ بہار کے جیالے صرف اتنا کریں کہ نہ لالو کو دیکھیں نہ کانگریس کو صرف کجریوال کو دیکھیں جو دنیا کے دس بہت طاقتور لیڈروں میں سے ایک مودی کو اس حالت میں خون تھکوا رہے ہیں کہ وہ ان کے مقابلہ میں سوائے خودداری عوام کی محبت کے ہر چیز میں چھوٹے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود اتنے بڑے ہیں کہ صرف ان کے اعلان سے پوری بھگوا حکومت اور بھگوا پارٹی کانپ رہی ہے۔ ؎
دشمن کا جگر زیر کفن کانپ رہا ہے۔
فون نمبر: 0522-2622300
(بصیرت فیچرس)

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker