Baseerat Online News Portal

دینی مدارس ، اہمیت وضرورت

حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی مدظلہ العالی
جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ
اسلام ایک ایسا دین ہے جو زندگی کے تمام مسائل کا احاطہ کرتا ہے ، انسان جن حالات سے دوچار ہوتا ہے ، ان میںسے کوئی گوشہ نہیں ، جس کو اسلام نے چھوڑا ہو ، ایک ایسا مذہب جو عبادت اور زندگی کے چند رسوم اور طریقوں تک محدود نہ ہو ؛ بلکہ پوری زندگی کو اس نے اپنے دائرے میں لے رکھا ہو ، علم کی وسعت اور تحقیق و اجتہاد کے تسلسل کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا؛ اسی لئے اسلام میں تمام ہی علوم اور خاص کر علم دین کو بڑی اہمیت حاصل ہے ۔
پیغمبر اسلام ﷺنے ہر مسلمان پر علم حاصل کرنے کو فرض قرار دیا ہے ، (ابن ماجہ، حدیث نمبر: ۲۲۴) حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص حصول علم کے لئے نکلے وہ جب تک واپس نہ آجائے اﷲ کے راستے میں ہے ، (ترمذی، حدیث نمبر: ۲۶۴۷) علم دین دوسروں تک پہنچانے اور خود حاصل کرنے کی آپ ﷺ نے اس کثرت سے ترغیب دی کہ عہد ِ نبوی ہی میں مسجد ِ نبوی میں علم کے مذاکرہ کی مجلس منعقد ہونے لگیں ، ایک بار آپ ﷺ مسجد نبوی میں داخل ہوئے ، تو کچھ لوگوں کو ذکر میں مشغول دیکھا اور کچھ لوگوں کو علمی مذاکرہ میں مشغول پایا، آپ ﷺ نے دونوں کی تحسین فرمائی ؛ لیکن خود اپنے لئے علمی مذاکرہ کی مجلس منتخب فرمائی اور فرمایا کہ میں معلم بناکر بھیجا گیا ہوں ۔
ہجرت سے پہلے مکہ مکرمہ میں آپ ﷺ نے ’’ دارِ ارقم ‘‘ کو تعلیم و ارشاد کا مرکز بنایا ، جہاں آپ لوگوں کو قرآن پڑھاتے اور دین کی تعلیم دیتے ، (اخبار مکہ للازرقی: ۲؍۲۲۱) حضر ت عمرؓ نے یہیں آکر اسلام قبول کیا اور آپ سے تعلیم پائی ، مدینہ میں مسجد نبوی کی تعمیر کے ساتھ ساتھ آپ ﷺنے ایک چبوترہ بھی تعمیر فرمایا جس پر معمولی سا چھپر بنا ہوا تھا ، یہ طلبہ کی اقامتی درسگاہ تھی ، جہاں دُور دراز سے مسلمان آتے اور کسب ِ فیض کرتے ، اس کو ’’ صفّہ‘‘ کہا کرتے تھے ، عام حالات میں اصحاب ِ صفہ کی تعداد ساٹھ ، ستر ہوا کرتی تھی ، جو گھٹتی بڑھتی رہتی تھی ، قاضی اطہر مبارک پوری مرحوم نے ان کی تعداد چار سو تک نقل کی ہے ، حضرت ابوہریرہ ؓ، حضرت عبداﷲ بن مسعود ؓ ، حضرت ابوسعید خدری ؓ اور حضرت عبداﷲ بن عمر ؓ جیسے اکابر علمائِ صحابہ اس درسگاہ کے تربیت یافتہ اور پرداختہ تھے ۔
آپ ﷺکی سعی رہتی تھی کہ ہر قبیلہ اور علاقہ میں دینی تعلیم کا نظم ہو ؛ چنانچہ آپ ﷺ مختلف قبائل میں بھی معلم متعین فرمایا کرتے تھے ، مدینہ تشریف آوری سے پہلے ہی آپ نے مسلمانانِ مدینہ کی تعلیم و تربیت کے لئے حضرت مصعب بن عمیرؓ کو بھیجا ، سیرت کی اکثر کتابوں میں اس کا ذکر موجود ہے ، فتح مکہ کے بعد وہاں حضرت معاذ بن جبل ؓکو معلم مقرر کیا ، (طبقات ابن سعد:۲؍۳۴۸) بنو ثقیف کی تعلیم و تربیت اور نماز کی امامت کے لئے حضرت عثمان بن ابی العاص ؓ کو مامور فرمایا ، (طبقات ابن سعد:۵؍۵۰۸) عمان کے لوگ مسلمان ہوئے ، تو ان کی تعلیم وتربیت کے لئے حضرت علاء حضرمی کو بھیجا ، (طبقات ابن سعد:۱؍۳۵۱) یمن کے مسلمانو ںنے معلم کی درخواست کی ، تو حضرت علی ؓ کو متعین فرمایا ، آپ ان کے معلم ومربی بھی تھے اور قاضی ومفتی بھی ۔ (مستدرک حاکم:۳؍۲۶۷)
رسول اﷲ ﷺ کے وصال کے بعد صحابہؓ دنیا کے کونہ کونہ میں پھیل گئے ، اور وہاں تعلیم وتعلم کی محفلیں آراستہ کیں ، مدینہ ، مکہ ، کوفہ ، بصرہ ، بغداد ، شام اور مصر وہ خاص مقامات ہیں جہاں صحابہ ؓ کی بڑی تعداد فروکش ہوئی ؛ لیکن عالم اسلام کا کوئی خطہ نہیں تھا جہاں ان برگزیدہ نفوس نے پہنچنے اور علم کا فیض جاری کرنے کی سعی نہ کی ہو ؛ حالاںکہ ان حضرات کو ’’ مدینۃ النبی‘‘ کا قیام زیادہ محبوب و مرغوب تھا ؛ لیکن اسلام اور علومِ اسلامی کی اشاعت کے جذبہ نے ان کودُور دراز علاقوں تک پہنچایا اور اسی کا نتیجہ ہے کہ خود عجم کی سرزمین سے امام ابوحنیفہؒ جیسا فقیہ ، امام بخاریؒ جیسا محدث اور حسن بصریؒ جیسا علومِ باطنی کا رمز آشنا پیدا ہوا ۔
اسلامی علوم کا دامن بہت وسیع ہے ؛ لیکن عہد ِنبوی سے آج تک ان علوم میں تسلسل قائم ہے اور کبھی اس میں انقطاع نہیں پیدا ہوا ، یہ دراصل اس پیشین گوئی کی تصدیق ہے جو آپ ﷺ نے فرمائی تھی کہ ہر نسل میں اس عہد کے معتبر افراد اس علم کا بار اُٹھائیں گے ، جو اس دین میں کی جانے والی آمیزشوں اور باطل تاویلات سے دین کی حفاظت کریں گے ۔ (مشکوٰۃ، حدیث نمبر:۲۴۸)
مسلم سماج میں مساجد کا نظام ایک ایسا نظام ہے جس نے بنیادی دینی تعلیم کے نظام کو بہت آسان کردیا ہے ، ہر مسجد مدرسہ ہے اور امامِ مسجد معلم و مربی ، ابتداء ً زیادہ تر مدارس مساجد ہی میں ہوا کرتے تھے اور دین کی مبادیات کے سکھانے سے لے کر قرآن و حدیث اور فقہ وکلام کی اعلیٰ تعلیم تک کے مراکز یہی مسجدیں تھیں ، امام ابوحنیفہؒ ، امام مالکؒ ، امام احمدؒ اور امام بخاریؒ وغیرہ کا درس زیادہ تر مسجدوں ہی میں ہوتا تھا ،بہ تقاضۂ حالات رفتہ رفتہ مدرسوں کی مستقل عمارت بننے لگی ، مؤرخین کا خیال ہے کہ چوتھی صدی ہجری کے بعد مدارس کی تعمیر کا سلسلہ شروع ہوا ، اور اہل نیشاپور ہیں ، جن کو سب سے پہلے ’’ مدرسہ بیہقیہ ‘‘ کے نام سے ایک دینی درس گاہ کی تعمیر کا شرف حاصل ہوا ، (کتاب الخطط والآثار:۲؍۳۶۲) اس کے بعد نیشاپور میں کئی مدارس قائم ہوئے ، پھر پانچویں صدی کے وسط میں وہ مشہور اسلامی جامعہ تعمیر ہوئی جو ’’جامعہ نظامیہ بغداد ‘‘ کے نام سے جانی جاتی ہے ۔
اس زمانہ میں سلطان الپ ارسلان ( متوفی : ۴۶۵ھ ) بادشاہ تھا اور نظام الملک طوسی کاروبارِ حکومت میں ان کے معتمد خاص تھے ، آج کی زبان میں کہا جاسکتا ہے کہ وزیر اعظم تھے ، نظام الملک کی ترغیب و تحریک پر بادشاہ نے مدارس کے قیام اور اساتذہ و طلبہ کے وظائف کی منظوری دے دی ؛ چنانچہ نظام الملک نے بغداد ، بلخ ، نیشاپور اور متعدد اہم شہروں میں مدارس کی تعمیر کا آغاز کیا ، خود بغداد کے جامعہ نظامیہ کی تعمیر ذی الحجہ ۴۵۷ھ میں شروع ہوئی اور۱۰ ؍ ذی القعدہ ۴۵۹ھ میں اس کا باضابطہ افتتاح ہوا ، مشہور شافعی فقیہ ابواسحاق شیرازیؒ (متوفی : ۴۷۶ھ ) —جن کی کتاب ’’ المہذب ‘‘ جو فقہ شافعی کی مستند ترین کتاب سمجھی جاتی ہے اور فقہ و اُصولِ فقہ اور کلام وجال کے فنون میں متعدد معروف و منقول کتابیں جن کے قلم فیض رقم کی رہین منت ہیں — اس جامعہ کے استاذ رہے ۔
