Baseerat Online News Portal

گفتگو کا یہ تماشا نہیں دیکھا جاتا

شہناز عِفّت ممبئی 

 

گفتگو کا یہ تماشا نہیں دیکھا جاتا
ان کی باتوں کا سلیقہ نہیں دیکھا جاتا

اس لئے شعروں کی اصلاح کیاکرتی ہوں
مجھ سے فن میں کوئی شوشہ نہیں دیکھا جاتا

آپ مسکان ذرا لب پہ سجائیں اپنے
آپ کا اترا یہ چہرا نہیں دیکھا جاتا

اے خدا بھیج دے اب بارش رحمت کوئی
دھوپ سے جلتا یہ صحرا نہیں دیکھا جاتا

آپ اپنی یہ محبت کی نشانی لےلو
ہم سے یہ پیار کا تحفہ نہیں دیکھا جاتا

روشنی چھین لے تو مجھ سے خدایا میری
"مجھ سے اب خون تمنا نہیں دیکھا جاتا”

ہائے وہ جلنے لگے میری غزل گوئی سے
ان سے عفت کا یہ جلوہ نہیں دیکھا جاتا

شہناز عِفّت
ممبئی

You might also like