خود ہمارے ملک ہندوستان میں مسلم عہد ِ حکومت میں دینی مدارس بڑی تعداد میں قائم تھے ، قشقلندی نے اپنی مشہور کتاب ’’ صبح الاعشی ‘‘ میں لکھا ہے کہ صرف دلی میں ایک ہزار مدرسے تھے ، جن میں ایک فقہ شافعی کا تھا اور باقی فقہ حنفی کے ، (صبح الاعشی:۵؍۶۹ ) مشہور محقق مولانا مناظر احسن گیلانیؒ نے مغربی سیاح ہملٹن سے نقل کیا ہے کہ اورنگ زیب عالمگیر ؒ کے عہد میں صرف شہر ٹھٹھ میں مختلف علوم و فنون کے چارسو مدارس قائم تھے ، (نظام تعلیم وتربیت: ۱؍۴۱۷) بیجاپور میں محمود گاواں نے جس درس گاہ کی تعمیر کی تھی اس کے ٹوٹے کھنڈرات سے آج بھی اس کی عظمت نمایاں ہے ، بیجاپور کے سلاطین میں محمد عادل شاہ ایسا علم پرور بادشاہ تھا کہ اس نے مدرسہ کے طعام خانہ میں روزانہ طلبہ کے لئے بریانی کا نظم رکھا تھا اور ہر طالب علم کو اس کے علاوہ ایک ’’ہون ‘‘ ( اس زمانہ کا سکہ ) بطور وظیفہ دیا جاتا تھا ۔ (نظام تعلیم وتربیت:۱؍۴۱۹)
جب ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت کا سورج غروب ہوا ، تو دین اور اُمت کے لئے گھلنے والے بزرگوں کو فکر ہوئی کہ کسی طرح اس ملک میں مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت کا سروسامان کیا جائے ، اس مقصد کے لئے خوب سوچ سمجھ کر دینی مدارس کے قیام کی کوشش کی گئی اور شہر شہر ، گاؤں گاؤں ان مدارس و مکاتب کا جال بچھایا گیا ، اس سعی محمود اورجہد مسعود میں حضرت حاجی امداداﷲ صاحب مہاجر مکیؒ کے خلفاء اور مجازین پیش پیش رہے ، حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ جو بلند پایہ عالم بھی تھے اور ہندومت ، عیسائیت اور مذاہب باطلہ کے مقابلہ دندان شکنمناظر بھی اور عظیم سماجی مصلح بھی ، انھو ںنے ۱۸۶۶ء میں مشہور دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی ، جو ازہر ہند کے نام سے جانا جاتا ہے اورجس کے فیض کی شعاعیں دنیا کے کونے کونے کو روشن کر رہی ہیں — اسی دور میں ہندوستان کے جنوبی علاقہ میں فضیلت جنگ حضرت مولانا حافظ محمد انواراﷲؒ نے حیدرآباد میں جامعہ نظامیہ اور حضرت مولانا عبدالوہاب ویلوریؒ نے ویلور میں مدرسہ باقیات صالحات کی بنیاد رکھی اور ان دونوں مدارس نے جنوبی ہند کو خوب خوب فیض یاب کیا ، اسی طرح ہندوستان کے شمالی مشرقی علاقہ ’’ بہار ‘‘ میں حضرت مولانا حاجی منور حسینؒ نے ’’ مدرسہ امدادیہ ‘‘ دربھنگہ قائم فرمایا ، علامہ سید سلیمان ندویؒ اور علامہ ابراہیم بلیاویؒ جیسے محقق علماء اس مدرسہ کے طالب علم رہ چکے ہیں ، یہ عجیب اتفاق ہے کہ یہ سبھی بزرگ حضرت حاجی امداداﷲ مہاجر مکی کے خلفاء اور تربیت یافتہ ہیں ۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ جاں گسل حالات کے باوجود آج اس ملک میں اس شان وبان کے ساتھ اسلام کا باقی رہنا دینی مدارس ہی کی دین ہے ، اﷲ کا شکر ہے کہ مسلمانوںنے اس حقیقت کو سمجھ لیا ہے اور آج ملک کے گوشہ گوشہ میں مخلص اور دین دار مسلمانوں کے تعاون سے ایسی درس گاہیں چل رہی ہیں ، یہ ہمارے لئے لال قلعہ سے زیادہ مضبوط ، چار مینار سے زیادہ بلند اور تاج محل سے زیادہ خوب صورت میراث ہے !(بصیرت فیچرس)

You might also like